پلاسٹک ہماری پلیٹ تک کیسے پہنچ رہا ہے؟

 پلاسٹک ہماری پلیٹ تک کیسے پہنچ رہا ہے؟
پلاسٹک ہماری پلیٹ تک کیسے پہنچ رہا ہے؟

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں پلاسٹک ہماری زندگی کے ہر گوشے میں موجود ہے۔ پانی کی بوتلوں سے لے کر کھانے کی پیکنگ، خریداری کے شاپر بیگز سے لے کر گھریلو برتنوں تک،پلاسٹک نے  ایک طرف توہماری سہولت بڑھائی ہے، مگر اس کے پوشیدہ اثرات اب ہماری صحت کے لیے سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پلاسٹک صرف ہمارے اردگرد نہیں بلکہ ہماری پلیٹ تک بھی پہنچ چکا ہے۔
مائیکرو پلاسٹک کیا ہے؟
مائیکرو پلاسٹک، پلاسٹک کے نہایت باریک ذرات ہوتے ہیں جو بڑی پلاسٹک اشیاء کے ٹوٹنے، سورج کی روشنی اور درجہ حرارت کے اثر سے بکھرنے کے بعد وجود میں آتے ہیں۔ یہ ذرات اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتے، مگر خوراک، پانی اور ہوا کے ذریعے ہمارے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔
خوراک میں پلاسٹک کیسے شامل ہوتا ہے؟
۱۔سمندری غذا کے ذریعے:
 سمندروں میں پلاسٹک کا کچرا مچھلیوں اور دیگر آبی حیات کے جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔ جب ہم یہ غذا کھاتے ہیں تو مائیکرو پلاسٹک بھی ہمارے جسم میں منتقل ہو سکتا ہے۔
۲۔بوتل بند پانی اور مشروبات:
   تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ پلاسٹک کی بوتلوں میں محفوظ پانی میں بھی باریک پلاسٹک ذرات پائے جا سکتے ہیں۔
۳۔نمک اور دیگر غذائیں:
   سمندری نمک اور بعض پیک شدہ اشیائے خوردونوش میں بھی مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی رپورٹ کی گئی ہے۔
۴۔گرم کھانا پلاسٹک میں محفوظ کرنا:
   اکثر ہم گرم کھانا ڈسپوزیبل پلاسٹک ڈبوں میں بند کرتے ہیں یا انہیں مائیکرو ویو میں گرم کر لیتے ہیں۔ زیادہ درجہ حرارت پلاسٹک سے کیمیائی اجزاء اور باریک ذرات کو خوراک میں منتقل کر سکتا ہے، خاص طور پر جب برتن اس مقصد کے لیے محفوظ نہ ہوں۔
۵۔ہوا کے ذریعے:
   مصنوعی ریشوں والے کپڑوں اور صنعتی سرگرمیوں سے نکلنے والے باریک ذرات فضا میں شامل ہو کر سانس کے ذریعے ہمارے جسم تک پہنچ
 سکتے ہیں۔
اگرچہ مائیکرو پلاسٹک کے طویل مدتی اثرات پر تحقیق ابھی جاری ہے، مگر ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ ذرات جسم میں سوزش، ہارمونل بے ترتیبی اور دیگر مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔ چونکہ یہ مسئلہ نسبتاً نیا ہے، اس لیے اس کے مکمل اثرات کو سمجھنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق درکار ہے۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
٭ گرم کھانا شیشے یا اسٹیل کے برتنوں میں محفوظ کریں۔
٭مائیکرو ویو میں صرف”microwave-safe“برتن استعمال کریں۔
٭ ڈسپوزیبل پلاسٹک کے استعمال میں کمی لائیں۔
٭کپڑے اور بیگز کے لیے قدرتی مواد کو ترجیح دیں۔
٭ ری سائیکلنگ کے عمل کو فروغ دیں اور غیر ضروری پلاسٹک سے پرہیز کریں۔
پلاسٹک نے ہماری زندگی آسان ضرور بنائی ہے، لیکن اس کی غیر مرئی آلودگی اب ہماری صحت کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ اگر ہم نے ابھی سے ذمہ دارانہ رویہ اختیار نہ کیا تو آنے والی نسلیں اس کے سنگین نتائج بھگت سکتی ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی سہولت اور صحت کے درمیان توازن قائم کریں اور ایک صاف، محفوظ ماحول کی طرف قدم بڑھائیں۔
 

Daily Program

Livesteam thumbnail