ایک ساتھ چلتے ہوئے دیگر مذاہب کو پڑوسی سمجھیں۔فضیلت مآب آرچ بشپ سائمن پوہ

 مورخہ 28نومبر2025کو پینانگ،ملائیشیا میں ہو نے والی ”اْمید کی عظیم زیارت“ کے دوسرے روزکیکوچی کے فضیلت مآب آرچ بشپ سائمن پوہ نے بین المذاہب ہم آہنگی اور مکالمہ کی بھرپور حمایت میں، ایشیائی کلیسیا سے اپیل کی ہے کہ وہ ساتھ چلنے کا راستہ اپنائیں اور براعظم میں موجود مختلف مذاہب کو”دیگر مذاہب“کے بجائے”پڑوسی مذاہب“کے طور پر دیکھیں۔
انہوں نے ایشیائی اقوام کے طور پر ساتھ سفر کرناکے موضوع پر بات کرتے ہوئے  ایشیا کی تنوع بھری حقیقت، کلیسیا کی دعوت اور مستقبل کے ہم آہنگ اور اْمید سے بھرپور مسیحی سفر پر جامع روشنی ڈالی۔ابتدائی کلمات میں انہوں نے ہم آہنگی اور مشترکہ شناخت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس خدا کی عنایت کے لمحے میں ہمیں ایشیا کے لوگوں کی طرح ایک ساتھ چلنا چاہیے۔
انہوں نے بشپس، کاہن صاحبان، راہبات اور وفود کے تمام شرکاء کو خیرمقدم کہا۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے 2023 میں بنکاک میں ہونے والی فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنس کی دستاویز بنکاک ڈاکیومنٹ کا حوالہ دیا جسے انہوں نے آج کی ایشیائی کلیسیا کا راستہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایشیا ملائیشیا میں موجود ہے کیونکہ چینی، بھارتی، مالے، مقامی اقوام اور مختلف مذاہب ایک ساتھ رہتے ہیں۔ یہی تنوع انڈونیشیا، سنگاپور اور بورنیو میں بھی نظر آتا ہے اور یہی روزمرہ حقیقت ملائیشین مسیحیوں کی گواہی اور خدمت کا حصّہ ہے۔انہوں نے کہاکہ میری سرزمین میں ہم ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
آرچ بشپ نے زور دیا کہ یہ زیارت کلیسیا کے لیے دیکھنے، سننے اور وقت کے اشاروں کو پہچاننے کا لمحہ ہے۔ مشرق سے آنے والے مجوسیوں کی طرح، ایشیا کے لوگ بھی بلائے گئے ہیں کہ وہ علامات کو پڑھیں، اپنی برادری سے مشورہ کریں اور روحُ القدس کی راہنمائی میں چلیں۔
بنکاک ڈاکیومنٹ کے مطابق آج ایشیا جن چیلنجوں سے گزر رہا ہے، اْن میں  وباء کے اثرات، ڈیجیٹل دور، شہری کاری، ہجرت، حکمرانی کے تناؤ، اقلیتی کلیسیا کی صورتِ حال، نوجوانوں کے مسائل، جنس سے متعلق سوالات، ثقافتی تبدیلی، ماحولیاتی بحران، اور مذہبی تنوع شامل ہیں۔لیکن ان چیلنجوں میں نئی خدمت کے مواقع بھی پوشیدہ ہیں۔انہوں نے چینی لفظ ”بحران“ کی مثال دی جس میں خطرہ  اور موقع شامل ہے نیز کہا کہ ہمیں موقع تلاش کرنا ہے۔
انہوں نے YCS کے طریقے دیکھو، پرکھو، عمل کرو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں حالات کو انجیل کی روشنی میں پرکھ کر حوصلہ اور تخلیقی انداز میں جواب دینا ہے۔
ہم سنتے ہیں اور امتیاز کرتے ہیں کہ روح ایشیا کی کلیسیاؤں سے کیا کہہ رہی ہے۔
انہوں نے FABC کی تین نوعیت کے بنیادی مکالمہ کا ذکر کیا جن پر 1990 سے زور دیا جا رہا ہے:
1۔مذاہب کے ساتھ مکالمہ
2۔ثقافتوں کے ساتھ مکالمہ
3۔غریبوں کے ساتھ مکالمہ
ایشیائی سرزمین، جہاں عظیم مذاہب کی پیدائش ہوئی، جہاں ثقافتی تنوع بے مثال ہے اور جہاں غربت ایک بڑی حقیقت ہے۔ کلیسیا کے لیے یہ تینوں مکالمہ انتہائی اہم ہیں۔آج مکالمہ مزید وسیع ہو رہا ہے: نوجوانوں، خواتین، تخلیقِ خدا (ماحول)، مہاجرین و پناہ گزینوں، ٹیکنالوجی کے ماہرین، اسمگلنگ کے شکار افراد، معذور افراد اور ذہنی صحت یا نشے سے جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ مکالمہ۔ہر ایک کو اس سنڈی سفر میں آواز ملنی چاہیے۔
آرچ بشپ پوہ نے کہا کہ سنڈِ کوئی تکنیکی اصطلاح نہیں بلکہ ایشیائی ثقافتوں میں رچی بسی طرزِ زندگی ہے۔جس میں بشپس، کاہنوں، راہبات اور عام مومنین ایک ساتھ بیٹھ کر روحُ القدس کی آواز سنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایشیا میں مختلف مذاہب کے ساتھ چلنا روزمرہ زندگی کا حصہ ہے  دوستی، امن، ہم آہنگی، اور سماجی و ماحولیاتی مسائل کا مشترکہ جواب ہے۔
 انہوں نے FABC کی ایک اہم تجویز ”پڑوسی مذاہب“کا استعمال زور دیا۔دیگر مذاہب یاغیر مسیحی جیسے الفاظ کے بجائے پڑوسی مذاہب کیونکہ ایشیا میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہتے، کھاتے، جشن مناتے اور دوستی نبھاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سوچ اور رویّہ دونوں کو بدل دیتا ہے۔ ہم ایک دوسرے کو پڑوسی سمجھتے ہیں۔
انہوں نے ایشیائی کلیسیا کو دعوت دی کہ وہ 2033 کے لیے تیاری کرے۔ مسیحِ قیام کے 2000 سال مکمل ہونے پر:
ہم خدا کو کیا تحفہ پیش کریں گے؟
انہوں نے کہا کہ آئندہ سات سال نیا ہونے اور ساتھ چلنے کا وقت ہے۔
آرچ بشپ نے یاد دلایا کہ ایشیانوجوانوں کی زمین ہے۔ دنیا کے 60 فیصد نوجوان یہاں بستے ہیں۔لہٰذا خاندانوں کی معاونت، تعلیم کی مضبوطی، قائدین کی تشکیل اور نوجوانوں کی شمولیت کلیسیا کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔
اختتام پر انہوں نے مقدس پوپ جان پال دوم کے الفاظ دہرائے:
”تم خدا کا آج ہو“۔
اور کہا”نوجوان صرف مستقبل نہیں، بلکہ حال ہیں۔ اُن کے اندر ایشیا کی الٰہی زندگی کے بیج موجود ہیں“۔

Daily Program

Livesteam thumbnail