بلیو سی ڈریگن، انتہائی خوبصورت اور انتہائی خطرناک

بلیو سی ڈریگن، انتہائی خوبصورت اور انتہائی خطرناک

بحر ہند اور بحر اوقیانوس میں ایک انتہائی خوبصورت لیکن عجیب مچھلی دریافت ہوئی ہے جسے ”بلوسی ڈریگن“، بلیو سی اینجل (نیلا سمندری فرشتہ) جیسے نام دیے گئے ہیں۔بلیو سی ڈریگن کے بارے میں انتہائی دلچسپ حقائق سامنے آئے ہیں، یہ جتنی دیکھنے میں خوبصورت ہے اتنی ہی خطرناک بھی ہے۔
 ”بلیوسی ڈریگن“ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ سمندری مخلوق اتنی ہی نایاب ہے جتنی خوبصورت ہے اور صرف جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے ساحلوں پر پائی جاتی ہے۔ سمندری ساحلوں پر نظر آنے والی بلیوسی ڈریگن یا بلیو سلگ کی مسحور کن شکل ایک خطرناک فطرت بھی رکھتی ہے۔
اس انتہائی چھوٹی مخلوق کے بارے تحقیق سے پتا چلا کہ یہ گوشت خور ہے اور سمندر میں پائے جانے والے دوسرے زہریلے کیڑے مکوڑوں کو کھاتی ہے۔بلیو سی ڈریگن کو سمندری شکاری بھی کہا جاتا ہے اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سمندر ہی سے دیگر زہریلے کیڑے مکوڑوں کے زہر کو اپنے تیرنے میں مدد دینے والی انگلیوں میں محفوظ کر لیتی ہے۔
بلیو سی ڈریگن اس زہر کو اْس وقت استعمال کرتی ہے جب کوئی دوسری خطرناک مخلوق سے اس کا آمنا سامنا ہو جائے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا ڈنک انتہائی خطرناک ہے۔اگر یہ انسان کو کاٹ دے تو اسے فوری متلی، الٹی، جلد کی شدید سوزش، بخار اور ہائپر پگمنٹیشن جیسی علامات فوری ظاہر ہو جاتی ہیں۔
بلیو ڈریگن کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ سمندر کی انتہائی گہرائی میں رہنا پسند کرتی ہے تاہم اگر یہ سمندر کی سطح پر تیرتی ہوئی آ بھی جائے تو اس کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ سمندر کی سطح پر تیرنے کی اس کی صلاحیت بعض اوقات اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہے، کیونکہ تیز ہوائیں اور سمندری لہریں انہیں زبردستی سمندری ساحل پر بھی پھینک سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے آسٹریلیا کے سمندر سمیت دیگر ساحلوں اور میدانوں میں بلیو سی ڈریگن کو مردہ حالت میں بھی پایا گیا ہے۔

بلیو سی ڈریگن انتہائی خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ اتنی خطرناک بھی ہے کہ آسٹریلیا کی حکومت نے تو اب باقاعدہ عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ ساحل سمندر پر اس سمندری مخلوق کو ہاتھ نہ لگائیں۔انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) نے اس طرح کی خطرناک سمندری مخلوق کی 2 یا 4 نسلیں دریافت کی ہیں۔ 
 
یہ سمندری شکاری ہیں، جو اپنے ہی نسل کے نیلے رنگ کے شیل کھاتی ہیں۔ ڈریگن اپنے شکار کے زہر کو اپنی انگلیوں میں محفوظ کرتی ہیں اور جو بھی شے ان کے ساتھ ٹکراتی ہے تو وہ اسے خطرناک ڈنک مارتی ہیں۔

Add new comment

2 + 3 =