زمینی اور آبی حیاتیات کی بقاء کو خطرہ

ہمارے ہاں نئے سال کا آغاز ہوتے ہی جہاں لوگ موسموں کی شدت سے پریشان ہوتے ہیں وہیں پر جانوروں پر بھی قیامت ٹوٹ پڑتی ہے۔ماضی میں جھانکیں تو ہم انسانوں نے ماحول کا خیال نہ کرتے ہوئے جو غلطیاں کی ہیں ان کے نتائج آسٹریلیا میں جھاڑیوں میں لگنے والی آگ ہے کہ جس سے ہزاروں ایکڑ رقبے پر کھڑے جنگلات جل گئے اور ان جنگلات میں بسنے والے مختلف رنگ و نسل کے پانچ ارب سے زیادہ جانور جل کر ہلاک ہو گئے ہیں۔اس ہولناک آگ کے مُضر اثرات تین ہزار کلومیٹر دور نیوزی لینڈ تک دیکھے جا رہے ہیں جہاں کے برفانی پہاٹوں کی سفیدی پیلاہٹ میں بدل رہی ہے۔
ایمازون کے جنگلات میں بھی ایسی ہی قیامت دیکھنے میں آئی ہے جہاں دو مہینے تک آگ لگی رہی ہے۔ جرمنی میں بھی کچھ لوگوں کی غفلت سے چڑیا گھر جل گیا ہے۔انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں آنے والے سمندری طوفان نے تیس ہزار سے زیادہ لوگوں کو بے گھر کیا، جب کہ اکیس افراد اس طوفان میں جان کی بازی ہار چکے ہیں اور آبی جانوروں کی ہلاکت کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہے۔  
 تیل بردار جہازوں سے بہنے والا تیل سمندری ساحلوں پر موجود آبی جانوروں کی جان لے رہا ہے۔ نایاب کچھوے، جھینگے، کیکڑے اور ہزاروں مچھلیاں تیل کی اس آلودگی کی وجہ سے مر رہے ہیں۔
استعمال شدہ پلاسٹک کی اشیاء اور کچرے کو ری سائیکل نہیں کیا جارہا جو زمین اور شہری آبادیوں کے لیے بھی انتہائی خطرناک ثابت ہو رہا ہے، کیونکہ ان کے ضائع نہ ہو سکنے والے اجزاء جانوروں کے ہاضمہ کے نظام کو تباہ کر کے ہزاروں آبی اور زمینی جانوروں یعنی کتوں، بلیوں اور پرندوں کی موت کا سبب بنتے ہیں۔
شکار کی آزادی کی وجہ سے طوطوں کی نسل ہی ختم ہو کر رہ گئی ہے، جب کہ رہی سہی کسر مقامی شکاریوں نے ہرنوں اور پردیسی کونجوں کا بے دریغ قتل کر کے پوری کر دی ہے۔عرب شہزادوں نے ہمارے صحراؤں کو تلور، بٹیر، تیتر، باز اور دوسرے نا یاب پرندوں سے خالی کر دیا ہے۔
ہمیں ہر ایک شعبہ زندگی میں صفائی کے معیار کو بہتر بنانا ہو گا۔شہری آبادی، ہسپتالوں اور کارخانوں کے فُضلہ جات کو ری سائیکل یا فوری طور پر تلف کرنا ہو گا۔
ہمیں چاہیے کہ ہم کیمیکلز کو غذائی اشیاء، مصنوعات اور زراعت سے حاصل ہونے والی اجناس پھلوں اور سبزیوں میں شامل نہ ہونے دیں۔ سیوریج کے پانی اور گندگی کو صاف پانی میں شامل نہ ہونے دیں تا کہ کیمیکلز غذائی اجزاء میں شامل نہ ہو پائیں۔ ہم اپنے ارد گرد کے ماحول کو ہر ممکن طور پر صاف ستھرا رکھیں اور کچرے کی افزائش نہ ہونے دیں۔
ان علاقوں میں وسائل کی بہتر اور تیز تر فراہمی سے یہاں کے لوگ تیز تر ترقی کر پائیں گے۔ جس سے پاکستان کے فطری اور قدرتی ذرائع کو باہم جڑنے اور بہتر ہونے کا موقع ملے گا، کیوں کہ انسانوں، جانوروں، پرندوں اور پودوں سبھی جان داروں کا اس ملک کے climate change میں برابر کا حصہ ہے
اگر ان سب کی انفرادی زندگی کو بہتر بنانے کا عمل اجتماعی طور پر منافع بخش، متوازن اور فعال بنا دیا جائے تو ملکی ماحولیات کی بہتری اور پائیدار ترقی کا عمل بہتر سے بہتر ہو جائے گا۔

Add new comment

10 + 3 =