ایشیا کے مسیحیوں کو ”اْمید کے ہمسائے“ بننے کی دعوت، ایف اے بی سی دفتر برائے بشارتی امور کے سربراہ کا پیغام

 ایف اے بی سی دفتر برائے بشارتی امور کے سربراہ کا پیغام
ایف اے بی سی دفتر برائے بشارتی امور کے سربراہ کا پیغام

فیڈریشن آف ایشیائی بشپزکانفرنسز (FABC) کی بارہویں جنرل اسمبلی سے قبل، ملائیشیا کے آرچ بشپ سائمن پوہ، جو ایف اے بی سی دفتر برائے بشارتی امور (FABC-OE) کے سربراہ ہیں، نے پورے ایشیا کے کیتھولک مسیحیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسیح کی محبت، رحم، شفقت اور شفا بخش حضوری کو دوسروں تک پہنچاتے ہوئے ”اْمید کے ہمسائے“بنیں۔
20 تا 26 جولائی 2026تک انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں منعقد ہونے والے ایف اے بی سی کی بارہویں جنرل اسمبلی سے قبل اپنے خصوصی پیغام میں آرچ بشپ سائمن پوہ نے کہا کہ ایشیا مختلف ثقافتوں، مذاہب اور مذہبی روایات کا حسین امتزاج ہے۔ صدیوں سے مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں، اگرچہ اس خطے نے تنازعات، نوآبادیاتی دور اور تقسیم جیسے تلخ تجربات بھی دیکھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان تمام چیلنجز کے باوجود ایشیائی معاشروں میں آج بھی پُرامن بقائے باہمی، ہم آہنگی اور مختلف برادریوں کے درمیان باہمی احترام کی مضبوط خواہش موجود ہے۔آرچ بشپ پوہ کے مطابق ایف اے بی سی کا آئندہ اجلاس پوپ فرانسس کے ستمبر 2025 میں جکارتہ کے تاریخی دورے کے پیغام کو آگے بڑھائے گا، جس میں انہوں نے کلیسیا کو مختلف مذاہب، ثقافتوں اور قوموں کے درمیان اْخوت، مکالمہ اور یکجہتی کو فروغ دینے کی دعوت دی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایف اے بی سی کے اس اجلاس کے ذریعے پوپ فرانسس کا شروع کیا ہوا مشن آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ ایشیا میں کلیسیا مختلف مذاہب، ثقافتوں اور قوموں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان پْل تعمیر کرنے والی بن سکے۔

ایف اے بی سی دفتر برائے بشارتی امور
ایف اے بی سی دفتر برائے بشارتی امور

آرچ بشپ پوہ نے کہا کہ کلیسیا کی خواہش ہے کہ مسیح کی شفقت، مفاہمت اور شفا بخش محبت ایشیا بھر کے کیتھولک مومنین اور کلیسیائی قائدین کی زندگیوں میں نمایاں ہو اور معاشرے میں اس کا عملی اظہار نظر آئے۔انہوں نے بشارت کے حوالے سے کہا کہ کلیسیا کا مشن صرف انجیل کی منادی کرنا نہیں بلکہ مسیح کی شفقت، رحم، مفاہمت اور شفا کو معاشرے تک پہنچانا بھی ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایف اے بی سی دفتر برائے بشارتی امورایشیا بھر کے کیتھولک مسیحیوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ دوستی، رفاقت اور ساتھ چلنے کے جذبے کے ذریعے،ایک وقت میں ایک ہمسائے تک خوشخبری پہنچائیں۔
آرچ بشپ پوہ نے نیک سامری کی تمثیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسیحیوں کو ایسے اچھے ہمسائے بننے کی دعوت دی گئی ہے جو اپنے اردگرد کے لوگوں، خصوصاً مصیبت، ناانصافی اور محرومی کے شکار افراد تک خدا کی شفقت پہنچائیں۔
انہوں نے نومبر 2025 میں ملائیشیا کے شہر پینانگ میں منعقد ہونے والی ایف اے بی سی دفتر برائے  بشارتی امور کی مشن کانگریس ”اْمید کی عظیم زیارت“  (The Great Pilgrimage of Hope) کا بھی ذکر کیا، جس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ ایشیائی تناظر میں مکالمہ، باہمی تعلقات اور محبت بھری موجودگی کے ذریعے انجیل کی گواہی کس طرح دی جا سکتی ہے۔
آرچ بشپ پوہ نے کہا کہ یسوع المسیح بیت لحم میں پیدا ہوئے، جو ایشیائے کوچک میں واقع ہے، اس لیے وہ حقیقی معنوں میں ایک ایشیائی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یسوع نے خدا کی محبت کو کہانیوں، عاجزانہ ملاقاتوں، شفا اور معافی کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا، اور آج بھی کلیسیا کو اِسی طرزِ خدمت کو اپنانا چاہیے۔
مستقبل کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایف اے بی سی دفتر برائے بشارتی امور، دفتر برائے بین المذاہب و بین الکلیسیائی امور (FABC-OEIA)اور دفتر برائے الٰہیاتی امور (FABC-OTC) کے اشتراک سے انجیل اور مقامی روایتی طرزِ زندگی کے موضوع پر 2 تا 5 دسمبر 2026 تک تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں واقع”کیمیلیئن پاسٹرل سینٹر“میں ایک کانفرنس منعقد ہو گی۔ اس کانفرنس میں ایشیا بھر سے بشپ صاحبان، کاہن صاحبان اور عام مسیحی قائدین شریک ہوں گے۔
اس کانفرنس کا مقصد مقامی برادریوں کی آواز کو نمایاں کرنا، انجیل اور مقامی ثقافتوں کے درمیان بہتر رابطہ پیدا کرنا، اور اْن معاشروں سے سیکھنا ہے جو موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز کے باوجود صدیوں سے اپنی آبائی زمینوں کی پائیدار انداز میں حفاظت کرتے آئے ہیں۔
آخر میں آرچ بشپ سائمن پوہ نے اْمید ظاہر کی کہ مسیح کی شفقت، مفاہمت اور شفا بخش محبت ایشیا بھر میں کیتھولک مومنین اور کلیسیائی قائدین کی زندگیوں میں نمایاں ہوگی، جس کے نتیجے میں ایک زیادہ پُرامن، ہم آہنگ اور باہمی احترام پر مبنی معاشرہ تشکیل پائے گا۔
 

Daily Program

Livesteam thumbnail