مسیحیوں اور مسلمانوں کے روزوں کے ایام کا مشترکہ آغاز، ایشیا میں امن اور بین المذاہب تعاون کی نئی اْمید

کئی برسوں بعد پہلی مرتبہ مقدس ماہِ رمضان اور مسیحی روزوں کے ایام تقریباً ایک ساتھ شروع ہو رہے ہیں، جو مسلمانوں اور مسیحیوں کے لیے ایک نادر موقع ہے کہ وہ ایک مشترکہ بابرکت وقت میں شریک ہوں۔گزشتہ دنوں جاری ہونے والے ایک پاسٹرل پیغام میں جنوبی فلپائن کے عزت مآب بشپ جوزے کولن نے دونوں کمیونٹیز پر زور دیا کہ وہ اس ایک ساتھ آنے والے لمحات کو محض اتفاق نہ سمجھیں بلکہ مشترکہ ذمہ داری کی دعوت کے طور پر قبول کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن صرف دْعا کرنے کی چیز نہیں بلکہ ایسا طرزِ زندگی ہے جس کے لیے عملی کوشش ضروری ہے۔
عزت مآب بشپ جوزے کولن  نے کہا کہ یہ مشترکہ آغاز ایک نعمت ہے اور ایمان داروں کو دعوت دی کہ وہ اپنی مصروفیات کم کریں، خدا کی طرف رجوع لائیں اور ایمان میں ایک ساتھ چلیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا تشدد، تقسیم اور ماحولیاتی بحران سے گزر رہی ہے۔
رمضان اور لینٹ روایتی طور پر دْعا، روزہ، توبہ اور سخاوت کے ایام ہوتے ہیں۔ اگرچہ ان کی ادائیگی کے طریقے مختلف ہیں، مگر دونوں میں نفس کْشی اور غریبوں کے لیے ہمدردی پر زور دیا جاتا ہے۔
بشپ صاحب نے اپنے پیغام میں مسیحی اور اسلامی صحائف سے رہنمائی لیتے ہوئے امن کو دونوں مذاہب کی مرکزی قدر قرار دیا۔انہوں نے امن کو صرف جنگ کی عدم موجودگی کے طور پر پیش نہیں کیا  بلکہ اسے خدا، ایک دوسرے اور پوری تخلیق کے ساتھ درست تعلق کے طور پر بیان کیا۔
بشپ صاحب نے خبردار کیا کہ ماحولیاتی تباہی بھی امن کو اسی طرح متاثر کرتی ہے جیسے مسلح تنازعات۔ پوپ فرانسس کی دستاویزات”لودھاتوسی“ اور ”فرتیلی توتی“ کا حوالہ دیتے ہوئے اس پیغام میں ماحول کی حفاظت کو سماجی انصاف سے جوڑا گیا اور اس بات پر زور دیا کہ غریبوں کی تکلیف اور زمین کی تباہی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ اسلامی تعلیم میں انسان کے”خلیفہ“یعنی تخلیق کے نگہبان ہونے کے تصور کو بھی نمایاں کیا گیا۔
فلپائن کے تناظر میں بشپ صاحب نے”الائے کَپوا“(Alay Kapwa) نامی سالانہ لینٹ یکجہتی پیشکش کو بین المذاہب اقدار کی عملی مثال قرار دیا۔ 
انہوں نے کہا کہ الائے کَپوا کے ذریعے دْعا خدمت بن جاتی اور قربانی اْمید میں بدل جاتی ہے خاص طور پر اُن کمیونٹیز کے لیے جو غربت، تنازعات، قدرتی آفات اور ماحولیاتی نقصان سے متاثر ہیں۔
اپنے پیغام کے اختتام پر عزت مآب بشپ جوزے کولن نے غریبوں کی خدمت، تخلیق کی حفاظت، امن کی تعلیم اور دنیا کے زخموں کا مشترکہ جواب دینے کے لیے تمام مسیحیوں، مسلمانوں، سول سوسائٹی گروپس اور بین المذاہب مکالمہ مراکز کو مل کر دْعا اور عملی کام کرنے کی دعوت دی۔کیونکہ یہ مقدس ذمہ داریاں ہیں۔ یہ امن کے کام ہیں۔جیسے ہی رمضان اور لینٹ ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، مذہبی رہنماؤں نے اْمید ظاہر کی کہ روزہ اور سخاوت ایک زندہ دْعا بن جائے گی۔ایسی دْعا جو صرف الفاظ تک محدود نہ رہے بلکہ ایک زخمی دنیا کے لیے مشترکہ عمل کی صورت اختیار کرے۔
یاد رہے عزت مآب بشپ جوزے کولن فلپائن کی کیتھولک بشپ کانفرنس کے بین المذاہب مکالمہ کمیشن کے چیئرمین بھی ہیں۔

Daily Program

Livesteam thumbnail