حضرت نوح

ایمان کی روشن مثال
ایمان کی روشن مثال

حضرت نوح تاریخِ انسانیت کی اُن عظیم ترین شخصیات میں سے ہیں جن کی زندگی آج بھی ایمان، صبر اور خدا پر کامل بھروسے کی ایک روشن مثال ہے۔ اْن کی داستان صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا روحانی پیغام ہے جو ہر دور کے انسانوں کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔  
حضرت نوح کو ایک ایسے معاشرے میں مبعوث کیا گیا تھا جو اخلاقی اور روحانی طور پر گہری گمراہی میں ڈوبا ہوا تھا۔ انہوں نے برسوں تک اپنی قوم کو خدا کی طرف بلایا، انہیں سچائی، توبہ اور راست بازی کی دعوت دی، لیکن بہت کم لوگوں نے اْن کی بات سْنی۔ مسلسل مخالفت، انکار اور تمسخر کے باوجود انہوں نے اپنی دعوت کو ترک نہیں کیا۔ اْن کی یہ ثابت قدمی اْن کے مضبوط ایمان اور غیر متزلزل عزم کی علامت تھی۔جب انسانوں کے انکار کی انتہا ہو گئی تو خدا کی طرف سے نوح کو ایک کشتی بنانے کا حکم دیا گیا۔ یہ حکم بظاہر اس زمانے کے لوگوں کے لیے غیر معمولی اور حیران کن تھا، کیونکہ اس وقت زمین پر کسی بڑے سیلاب کے آثار دکھائی نہیں دیتے تھے۔ مگر نوح نے انسانی منطق کے بجائے الٰہی حکم پر یقین کیا اور بغیر کسی شک کے اس عظیم کام کا آغاز کیا۔کشتی کی تعمیر بذاتِ خود ایک آزمائش تھی۔ لوگ اْن کا مذاق اْڑاتے، سوال کرتے اور اْن کی باتوں کو دیوانگی سمجھتے، لیکن نوح نے ہر اعتراض کو نظر انداز کرتے ہوئے خدا کی فرمانبرداری کو ترجیح دی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اْن کی شخصیت ایمان، صبر اور خدا پر بھروسہ کی اعلیٰ ترین مثال بن کر سامنے آتی ہے۔جب طوفان آیا تو وہ محض بارش نہیں تھی بلکہ ایک ایسا ہولناک منظر تھا جس نے پوری دنیا کو بدل دیا۔ آسمان سے مسلسل بارش برس رہی تھی، زمین سے پانی کے چشمے پھوٹ رہے تھے، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ سب کچھ پانی میں ڈوبنے لگا جو انسانوں کو ہمیشہ قائم اور مضبوط دکھائی دیتا تھا۔ ایسے میں دنیا ایک خوفناک تباہی اور افراتفری کا منظر پیش کر رہی تھی۔اسی طوفان میں نوح اور اْن کا خاندان ایک کشتی میں محفوظ تھے۔ لیکن وہ حفاظت صرف لکڑی اور دیواروں کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے خدا کی قدرت اور وعدہ تھا۔ نوح کا اصل سہارا اْس کا ایمان تھا، نہ کہ صرف کشتی کی مضبوطی۔یہاں ایک نہایت گہرا روحانی سبق سامنے آتا ہے جو کشتی کی ساخت اور اْس کی ایک کھڑکی سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ روایت کے مطابق کشتی میں صرف ایک کھڑکی تھی اور اگر ہم اس پر غور کریں تو یہ محض ایک تعمیراتی جزو نہیں بلکہ ایک علامت ہے۔ یہ کھڑکی گویا اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کی نگاہیں تباہی اور خوف کی طرف نہیں بلکہ آسمان اور خدا کی طرف ہونی چاہئیں۔جب ہر طرف پانی، اندھیرا اور تباہی ہو تو انسان کے لیے سب سے بڑا امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنی توجہ کس طرف رکھتا ہے۔ اگر نگاہیں صرف طوفان پر ہوں تو دل خوف سے بھر جاتا ہے، لیکن اگر نگاہیں خدا پر مرکوز ہوں تو دل میں سکون اور اْمید پیدا ہوتی ہے۔ نوح کی زندگی اسی حقیقت کی عملی تفسیر ہے۔ نوح کی شخصیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ مشکلات کبھی آئیں گی نہیں، بلکہ اصل ایمان یہ ہے کہ مشکلات کے باوجود خدا پر بھروسہ قائم رکھا جائے۔ انہوں نے اپنے زمانے کے سب سے بڑے طوفان کا سامنا کیا، لیکن اْن کا دل کبھی خوف اور مایوسی کا شکار نہیں ہوا۔اْن کی زندگی کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ انسان اپنی طاقت، وسائل یا حالات پر نہیں بلکہ خدا کی قدرت پر بھروسہ کرے۔آج کی دنیا بھی مختلف قسم کے طوفانوں سے بھری ہوئی ہے۔ کبھی معاشی مسائل، کبھی بیماری، کبھی ذہنی دباؤ اور کبھی مستقبل کی غیر یقینی صورتحال انسان کو گھیر لیتی ہے۔ ایسے وقت میں انسان آسانی سے خوف اور پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے۔
لیکن نوح کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی حالات کو دیکھنے میں نہیں بلکہ خدا پر اعتماد رکھنے میں ہے۔ جو شخص صرف طوفان کو دیکھتا ہے وہ خوف میں ڈوب جاتا ہے، لیکن جو شخص خدا کی طرف دیکھتا ہے وہ ہر طوفان سے محفوظ رہتا ہے۔ بے شک نوح کی زندگی ہمارے لئے مضبوط ایمان کی ایک روشن مثال ہے۔ اْن کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچا ایمان وہ ہے جو اندھیرے میں بھی اْمید کو زندہ رکھے، اور ہر آزمائش میں خدا پر بھروسے کو مضبوط کرے۔ یہی اْن کی شخصیت کا سب سے بڑا پیغام ہے اور یہی پیغام آج بھی ہر انسان کے لیے روشنی کا مینار ہے۔
 

Daily Program

Livesteam thumbnail