کیتھولک بشپ صاحبان کی مسیحی بیٹی ماریہ شہباز کیس کی پْر زور مذمت

مورخہ 4 اپریل 2026کو عزت مآب بشپ سیمسن شکردین (او۔ایف۔ایم)صدر، کیتھولک  بشپس کانفرنس پاکستان اور چیئرمین قومی کمیشن برائے امن و انصاف حیدرآباد نے لاہور میں ماریہ شہباز کیس کے حالیہ فیصلے پر ایک پریس ریلز جاری کی۔جس میں انہوں نے گہری تشویش کا اظہار  کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس ایک کم عمر مسیحی لڑکی کے مبینہ اغوا، کم عمری کی شادی اور جبری تبدیلی مذہب جیسے حساس معاملات سے متعلق ہے، جو پاکستان میں بالخصوص اقلیتی خواتین اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین انسانی حقوق کے خدشات کو جنم دیتا ہے۔انہو ں نے کہا کہ اگرچہ عدالت نے شادی اور تبدیلی مذہب کو تسلیم کیا ہے، تاہم لڑکی کی عمر، آزادانہ اور باخبر رضامندی کے سوال، اور یہ کہ آیا تبدیلی مذہب واقعی رضاکارانہ تھی یا دباؤ کے تحت کی گئی ان امور پر سنگین خدشات بدستور موجود ہیں۔ قومی کمیشن برائے امن و انصاف اس بات پر زور دیتا ہے کہ جبری تبدیلیِ مذہب اور کم عمری کی شادی بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں اور ان سے انتہائی سنجیدگی سے نمٹا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقلیتی خواتین اور بچیوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ایسے حساس معاملات میں انصاف کا تقاضا ہے کہ تمام قانونی اور آئینی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تاکہ کمزور اور غیر محفوظ افراد کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے، خصوصاً جبری تبدیلی مذہب جیسے معاملات میں۔
 فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد بشپ آف اسلام آباد راولپنڈی ڈایوسیس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلز میں انہوں نے وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے ایک کم عمر مسیحی بیٹی کی شادی کے حوالے سے سنائے گئے ایک حالیہ فیصلے پر شدید تشویش اور اضطراب کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے نے پاکستان میں کم عمر بچیوں کے تحفظ اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ لڑکی کے خاندان کے مطابق، اْسے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا، زبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا اور اْس کی مرضی اور مکمل رضامندی کے بغیر شادی کر دی گئی۔بشپ جی نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے معاملات کو ملک کے قانون کے مطابق سختی سے دیکھا جانا چاہیے، جو واضح طور پر شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین کے غیر مستقل اطلاق سے نظامِ انصاف پر اعتماد کمزور ہو رہا ہے اور کمزور طبقات کی حفاظت اور وقار کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
 فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے عدلیہ کی آزادی کے احترام کو برقرار رکھتے ہوئے،اس بات پر زور دیا کہ عدالتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے تمام الزامات، خصوصاً جبری تبدیلیِ مذہب اور کم عمری کی شادی جیسے حساس معاملات کو شفاف، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ طریقے سے جانچیں۔انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ بچوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، آئینی ضمانتوں کو برقرار رکھا جائے اور پاکستان کے بین الاقوامی انسانی حقوق کے وعدوں کو پورا کیا جا سکے۔
فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشدنے اس بات کو دہرایا کہ چرچ ہر شہری کے لیے انصاف، وقار اور مساوی تحفظ کے فروغ کے لیے پرعزم ہے، خاص طور پر اُن افراد کے لیے جو سب سے زیادہ کمزور ہیں۔
آرچ ڈایوسیس آف لاہور کے فضیلت مآب آرچ بشپ خالد رحمت نے نابالغ مسیحی لڑکی ماریہ کے کیس میں وفاقی شرعی عدالت کے حالیہ فیصلے پر شدید احتجاج کا اظہار کرتے ہوئے جاری پریس ریلز میں کہا میں پاکستان کی تما م کاہنانہ اور راہبانہ برادری نیز تمام مسیحیوں کی جانب سے اس معاملے میں وفاقی شرعی عدالت کے حالیہ فیصلے پر شدید احتجاج اور افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔ یہ فیصلہ، جو جبری تبدیلی مذہب اور کم عمر لڑکیوں کی شادی کے حساس مسئلے سے متعلق ہے، انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
 انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف متاثرہ بچیوں کے تحفظ میں ناکامی ظاہر کرتا ہے بلکہ ایک خطرناک پیغام بھی دیتا ہے جو معاشرے میں کمزور اور اقلیتی طبقات کے حقوق کو مزید غیر محفوظ بناتا ہے۔ یہ صرف پاکستان کے آئینی وعدوں کے منافی ہے بلکہ عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم خاص طور پر 18 سال سے کم عمر بچیوں کی جبری شادیوں کے خلاف ہیں۔ پاکستان میں شادی کے لیے کم از کم عمر کی واضح حد مقرر ہے، لیکن ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے بچیاں آزادی، وقار اور مساوات کے حق سے محروم ہو رہی ہیں۔نیز انہوں نے حکومت کے سامنے چند مطالبات کی رکھے جن میں نابالغ بچوں کے تحفظ، جبری تبدیلی مذہب،بچوں کی آزادانہ اور رضامندی کے بغیر ہونے والی شادیوں کی روک تھام شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ مسائل بنیادی انسانی حقوق، آئینی ضمانتوں اور بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں جن کی پاکستان پابندی کا عہد کر چکا ہے۔لہٰذا، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ 
)اس عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی جائے تاکہ قانون کے مطابق نابالغوں کے تحفظ کے لیے انصاف فراہم کیا جا سکے۔
) ریاستی ادارے فوری اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ اقلیتی بچوں، خصوصاً بچیوں کو جبری تبدیلی مذہب اور جبری شادیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
) ان واقعات کے ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
) مذہبی ہم آہنگی، برداشت اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے تمام ہم وطنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس مسئلے پر آواز بلند کریں کیونکہ بچوں کا تحفظ نہ صرف ایک قانونی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے پْرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ انصاف اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور ہم اپنے ملک میں ہر بچے کے لیے محفوظ اور باوقار مستقبل کے لیے دْعاگو ہیں۔

Daily Program

Livesteam thumbnail