یونیورسٹی آف ملایا کی ماہرِ تعلیم نے FABC کو ایشیا میں بڑھتی ہوئی تقسیم سے خبردار کیا۔

 ڈاکٹر چونگ پوئی یی
ڈاکٹر چونگ پوئی یی

ملائیشیا کی ”یونیورسٹی آف ملایا“ سے وابستہ  ماہرِ تعلیم ڈاکٹر چونگ پوئی یی نے خبردار کیا ہے کہ ایشیا میں کلیسیا کو درپیش سب سے بڑا چیلنج اب مذہبی ایذا رسانی یا سیکولرزم نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی سیاسی، نسلی اور نظریاتی تقسیم ہے۔انہوں نے 23 جولائی کو جکارتہ میں منعقد ہونے والی فیڈریشن آف ایشین بشپ کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایشیا میں گہری ہوتی ہوئی سیاسی، نسلی اور نظریاتی تقسیم اب کلیسیا کی زندگی کو بھی متاثر کرنے لگی ہے۔
ان کا مقالہ ایشیا کے بدلتے ہوئے حالات اور ایک بشارتی سنڈی کلیسیا کے لیے پْل اور پْل بنانے والے بننے کے عملی طریقے“ کے عنوان سے پیش کیا گیا، جس میں انہوں نے ایشیا کے سماجی اور سیاسی حالات اور ان کے کلیسیا کے سنڈی مشن پر اثرات کا جائزہ لیا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی، نسلی اور سماجی تقسیم کلیسیا کے دروازے پر آ کر ختم نہیں ہوتی۔یہی اِن کے خطاب کا بنیادی پیغام تھا۔ڈاکٹر چونگ، جن کی تحقیق جنوب مشرقی ایشیا میں سماجی تحریکوں، شناختی سیاست، مذہب اور عوامی زندگی پر مرکوز ہے، نے کہا کہ ایشیا اس وقت ہجرت، مذہبی قوم پرستی، جمہوری آزادیوں میں کمی اور تیز رفتار ڈیجیٹل مواصلات کے باعث گہری سماجی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ اگرچہ یہ رجحانات مختلف دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ سب مل کر معاشرے میں بڑھتی ہوئی تقسیم کو جنم دے رہے ہیں۔انہوں نے خاص طور پر جذباتی تقسیم کی طرف توجہ دلائی، جس میں لوگ مختلف رائے رکھنے والوں کو صرف مخالف نہیں بلکہ دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جب ایسا ہوتا ہے تو مکالمہ مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ لوگ ایک دوسرے کو سننا چھوڑ دیتے ہیں۔
ڈاکٹر چونگ کے مطابق سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے اس رجحان کو مزید تیز کر دیا ہے، کیونکہ یہ ایسے معلوماتی دائرے تشکیل دیتے ہیں جو لوگوں کے پہلے سے موجود خیالات کو مزید مضبوط کرتے ہیں اور مختلف سوچ رکھنے والوں پر عدم اعتماد بڑھاتے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ مسیحی بھی ان سماجی رجحانات سے محفوظ نہیں ہیں۔ چونکہ وہ بھی معاشرے کا حصہ ہیں، اس لیے وہ آسانی سے سیاسی، نسلی اور نظریاتی اختلافات کو اپنی پیرشوں اور کلیسیائی برادریوں میں لے آتے ہیں۔اس کے نتیجے میں سیاسی، نسلی یا ثقافتی شناخت بعض اوقات مسیح کے پیروکار ہونے کی مشترکہ شناخت پر غالب آ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایشیا کی کلیسیا کے لیے اصل چیلنج صرف اقلیت کے طور پر زندہ رہنا نہیں بلکہ ایسے معاشروں میں، جو مسلسل تقسیم کا شکار ہیں، اتحاد کی ایک معتبر علامت بن کر سامنے آنا ہے۔انہوں نے کہاکہ کلیسیا کو یہ ثابت کرنا چاہیے کہ اختلافِ رائے لازماً دشمنی میں تبدیل نہیں ہوتا۔

یونیورسٹی آف ملایا
یونیورسٹی آف ملایا

انہوں نے زور دیا کہ کلیسیا کو معاشرے کے تنازعات کی عکاسی کرنے کی بجائے ایسی جگہ بننا چاہیے جہاں مکالمہ، مفاہمت اور باہمی احترام کو فروغ ملے۔ ان کے مطابق ایشیا جیسے مذہبی، ثقافتی اور سیاسی طور پر متنوع براعظم میں یہی گواہی سب سے زیادہ اہم ہے۔انہوں نے مذہبی قوم پرستی اور شناختی سیاست کو کلیسیا کے مشن پر غالب آنے سے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ثقافتی اور قومی شناخت اپنی جگہ اہم ہے، لیکن کلیسیا کو ہمیشہ اپنی بنیادی شناخت مسیح میں تلاش کرنی چاہیے، نہ کہ سیاسی، نسلی یا قومی وابستگیوں میں۔
انہوں نے کہا کہ کلیسیا کو اپنی شناخت مسیح میں متحد ایک برادری کے طور پر برقرار رکھنی چاہیے۔اپنے خطاب کے دوران ڈاکٹر چونگ بار بار 12ویں جنرل اسمبلی کے مرکزی موضوع یعنی پْل اور پْل بنانے والے بننے کی طرف رجوع کرتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ پْل وہاں تعمیر کیے جاتے ہیں جہاں فاصلے اور تقسیم موجود ہوں، اس لیے آج مفاہمت کو فروغ دینا کلیسیا کی سب سے اہم ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ بڑھتی ہوئی تقسیم کا مقابلہ کلیسیا سیاسی طاقت یا نظریاتی برتری کے ذریعے نہیں کر سکتی بلکہ اس کی اصل طاقت انجیل کا وہ پیغام ہے جو محبت، رحم، معافی اور مفاہمت کی دعوت دیتا ہے۔انہوں نے بشپ صاحبان اور شرکاء پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سنڈیلٹی صرف ڈھانچوں اور طریقہ کار تک محدود نہ رہے بلکہ ایسی کلیسیائی برادریاں تشکیل دے جہاں اختلافات تقسیم میں تبدیل نہ ہوں اور جہاں رفاقت، تنازع سے زیادہ مضبوط ہو۔