کارڈینل اوسوالڈ گریسیاس نے FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی کی افتتاحی یوخرستی عبادت کی قیادت کی، سنڈیلٹی کو کلیسیا کا دنیا کے لیے عظیم تحفہ قرار دیا۔
پوپ لیو چہاردہم کے خصوصی نمائندہ کارڈینل اوسوالڈ گریسیاس نے 21 جولائی کو فیڈریشن آف ایشین بشپ کانفرنسز (FABC)کی 12ویں جنرل اسمبلی کی افتتاحی یوخرستی عبادت کی قیادت کی اور سنڈیلٹی کو کلیسیا کی جانب سے دنیا کے لیے عظیم ترین تحائف میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے ایشیا کی کلیسیاؤں پر زور دیا کہ وہ مکالمہ، مفاہمت اور اْخوت کے ذریعے امن کے معمار بنیں۔جکارتہ کے ہوٹل مولیا میں صبح 9 بجے افتتاحی یوخرستی عبادت کی قیادت کرتے ہوئے کارڈینل گریسیاس نے کہا کہ کلیسیا کا مشن لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا، مفاہمت کو فروغ دینا اور امن کا ذریعہ بننا ہے۔انہوں نے اپنے وعظ میں کہا کہ ہمارا مشن پل تعمیر کرنے والے بننا ہے۔ کلیسیا کو پْل تعمیر کرنے کے لیے بلایا گیا ہے۔افتتاحی یوخرستی عبادت میں انڈونیشیا کی مختلف ثقافتی روایات کو شامل کیا گیا، جبکہ دْعاؤں میں پورے ایشیائی کلیسیا کی نمائندگی کی گئی، جس سے برِاعظم کے تنوع کی خوبصورت جھلک نمایاں ہوئی۔
کارڈینل گریسیاس کے ہمراہ یوخرستی عبادت میں ہانگ کانگ کے کارڈینل اسٹیفن چاؤ ساؤ یان اور تیمور لیستے کے کارڈینل ورجیلیو دو کارمو دا سلوا نے معاونت فرمائی۔ ان کے علاوہ ایشیا بھر سے آئے ہوئے 100سے زائد کارڈینلز، بشپ صاحبان، کاہن، راہبات اورمومنین بھی اس ہفتہ بھر جاری رہنے والی مجلس میں شریک ہوئے۔افتتاحی جلوس کے آغاز پر انڈونیشیا کے صوبہ شمالی سماٹرا کے مرد و خواتین نے اپنے روایتی لباس میں بشپ صاحبان اور مندوبین کا استقبال کیا۔ ان میں نیاس، باتاک اور منانگ کاباؤ برادریوں کے افراد بھی شامل تھے۔ اس ثقافتی استقبال نے انڈونیشیا کے متنوع نسلی ورثے اور میزبان کلیسیا کی مہمان نوازی کو اجاگر کیا۔
مناجات میں بھی ایشیا کے تنوع کی بھرپور عکاسی کی گئی۔ مختلف دعائیں جاوی، مینتاوائی، مینڈرن چینی، بورنیو کی بیناواس دایاک اور مشرقی نوسا ٹینگارا کی سمبانی زبانوں میں پیش کی گئیں۔ مختلف زبانوں میں کی جانے والی یہ دعائیں اِس حقیقت کی علامت تھیں کہ کلیسیا مختلف اقوام، ثقافتوں اور زبانوں کے باوجود اتحاد میں بندھی ہوئی ہے۔اس عبادت کی ایک اور نمایاں خصوصیت مقدسین کی لطانیہ تھی، جس میں ایشیا کے مختلف ممالک کے مقدس مرداور خواتین کی شفاعت طلب کی گئی۔ مجلس نے چین، بھارت، جاپان، کوریا، ملائیشیا، فلپائن، سری لنکا، ہانگ کانگ، تھائی لینڈ، میانمار، قازقستان، انڈونیشیا، لاؤس اور افغانستان کے مقدسین کی شفاعت کے ذریعے دْعا کی، جس سے ایشیا کے بھرپور مسیحی ورثہ کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
اپنے وعظ میں کارڈینل گریسیاس نے کہا کہ FABC کا یہ اجتماع محض ایک انتظامی یا ادارہ جاتی اجلاس نہیں، بلکہ ایشیا کی مقامی کلیسیاؤں کے لیے ایک ایسا موقع ہے کہ وہ زمانے کی نشانیوں کو پہچانیں اور انجیل کی منادی کے اپنے عہد کی تجدید کریں۔انہوں نے FABC کے پانچ دہائیوں سے زائد سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں کروناکی وبا کلیسیا کے لیے ایک اہم آزمائش ثابت ہوئی۔ اگرچہ اس وبا نے پورے ایشیا میں بے شمار مشکلات پیدا کیں، لیکن اسی دوران ایشیا کی کلیسیاؤں کی ثابت قدمی، یکجہتی اور اشتراکی روح بھی نمایاں ہو کر سامنے آئی۔
کارڈینل گریسیاس نے جنگ اور تشدد کو بھی موجودہ دور میں انسانیت کو درپیش سب سے بڑے چیلنجز میں شمار کیا اور پوپ فرانسس کے اِس بیان کو یاد کیا کہ موجودہ عالمی صورتحال دراصل قسطوں میں لڑی جانے والی تیسری عالمی جنگ کی مانند ہے۔
انہوں نے کہا کہ سنڈیلٹی نہ صرف کلیسیا بلکہ پورے معاشرے کے لیے بھی ایک عظیم تحفہ ہے۔ ان کے مطابق ساتھ چلنے کا جذبہ ایشیائی معاشروں میں خاندانی زندگی، اجتماعی اقدار اور باہمی احترام کی صورت میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سنڈیلٹی کی اقدار، جیسا کہ ایک دوسرے کی بات سننا، شمولیت، کشادہ دلی اور مشترکہ ذمہ داری، بہتر طرزِ حکمرانی کے فروغ اور ایشیا کے کئی ممالک میں بدعنوانی جیسے مسائل سے نمٹنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔یوخرستی عبادت کے اختتام پر کارڈینل گریسیاس نے شرکاء کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ پورے ایشیا میں امن اور اخوت کے فروغ کے لیے نئے اور تخلیقی راستے تلاش کریں۔
آخر میں انہوں نے دعا کی کہ خدا FABC کو برکت دے، اور خدا ایشیا کو برکت عطا فرمائے۔