انارکلی اور شہزادہ سلیم

انارکلی اور شہزادہ سلیم

محبت کی داستانوں میں ایک مشہور کہانی انارکلی اور شہزادہ سلیم کی بھی ہے جو بعد میں ایک ختم نہ ہونے والی بحث میں تبدیل ہو گئی ہے۔انارکلی، مغل بادشاہ اکبر کی ایک کنیز تھی جس کے ساتھ اکبر کے بیٹے شہزادہ سلیم (شہزادہ سلیم بعد میں بادشاہ جہانگیر کے نام سے مشہور ہوا) کے محبت کے قصے مشہور ہیں۔ اسے ایک روایت کے مطابق بادشاہ اکبر کے حکم پر لاہور کے قریب دیوار میں زندہ چنوا دیا گیا تھا۔ لاہور کا مشہور انارکلی بازار اسی کے نام پر ہے۔ دراصل یہ تمام قصے یورپی مؤرخ اور سیاحوں کے گھڑے ہوئے ہیں حقیقت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ڈاکٹر انیس ناگی نے اس موضوع پر ایک کتابچہ تالیف کیا ہے جس کا نام'' انار کلی حقیقت یا رومان'' ہے۔ اس میں ان مختلف مضامین کو اکٹھا کیا گیا ہے جن میں انار کلی کے واقعے کے سچ ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں لکھا گیا۔ اکثر مسلمان مورخوں نے اس واقعے کو جھٹلایا ہیں۔
انارکلی اور شہزادہ سلیم کے عشق کی داستان ایک ختم نہ ہونے والی بحث میں تبدیل ہو گئی ہے۔کہا جاتا ہے کہ انار کلی کا واقعہ 1599ء میں وقوع پذیر ہوا۔ یورپی سیاح ولیم فنچ جو 1618ء میں لاہور پہنچا، اس نے اپنی یاد داشتوں میں اس المیے کا ذکر بڑے دردناک انداز میں کیا ہے۔ اس نے پوری کوشش کی کہ کسی نہ کسی طرح اس من گھڑت واقعے کے ذریعے مغل شہنشاہ اکبر کو بد نام کیا جائے۔ اس نے اکبر کی توہین، تذلیل، تضحیک اور بے توقیری میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ اس کے بعد 1618ء میں ایک اور یورپی سیاح ایڈورڈ ٹیری لاہور آیا، اس نے بھی اپنے پیش رو سیاح کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اس فرضی داستان کو خوب نمک مرچ لگا کر پیش کیا۔ دراصل یہ ایک سازش تھی جسے مسلسل آگے بڑھایا جا رہا تھا۔ 
سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا دو سو سال تک بر صغیر کے لوگ اس قصے سے لا علم رہے؟ کسی غیر جانب دار مورخ کے ہاں اس کا ذکر نہیں ملتا۔ نور الدین جہانگیر نے تزک جہانگیری میں کہیں اس کا ذکر نہیں کیا۔ اس عہد کے ممتاز مورخ والہ داغستانی اور خافی خان جو اکبر اور جہانگیر کی معمولی نوعیت کی لغزشوں پر بھی نظر رکھتے تھے، انھوں نے بھی کسی مقام پر اس قصے کو ذکر نہیں کیا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام قصہ محض تخیل کی شادابی ہے۔
 1864ء میں مولوی نور احمد چشتی نے اپنی تصنیف ”تحقیقات چشتی“میں انار کلی اور اکبر کے اس رومان کا ذکر کیا ہے۔ 1882ء میں کنہیا لال ہندی نے اپنی تصنیف ”تاریخ لاہور“میں انار کلی، اکبر اور سلیم کے اس المیہ قصے کا احوال بیان کیا ہے۔ یہ سلسلہ مقامی ادیبوں کے ہاں ایک طویل عرصے کے بعد اس قصے کی باز گشت سنائی دینے لگی۔ سید محمد لطیف نے بہت بعد میں انار کلی اور اکبر کے اس المیے کا ذکر اپنی تصنیف (History of Lahore) میں کیا ہے۔ یہ انگریزی کتاب 1892ء میں شائع ہوئی۔

وہ دیوار جس کے بارے میں یہ شو شہ چھوڑا گیا کہ اس میں انار کلی کو زندہ دفن کیا گیا۔ اس کے آثار لاہور شہر میں کہیں موجود نہیں۔ انار کلی کے تنازع پر جنرل مان سنگھ اور شہزادہ سلیم کی مسلح افواج کے درمیان جو خونریز جنگ ہوئی اس کے میدان جنگ، مرنے والوں اور زخمیوں کی تعداد کا کوئی علم نہیں۔ جنرل مان سنگھ تو مغل افواج کی کمان کر رہا تھا شہزادہ سلیم نے ایک بڑی فوج کہاں سے حاصل کی اور اس کی تنخواہ اور قیام و طعام کا بندوبست کیسے ہوا؟ جنرل مان سنگھ کی کامیابی کے بعد شہزادہ سلیم کی حامی اور اکبر کی مخالف فوج پر کیا گذری؟کیا اکبر کی سراغ رسانی اس قدر کم زور تھی کہ اسے دلآرام کے علاوہ کسی سراغ رساں نے اس بات کی مخبری نہ کی کہ ولی عہد شہزادہ ایک کنیز کے چنگل میں پھنس کر بغاوت پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ کیا اکبر اعظم کا نظام سلطنت اس قدر کم زور تھا کہ اسے اپنے خلاف سازش اور بغاوت کی کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ یہ سب سوال ایسے ہیں جو اس قصے کو نہ صرف من گھڑت ثابت کرتے ہیں بلکہ اسے یورپی سیاحوں کی بد نیتی اور ذہنی افلاس پر مبنی ایک صریح جھوٹ قرار دیتے ہیں۔
لاہور سول سیکرٹیریٹ میں جو انارکلی کے نام سے موسوم ہے وہ انار کلی کا مقبرہ نہیں بلکہ زین خان کوکہ کی صاحب زادی“صاحب جمال“کی آخری آرام گاہ ہے۔ یہ شہزادہ سلیم کی منکوحہ تھی۔ اس کا مقبرہ شہزادہ سلیم نے اپنے عہد میں تعمیر کروایا۔
تاریخ حقائق سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ انار کلی، اکبر اور سلیم کا یہ رومانی المیہ جسے ابتدا میں یورپی سیاحوں نے محض اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے اختراع کیا، آنے والے دور میں اس پر لوگوں نے اندھا اعتماد کرنا شروع کر دیا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حقیقت کو خرافات کے سرابوں کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ آثار قدیمہ، تاریخی حقائق اور دستاویزی ثبوت اس تمام المیہ ڈرامے کو جھوٹ کا پلند قرار دیتے ہیں 
مغل شہنشاہ اکبراعظم کی کنیز اوراکبر کے فرزند شہزادہ سلیم کی یہ داستان عشق برصغیر کے فلم سازوں،ڈراما نگاروں اور ادیبوں کا پسندیدہ موضوع رہاہے۔
 

Add new comment

2 + 5 =