مقدس جوزف واز (سری لنکا کے رسول)
مقدس جوزف واز کاتھولک کلیسیا کے عظیم مبلغین میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ اپنی گہری ایمان داری، غیر معمولی قربانی، عاجزی اور مظلوم مسیحیوں کے لیے بے لوث خدمت کے باعث تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ انہیں ”سری لنکا کا رسول“کہا جاتا ہے۔
مقدس جوزف واز 21 اپریل 1651ء کو بیناولِم، گوا (موجودہ بھارت)میں کاتھولک خاندان میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے اْن میں عبادت، علم اور خدمتِ خلق کا شوق نمایاں تھا۔ اْن کے والدین نے اْن کی مذہبی تربیت پر خصوصی توجہ دی، جس کا اثر اْن کی پوری زندگی میں دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم گوا میں حاصل کی اور بعد ازاں فلسفہ اورعلمِ الہٰیات کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ 1676ء میں انھوں نے کہانت کا پاک ساکرامنٹ حاصل کیا۔ کاہن بنتے ہی ان کی شہرت ایک نیک، سادہ اور غریبوں سے محبت کرنے والے خادم کے طور پر ہونے لگی۔
گوا میں اپنی خدمت کے دوران فادر جوزف واز نے بیماروں، غریبوں اور معاشرے کے نظر انداز کیے گئے افراد کی خاص طور پر دیکھ بھال کی۔ انہوں نے بے سہارا اور استحصال کا شکار خواتین کے لیے پناہ گاہ قائم کی، جو اْن کے انسانی وقار پر یقین کی واضح مثال ہے۔
انہوں نے دنیاوی عزت اور آرام کو ترک کر کے سینٹ فلپ نیری کے اوریٹری میں شمولیت اختیار کی اور ایشیا میں پہلی اوریٹری جماعت کی بنیاد رکھی۔ اس جماعت کی روحانیت میں دْعا، بھائی چارہ اور تبلیغی جذبہ مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔سترھویں صدی کے آخر میں سری لنکا (سیلون) میں ڈچ حکومت کے دور میں کاتھولک مسیحیوں پر سخت ظلم و ستم ہو رہا تھا۔ گرجا گھر تباہ ہو چکے تھے، کاہنوں کو ملک بدر کر دیا گیا اور مسیحی لوگ برسوں سے مقدس رسومات سے محروم تھے۔
جب فادر جوزف کو اِن حالات کا علم ہوا تو انہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر سری لنکا جانے کا فیصلہ کیا۔ 1687ء میں وہ ایک غریب مزدور اور فقیر کا روپ دھار کر خفیہ طور پر سری لنکا پہنچے۔ وہاں ان کی زندگی ہر وقت گرفتاری اور موت کے خطرے سے دوچار رہی۔
وہ پیدل سفر کر کے گاؤں گاؤں گئے، اکثر رات کے اندھیرے میں خفیہ طور پر پاک ماس کی قربانی ادا کرتے، اعترافِ گناہ سنتے اور مومنین کو روحانی تقویت دیتے۔ انہوں نے مقامی زبانیں سیکھیں، ثقافت کا احترام کیا اور لوگوں کے ساتھ انہی کی طرح سادہ زندگی گزاری۔
ایک شدید قحط کے دوران اْن کی دْعا سے بارش ہوئی، جس کے بعد نہ صرف مسیحیوں بلکہ غیر مسیحیوں اور مقامی حکمرانوں نے بھی اْن کی روحانیت کو تسلیم کیا۔ اس واقعہ کے بعد اْن پر عائد کئی پابندیاں ختم ہو گئیں اور انہیں کھلے عام خدمت کا موقع ملا۔
آخر کار آپ کی انتھک محنت کے نتیجے میں سری لنکا میں کاتھولک کلیسیا دوبارہ منظم ہوئی۔ انہوں نے مشن مراکز قائم کیے، مقامی رہنماؤں کی تربیت کی اور مومنین کو متحد کیا۔ اْن کی وفات تک سری لنکا میں کلیسیا مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو چکی تھی۔
مقدس جوزف واز 16 جنوری 1711ء کو کینڈی، سری لنکا میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اْن کی وفات پر مسیحیوں کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے لوگوں نے بھی گہرے دْکھ کا اظہار کیا، کیونکہ وہ سب انہیں امن اور محبت کا پیامبر مانتے تھے۔
انہیں 1995ء میں مقدس پوپ جان پال دوم نے مبارک قرار دیا جبکہ 14 جنوری 2015ء کو پوپ فرانسس نے انہیں مقدس قرار دیا۔ وہ سری لنکا کے پہلے مقدس ہیں۔
مقدس جوزف واز کی زندگی ایمان، قربانی اور بے خوف خدمت کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے ہمیں یہ سکھایا کہ سچا مسیحی ایمان صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عملی محبت، بھائی چارے اور خدا پر کامل بھروسے میں ظاہر ہوتا ہے۔ آج بھی مقدس جوزف وازدنیا بھر کے مسیحیوں کے لیے حوصلہ، وفاداری اور خدمت کے روشن مینار ہیں۔یادرہے مقدس جوزف واز کی عید ہر سال 16جنوری کو منائی جاتی ہے۔
اے مقدس جوزف واز
ہمارے واسطے دْعا کر!