یہ دھند نہیں ہے

کیا یہ دھند ہے، مگر دھندمیں تو سردی لگتی ہے کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ یہ کیسی دھند ہے اس سے تو آنکھوں میں مرچیں لگ رہی ہیں اور گلے خراب ہو رہے ہیں۔اس دھند میں سردی بھی نہیں لگ رہی نظر بھی کچھ نہیں آرہا، اگر یہ دھند نہیں تو پھر کیا ہے؟ 
 یہ سادہ لوح لوگ فوگ اور سموگ کے فرق کو سمجھ ہی نہیں رہی ہے 
سموگ ٹھہری ہوئی ہوا کی ایک گھنی تہہ ہے جو زمین کی سطح کے قریب اس وقت بنتی ہے جب فضائی آلودگی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ زیادہ ٹریفک والے شہروں میں یا زیادہ اخراج والی صنعت کے قریب والے علاقوں میں عام ہے۔ یہ نقصان دہ مادہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سورج کی روشنی گیسوں، جیسے صنعتی اخراج یا کار کے دھوئیں کے اخراج کے ساتھ نچلی فضا میں رد عمل ظاہر کرتی ہے۔
سموگ بنیادی طور پر اوزون پر مشتمل ہوتی ہے لیکن اس میں دیگر نقصان دہ مادے بھی ہوتے ہیں، جیسے سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ اور چھوٹے مالیکیول جو ہمارے پھیپھڑوں میں گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں۔ اوزون، جو کہ فضا میں زیادہ ہونے پر ہماری جلد کو نقصان دہ یو وی شعاعوں سے بچاتا ہے، زمین کے قریب ہونے پر نقصان دہ اور پریشان کن صحت کے اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔
کارخانوں اور گاڑیوں کا دھواں فضا میں جمع ہوتا رہتا ہے اس دھوئیں میں زہریلی گیسیں، گرد و غبار اور دیگر کثافتیں موجود ہوتی ہیں جب موسم ذرا سرد ہوتا ہے تو یہ کثافتیں دھند کی شکل اختیار کر لیتی ہیں جنہیں تکنیکی زبان میں سموگ کہا جاتا ہے۔ سموگ آلودہ گیسوں اور مٹی کے ذرات کا مجموعہ ہوتا ہے جو آنکھوں اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق سموگ کی وجہ تیزی سے بڑھتا ہوا تعمیراتی کام، کارخانوں اور گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں اور زہریلی گیسیں ہیں۔اس کے علاوہ تیزی سے کم ہوتے ہوئے درخت اور سبزہ بھی سموگ کی ایک وجہ ہیں۔ قدرتی ماحول زندگی کی بقا کا ضامن ہوتا ہے اور جب اس قدرتی ماحول کو ایک خاص حد سے زیادہ چھیڑا جائے تو اس کا ردعمل ہمیشہ تباہ کن ہوتا ہے۔انسان اپنے گھروں اور شہروں کو تو خوبصورت بنا رہا ہے مگر اس بات کو یکسر نظر انداز کر رہا ہے کہ اس خوبصورتی کے پیچھے قدرتی ماحول کا چہرہ کتنا بھیانک ہوتا جا رہا ہے۔
سموگ یعنی دھوئیں اور فوگ یعنی دھند کا مرکب ہے بدقسمتی سے بیشتر عوام عناصر سے ہی واقف نہیں تو مرکب کو کیا سمجھے گی۔ سموک سے ہماری جانکاری فقط سموکنگ تک ہے اور یہ بھی پتہ ہے کہ فوگ میں ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں اور بندے مرتے ہیں اس کے آگے ناں ہمیں پتہ ہے اور ناں ہم جاننا چاہتے ہیں۔ آلودگی ہمارا مسئلہ نہیں یہ ساری دنیا میں ہوتی ہے تو ہم کیوں پریشان ہوں۔ کیا ہمترقی یافتہ ممالک کی طرح بڑی بڑی عمارتیں نہ بنائیں یا زیر زمین ٹرین نہ چلائیں۔ 
ہمیں تو بس یہ سوچنا ہے کہ اب ہم سائیکل پر کاروبار اور دفتروں میں جائیں؟ رب نے پیسہ دیا ہے تو خرچ کیوں نہ کریں کارخانے کیوں نہ لگائیں ویسے بھی آلودگی پر قابو پانا حکومت کا کام ہے ہمارا نہیں۔ ہم آزاد ملک کے آزاد شہری ہیں اس لیے ہمیں زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ ایک دن انسان نے مرنا ہی ہے اورکوئی بھی بیماری  بہانہ بنے گی اورہم مر جائیں گے۔ ویسے بھی ہمیں بچپن سے ہی یہی بتا گیا ہے کہ کارخانوں کی چمنیوں سے دھواں نکلے گا تو ہمارے گھروں کے چولہے جلیں گے اور پکی سڑک بنانے سے ہی علاقے میں ترقی آتی ہے۔ ہم کارخانے لگائیں گے اور سڑکیں بنائیں گے اور پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنائیں گے۔ کاش کوئی اس سوچ کے حامل افراد کو یہ بتا دے کہ کارخانوں کا دھواں اب گھروں کے چولہے جلانے کے ساتھ ساتھ ان کے اور ان کے بچوں کے پھیپھڑے بھی جلا رہا ہے۔پاکستان کو ترقی کے ساتھ ساتھ انسانوں کی بھی ضرورت ہے جو اس ترقی کے ثمرات دیکھ سکیں۔

Add new comment

2 + 11 =