سکولوں میں ماحولیات کی تعلیم کی اہمیت

 

ماحولیات اور اس کے تحفظ سے آگاہی بچوں کی پرورش کا لازمی جزو ہونا چاہیے۔ ماحولیاتی تعلیم، وسائل کو موثر طریقے سے منظم کرنے میں مدد کرتی ہے اور بچوں میں تخلیقی سوچ کو ابھارتی ہے۔
متعدد مضامین کے برعکس، ایکو ایجوکیشن کے لیے بچوں کو فیلڈ ورک کی مختلف سرگرمیوں میں مشغول ہونے کی ضرورت ہوتی ہے،اس طرح ان ڈور ورزش کی یکجہتی کوکم کیا جاتا ہے۔ طالب علم ماحولیاتی آگاہی کی سرگرمیوں کے دوران نہ صرف سماجی مہارتیں سیکھتے ہیں بلکہ کلاس میں نظریاتی طور پر سیکھے گئے تصورات اوراپنی سماجی مہارتوں کو پروان چڑھاتے ہیں اور بچوں کی ماحولیاتی تعلیم میں فطرت کی جانب سے ایک مثبت رویہ پیدا ہوتا ہے. بچہ ارد گردکی دنیا کے لئے محبت سے آگاہ ہوتا ہے اوروہ ہر چیز کی زندگی کا احترام کرنا سیکھتا ہے۔

سکولز میں بچوں کو جانوروں اور پودوں کی ترقی، زندگی کے عمل میں موسمی خصوصیات کی اہمیت،او دنیا کی ترقی کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے مسائل کو سمجھنے میں مدد فراہم کرنی چاہیے۔اْن سے صرف یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ درخت  لگانا ماحولیات کی بہتری کے لیے ضروری ہیں۔ ہمیں بچوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ یہ کیوں ضرری ہیں۔

سکولوں میں ایک بڑا مسئلہ کچرے کا ناقص انتظام ہے جس کے نتیجے میں اکثر صفائی کے نظام میں رکاوٹ اور ماحولیاتی آلودگی پیداہوتی ہے۔ طالب علموں کو ماحول دوستی کی تعلیم دینے سے ہی وہ اپنے اردگرد کے ماحول سے آگاہی کا مظاہرہ کرتے ہیں اورصاف ستھرا ماحول برقرار رکھتے ہیں۔
کاربن کے بڑھتے ہوئے اثرات اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو روکنے کے لیے، بڑھتی ہوئی نسل کو شامل کرنا بہت ضروری ہے۔ طلباء کو شامل کرنے سے، وہ ماحول کے بارے میں آگاہی حاصل کرتے ہیں، اور ان ماحول دشمن گیسوں کے اخراج کو روکنے کے حل تلاش کرتے ہیں۔

 

Add new comment

7 + 5 =