کارڈینل تاگلے نے ایشیائی کلیسیائی رہنماؤں پر خدا کے خاموش کاموں میں اْمید تلاش کرنے پر زور دیا۔

کارڈینل تاگلے
کارڈینل تاگلے

کارڈینل لوئیس انتونیو جی۔ تاگلے نے کہا کہ مسیحی اْمید انسانی کامیابیوں پر نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں خدا کے خاموش مگر موثر کام کو پہچاننے سے قائم رہتی ہے۔ انہوں نے یہ بات 22 جولائی کو فیڈریشن آف ایشین بشپ کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی کے سلسلہ میں منعقدہ ایک روزہ روحانی ریٹریٹ کے دوران کہی۔ایشیا بھر سے آئے ہوئے بشپ صاحبان اور شرکاء نے اس ریٹریٹ میں شرکت کی، جس کا مقصد اسمبلی کے باقاعدہ اجلاسوں سے قبل شرکا ء کو روحانی طور پر تیار کرنا تھا۔
اپنے خطاب میں کارڈینل تاگلے نے کہا کہ کلیسیا کا مشن بڑی کامیابیاں حاصل کرنا نہیں بلکہ ان عظیم کاموں کو پہچاننا ہے جو مسیح پہلے ہی انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کلامِ مقدس یہ نہیں کہتا کہ تم بڑی باتیں کرو گے بلکہ یسوع مسیح یوں فرماتے ہیں کہ”تْو اس سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا۔“عظیم کام یسوع مسیح کرتے ہیں، ہمارا کام اْنہیں دیکھنا اور پہچاننا ہے۔انہوں نے انجیلِ مقدس بمطابق یوحنامیں یسوع اور نتن ایل کی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ”تْو اس سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا۔“ کا وعدہ شاگردوں کو اپنی کامیابیوں پر بھروسا کرنے کی بجائے خدا کے عمل پر نظر رکھنے کی دعوت دیتا ہے۔کارڈینل تاگلے نے کہا کہ یہی سنڈی روحانیت کا بنیادی جوہر ہے۔ ان کے مطابق کلیسیائی رہنماؤں کو ایسا غوروفکر کرنے والا رویہ اپنانا چاہیے جو انہیں رکنے، سننے اور عام لوگوں اور روزمرہ کے واقعات میں خدا کی موجودگی کو پہچاننے کے قابل بنائے۔ اگر یہ نقطہ نظر نہ ہو تو کلیسیا یہ سمجھنے لگتی ہے کہ اس کا مشن صرف انسانی کوششوں پر منحصر ہے۔اپنی بات واضح کرنے کے لیے انہوں نے انجیلِ مقدس بمطابق یوحناکے کئی واقعات کا ذکر کیا۔ قانا ئے گلیل کی شادی میں شاگردوں نے یسوع کا پہلا معجزہ دیکھا، جب انہوں نے ایک عام سماجی مشکل کے موقع پر پانی کو مے میں تبدیل کر دیا۔ اسی طرح سامری عورت نے ایک سادہ گفتگو کے دوران مسیحا کو پہچانا، مریم مجدلی نے ابتدا میں جی اٹھے ہوئے مسیح کو مالی سمجھا، جبکہ عِمواس کی راہ پر چلنے والے شاگردوں نے روٹی توڑنے کے عمل میں انہیں پہچانا۔
کارڈینل تاگلے نے کہا کہ یسوع کے عظیم کام عام اور سادہ چیزوں کے ذریعہ ظاہر ہوتے ہیں۔ ہماری سنڈی تبدیلی کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ ہم خدا کے کام پر حیرت اور شکرگزاری کا احساس دوبارہ حاصل کریں۔انہوں نے کلیسیائی رہنماؤں کو نصیحت کی کہ وہ اپنے اندر حیرت اور شکرگزاری کی روح کو زندہ رکھیں، کیونکہ زندگی کے عام لمحوں میں خدا کی موجودگی کو پہچاننا پختہ ایمان کی علامت اور موجودہ سماجی و کلیسیائی چیلنجوں کے درمیان اْمید کا سرچشمہ ہے۔
کارڈینل تاگلے نے اس بات کی وضاحت اپنے ذاتی تجربہ سے کی۔ انہوں نے بتایا کہ منیلا میں ایک روز ٹریفک سگنل پر رکتے ہوئے انہیں لگا کہ ایک خوانچہ فروش انہیں کچھ فروخت کرنا چاہتا ہے، لیکن اس شخص نے بغیر کسی قیمت کے انہیں کھانے کی چیز تحفہ میں دے دی۔انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایک عام خوانچہ فروش کے ذریعہ ہم نے خدا کے ایک بڑے کام کو دیکھا۔ اس نے ہمیں سکھایا کہ دوسروں کو دینا، منافع کمانے سے زیادہ اہم ہے۔انہوں نے لبنان میں پناہ گزینوں سے ملاقات کا بھی ذکر کیا، جہاں کلیسیا نے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے متاثرہ افراد کی امداد کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک چھوٹا بچہ ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ”میں اس یسوع کا دوست بننا چاہتا ہوں۔“کارڈینل تاگلے نے کہا کہ اس واقعہ نے ظاہر کیا کہ محبت اور خدمت کے سادہ اعمال بھی لوگوں کے دلوں کو انجیل کے لیے کھول سکتے ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے شرکا ء کو یاد دلایا کہ یسوع کے وعدہ کردہ بڑے ماجرے اپنی مکمل تکمیل مسیح کے جی اُٹھنے میں پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زندہ مسیح آج بھی عام لوگوں اور محبت سے بھرے روزمرہ اعمال کے ذریعے کام کر تاہے، اور یہی حقیقت جدید دنیا کے چیلنجوں کے باوجود کلیسیا کو اْمید سے بھرپور رکھتی ہے۔