بشپ انتونیئس سوبیانتو بنجامین کی ایشیائی کلیسیا کو مشترکہ مشن کے لیے وسائل بانٹنے کی اپیل


FABC کی جنرل اسمبلی کی اختتامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کارڈینل پابلو ورجیلیو ڈیوڈ نے کہا کہ کلیسیا کا مشن محض مذہب کو فروغ دینا نہیں بلکہ اس مشترکہ انسانیت اور انسانی وقار کو برقرار رکھنا ہے جو تمام انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔انڈونیشیا کی کیتھولک بشپس کانفرنس KWI کے صدر بشپ انتونیئس سوبیانتو بنجامین نے کہا کہ ایشیا کی کلیسیا کو صرف وسائل بانٹنے کی بات کرنے سے آگے بڑھتے ہوئے مشترکہ کلیسیائی مشن کے لیے اپنے وسائل، صلاحیتیں، وقت اور مالی معاونت بانٹنے کے لیے زیادہ آمادہ ہونا چاہیے۔26 جولائی کو جکارتہ کیتھیڈرل کمپلیکس میں واقع کاریہ پاسبانی عمارت میں فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی کی اختتامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بشپ انتونیئس نے کہا کہ سنڈیلٹی ایک ساتھ چلنے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لیے زیادہ گہری وابستگی کا تقاضا کرتی ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ ہم روحانی طور پر بانٹنے کی بات تو آسانی سے کرتے ہیں، لیکن اپنے وسائل، اپنی صلاحیتیں، اپنی ذات اور حتیٰ کہ اپنے مالی وسائل بانٹنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟
ہفتہ بھر جاری رہنے والی جنرل اسمبلی کے اختتام کے بعد منعقد ہونے والی اس پریس کانفرنس نے کلیسیائی رہنماؤں کو اسمبلی کے نتائج پر غور کرنے کا موقع فراہم کیا، جن میں ایشیا کے لیے سنڈلٹی کتابچہ کے خاکے کی تیاری اور اسمبلی کے حتمی پیغام کا اجرا بھی شامل تھا۔تاہم بشپ انتونیئس کے نزدیک اسمبلی کا سب سے اہم ثمر تیار ہونے والی دستاویزات نہیں بلکہ ایشیا کی مقامی کلیسیاؤں کے درمیان برادری اور باہمی اشتراک کا تجربہ تھا۔انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات وہ دستاویزات نہیں جن پر ہم نے اسمبلی کے دوران گفتگو کی، بلکہ اپنی زندگیوں کا باہمی اشتراک ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ ایشیا بھر سے آنے والے بشپ صاحبان، کاہن صاحبان، مذہبی رہنما اور مومنین اپنے اپنے کلیسیائی تجربات، چیلنجز اور اْمیدیں ساتھ لائے، اور ایک دوسرے سے ملاقات کے ذریعے پوری کلیسیا کو مالا مال کیا۔انڈونیشیا نے FABC کی جنرل اسمبلی کی دوسری مرتبہ میزبانی کی۔ اس سے 36 سال قبل 1990 میں پانچویں جنرل اسمبلی بانڈونگ میں منعقد ہوئی تھی۔ بشپ انتونیئس نے ایشیا بھر سے شرکا کی میزبانی کے موقع کو ایک نعمت اور کلیسیا کی مہمان نوازی کی روح کا اظہار قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس کے برعکس ہم خوش تھے۔ ہم نے تمام شرکا کا خیرمقدم کیا اور ان کی مہمان نوازی کی۔انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کی مہمان نوازی سنڈلٹی کے مفہوم کی عکاسی کرتی ہے، یعنی مکالمہ،دوستی اور کشادہ دلی کے ذریعے تعلقات قائم کرنا۔اس کا ایک واضح اظہار شرکا کا فرینڈشپ ٹنل کا دورہ تھا، جو جکارتہ کیتھیڈرل کو جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد، استقلال مسجد، سے ملاتا ہے۔بشپ انتونیئس نے کہا کہ یہ دورہ محض ایک ثقافتی تجربہ نہیں تھا بلکہ یہ سرنگ ایشیا میں پْل اور پْل بنانے والوں کا کردار ادا کرنے کے اسمبلی کے موضوع کی ایک طاقتور علامت بن گئی۔انہوں نے کہا کہ سرنگ سے ایک ساتھ گزرنے سے ظاہر ہوا کہ مکالمہ محض اجلاسوں میں زیرِ بحث آنے والا ایک تصور نہیں بلکہ اعتماد، احترام اور حقیقی انسانی تعلقات کے ذریعے قائم ہونے والی ایک عملی حقیقت ہے۔
انہوں نے استقلال مسجد کے امامِ اعظم کی گواہی کو بھی نمایاں کیا، جنہیں انہوں نے مختلف مذہبی پس منظر رکھنے والے لوگوں کے درمیان دوستی اور تعاون کو فروغ دینے کی کوششوں کے باعث ایک انسانی پْل قرار دیا۔امامِ اعظم کے پیغام پر غور کرتے ہوئے بشپ انتونیئس نے کہا کہ حقیقی مذہبی وابستگی انسان کو صرف خدا کے قریب نہیں بلکہ اپنے ہمسایوں اور دوسرے انسانوں کے بھی قریب لانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میرا یقین ہے کہ جتنا انسان خدا کے قریب آتا ہے، اتنا ہی وہ اپنے دوسرے انسانوں کے بھی قریب آتا ہے۔ انہوں نے اسمبلی کے دوران کارڈینل لوئس انتونیو تاگلے کی اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ مسیح خدا اور انسانیت کے درمیان پْل ہے۔
بشپ انتونیئس نے مزید کہا کہ خیرمقدم کے سادہ اشارے، مثلاً شرکا کو انڈونیشین بٹک بطور تحفہ پیش کرنا بھی دوستی اور اشتراک کی روح کا اظہار تھا۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ سنڈلٹی کو بالآخر عملی اقدام کی طرف لے جانا ضروری ہے۔ان کے نزدیک ایشیائی کلیسیا کو درپیش چیلنج یہ ہے کہ وہ اشتراکِ کلیسیا کی روح کو عملی یکجہتی میں تبدیل کرے اور ہر مقامی کلیسیا کے پاس موجود وسائل کو اس مشترکہ مشن کے لیے بانٹے جو سب کے سپرد کیا گیا ہے۔

Urdu Survey Popup