ایف اے بی سی جنرل اسمبلی میں دْعا اور روحانی تجدید کا دن، کارڈینل تاگلے نے مسیح کو حقیقی پْل تعمیر کرنے والا قرار دیا۔
فیڈریشن آف ایشیائی بشپ کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی کے تیسرے روز، 22 جولائی کو ایشیا بھر سے آئے ہوئے بشپ صاحبان اور شرکاء نے اجلاس کی کارروائی سے وقفہ لے کر دْعا، خاموش غوروفکر اور روحانی تجدید کے لیے وقت مخصوص کیا۔ اس روحانی دن کی قیادت کارڈینل لوئس انتونیو تاگلے نے کی۔پورا دن اس مقصد کے لیے وقف تھا کہ شرکاء جنرل اسمبلی کے مباحث، رپورٹس اور مشاورت سے کچھ دیر الگ ہو کر دْعا کریں، خدا کی مرضی پر غور کریں اور اس موضوع کی روشنی میں اجتماعی روحانی امتیاز حاصل کریں ”سنڈی تبدیلی اور ایشیا میں پْل اور پْل تعمیر کرنے والے بننے کا مشن۔“
جکارتہ کے ہوٹل مولیا کے جربیرا ہال میں دن کا آغاز کارڈینل لوئس انتونیو تاگلے، ڈکاسٹری برائے بشارت کے پرو پریفیکٹ، کی روحانی کانفرنس سے ہوا۔ انہوں نے جنرل اسمبلی کے لیے منتخب کیے گئے انجیلی اقتباس یوحنا 1: 43-51 پر غور کرتے ہوئے شرکا پر زور دیا کہ وہ اپنی نگاہیں حکمت عملیوں، ڈھانچوں یا منصوبوں پر نہیں بلکہ یسوع مسیح پر مرکوز رکھیں۔کارڈینل تاگلے کے مطابق جنرل اسمبلی میں سنڈی تبدیلی اور پْل تعمیر کرنے کے مشن کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے سب سے پہلے مسیح پر غور کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ سیڑھی کی علامت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یسوع وہ پْل ہے جس میں خدا،
انسان اور پوری تخلیق ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بات یعقوب کے خواب کے اْس منظر کے حوالے سے کہی جس کا ذکر اسی انجیلی اقتباس میں ملتا ہے اور جو اس سال کی جنرل اسمبلی کے موضوع کی بنیاد ہے۔
پْل کی یہ علامت پورے ہفتہ جاری رہنے والی جنرل اسمبلی کا نمایاں تصور بن چکی ہے، جہاں مندوبین مختلف ثقافتوں، مذاہب، قوموں اور معاشرتی تقسیم کے درمیان مکالمہ اور مفاہمت کو فروغ دینے میں کلیسیا کے مشن پر زور دے رہے ہیں۔ تاہم کارڈینل تاگلے نے یاد دلایا کہ مسیحی اْس وقت تک حقیقی پْل تعمیر کرنے والے نہیں بن سکتے جب تک وہ پہلے خود مسیح سے ملاقات نہ کریں، کیونکہ وہی آسمان اور زمین کے درمیان حقیقی پْل ہے۔انہوں نے یوحنا کی انجیل کے ابتدائی حصے پر غور کرتے ہوئے اس کلام کے بھید کی وضاحت کی جس کے وسیلے سے تمام چیزیں پیدا ہوئیں اور جو مجسم ہو کر انسانوں کے درمیان آ بسا۔انہوں نے کہا کہ جس کلام کے ذریعے پوری کائنات وجود میں آئی، وہ خود اسی تخلیق کا حصہ بن گیا۔ تجسد اس خدا کو ظاہر کرتا ہے جو انسانوں سے دور نہیں رہتا بلکہ ان کی زندگی میں داخل ہو کر انہیں اپنا لیتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یسوع ہمیں خدا کی حقیقی پہچان عطا کرتے ہیں، اور یہی یسوع انسان کو یہ بھی سکھاتے ہیں کہ مکمل انسان کیسے بنا جاتا ہے۔
یعقوب کی سیڑھی کی مثال کی طرف واپس آتے ہوئے کارڈینل تاگلے نے کہا کہ مسیح خدا اور انسان کے درمیان عمودی تعلق کو انسانوں اور پوری تخلیق کے درمیان افقی تعلق کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خدا کے ساتھ ہونا انسانوں اور تخلیق سے دور ہونا نہیں ہے۔انہوں نے کلیسیائی خدمت میں پیدا ہونے والے بعض رویوں پر بھی تنقید کی، خصوصاً اس سوچ پر کہ کلیسیائی رہنما خود کو لوگوں سے برتر سمجھنے لگیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ نہ تو تجسد کا راستہ ہے اور نہ ہی خود کو خالی کر دینے والی وہ عاجزی جس کا ذکر فلپیوں کے نام خط میں کیا گیا ہے۔ یسوع کا دنیا میں آنا کسی پر احسان جتانے کے لیے نہیں بلکہ اپنے لوگوں سے محبت کے اظہار کے لیے تھا۔گزشتہ دنوں کے برعکس، جن میں رپورٹس، تقاریر اور عمومی اجلاس شامل تھے، دْعا اور روحانی تجدید کا یہ دن خاموش دْعااور روح میں گفتگو کے طریقہ امتیاز پر مرکوز رہا، جو آج کلیسیا کے سنڈی سفر کی ایک اہم خصوصیت بن چکا ہے۔
کارڈینل تاگلے نے شرکا ء کو ترغیب دی کہ وہ مجرد خیالات کے بجائے بائبیلی علامات کے ذریعے دْعا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پْل، سیڑھی، مل کر چلنا اور کھلا ہوا آسمان جیسی علامات خدا کے بھید کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جنرل اسمبلی کے آئندہ مباحث کے لیے مضبوط روحانی بنیاد قائم کرنا ضروری ہے۔ ایسے ایشیا میں جہاں ثقافتی تنوع، قدیم مذہبی روایات اور پیچیدہ سماجی چیلنجز موجود ہیں، کلیسیا کا پْل تعمیر کرنے کا مشن مسیح کے ساتھ نئے تعلق سے ہی شروع ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ شاید ہمیں پْل اور پْل تعمیر کرنے والے بننے کی حکمت عملی بنانے سے پہلے دوبارہ یسوع کی طرف دیکھنا چاہیے، انہیں چھونا چاہیے، ان کا دیدار کرنا چاہیے اور ان سے سیکھنا چاہیے۔
روحانی کانفرنس کے بعد شرکا خاموش دْعا اور ذاتی غوروفکر میں مصروف ہو گئے۔ اس موقع پر ایک بار پھر اس حقیقت پر زور دیا گیا کہ”سنڈی تبدیلی“ کا حقیقی آغاز کسی پروگرام یا انتظامی ڈھانچے سے نہیں بلکہ روح القدس کی آواز سننے اور یسوع مسیح کے ساتھ اپنے تعلق کو گہرا کرنے سے ہوتا ہے، کیونکہ وہی آسمان اور زمین کو ملانے والاحقیقی پْل ہے۔