سنڈی تبدیلی کا آغاز دوسروں کو مسیح کی نظر سے دیکھنے سے ہوتا ہے۔کارڈینل تاگلے
کارڈینل لوئس انتونیو جی تاگلے نے کہا ہے کہ سنڈی تجدید کا آغاز کلیسیا کے ڈھانچوں یا پاسبانی منصوبوں میں تبدیلی سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ کلیسیائی رہنما دوسروں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات 22 جولائی کوفیڈریشن آف ایشین بشپ کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلیکے موقع پر منعقدہ ایک روزہ روحانی ریٹریٹ کے دوران اپنے دوسرے خطاب میں کہی۔”تْو اس سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا۔“ (یوحنا 1:50)۔ کلیسیائی رہنماؤں کے لیے سنڈی تبدیلی کی دعوت کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے کارڈینل تاگلے نے کہا کہ اگر کلیسیائی رہنما دوسروں کو تعصب، پہلے سے قائم تصورات یا صرف انسانی معیار کے مطابق دیکھتے رہیں تو کلیسیا کا سنڈی سفر کبھی حقیقی پھل نہیں لا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی سنڈی تبدیلی کا آغاز اْس وقت ہوتا ہے جب ہم دوسروں کو یسوع کی نظر سے دیکھنا سیکھتے ہیں۔انہوں نے اپنے خطاب میں ”نتن ایل“ اور ”یسوع“ کی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جب نَتَن ایل نے سنا کہ مسیح ناصرت سے آیا ہے تو اس نے سوال کیا کہ کیا ناصرت سے بھی کوئی اچھی چیز آ سکتی ہے؟کارڈینل تاگلے نے کہا کہ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ہماری ثقافتی سوچ اور ذاتی تجربات اکثر دوسروں کے بارے میں ہماری رائے تشکیل دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نتن ایل کے اپنے پیمانے تھے کہ کون بہتر ہے اور کون کمتر۔ وہ سمجھتا تھا کہ اس کا اپنا شہر ناصرت سے بہتر ہے، لیکن یسوع نے اس میں وہ عظمت دیکھی جو خود نَتَن ایل بھی نہ دیکھ سکا۔انہوں نے کہا کہ یسوع نے نَتَن ایل کے تعصب پر ملامت کرنے کی بجائے پہلے اس کی خوبی کو پہچانا اور فرمایاکہ دیکھو، یہ واقعی ایک اسرائیلی ہے جس میں کوئی فریب نہیں۔
کارڈینل تاگلے کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسیح انسان کی گہری اور حقیقی شناخت کو دیکھتے ہیں، جبکہ لوگ اکثر صرف اس کی کمزوریاں یا ظاہری حالات دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یسوع وہاں عظمت دیکھتے ہیں جہاں ہم اکثر صرف عام چیزیں یا مسائل دیکھتے ہیں۔ وہ ہمیں ہماری وہ عظمت دکھاتے ہیں جسے ہم خود بھی نہیں پہچانتے۔انہوں نے کہا کہ کلسیائی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ یسوع کی آنکھیں حاصل کریں تاکہ ہر انسان میں موجود بھلائی اور خدا کی دعوت کو پہچان سکیں۔ اگر یہ تبدیلی نہ آئے تو کلیسیائی قیادت سطحی اور امتیازی رویوں کا شکار ہو سکتی ہے۔
کارڈینل تاگلے نے اپنے ذاتی تجربہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کبھی کبھی وہ آئینے میں خود کو دیکھ کر سوچتے ہیں کہ اگر میں یسوع ہوتا تو اس شخص کو کبھی کارڈینل منتخب نہ کرتا۔انہوں نے بتایا کہ کاہن بننے سے پہلے بھی انہیں ایسے ہی شکوک لاحق تھے، لیکن وقت کے ساتھ انہوں نے اپنی رائے کی بجائے خدا کے فیصلے پر بھروسہ کرنا سیکھا۔انہوں نے اپنی دْعا کے الفاظ یوں بیان کیے:اے خداوند! بْلانے والے آپ ہیں۔ آپ مجھ میں وہ کچھ دیکھتے ہیں جو شاید میں خود نہیں دیکھ سکتا، اس لیے میں آپ کی نظر پر بھروسہ کرتا ہوں۔
کارڈینل تاگلے نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ اپنی پوری صلاحیت تک اس لیے نہیں پہنچ پاتے کیونکہ انہیں اْن کے خاندانی پس منظر، ثقافت یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے اور ترقی کے مواقع نہیں دیے جاتے۔انہوں نے کہا کہ شاید کلیسیا میں بھی ایسے بہت سے لوگ ہیں جو کبھی اپنی پوری صلاحیت تک نہیں پہنچ سکے، کیونکہ ہم نے ان میں نہ کوئی خوبی دیکھی اور نہ ہی کوئی عظمت۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے شرکاء کو دعوت دی کہ وہ اپنے ضمیر کا جائزہ لیں کہ کہیں ان کی ثقافتی سوچ، عادات یا تعصبات ان کی پاسبانی خدمت پر اثر انداز تو نہیں ہو رہے۔انہوں نے کہا کہ سنڈی کا حقیقی آغاز اس وقت ہوتا ہے جب انجیل ہمارے دلوں کو پاک کرتی ہے اور ہم دوسروں کو مسیح کی آنکھوں سے دیکھناسیکھ لیتے ہیں۔