ایشیا میں کلیسیا کے لیے پْل تعمیر کرنا کیوں اہم ہے؟
ایشیا میں کیتھولک بشپ صاحبان کی تنظیم (ایف اے بی سی) کی آئندہ جنرل اسمبلی، جو 20 سے 26 جولائی تک انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں منعقد ہوگی، کے مرکزی موضوع ”سنڈی تبدیلی اور ایشیا میں پل اور پل بنانے والوں کا مشن“ نے کلیسیا کے لیے ایک نہایت بروقت اور اہم پیغام پیش کیا ہے۔
”پْل تعمیر کرنے“ کی اصطلاح پوپ فرانسس کی تعلیمات سے گہرا تعلق رکھتی ہے، جنہوں نے بارہا مسیحیوں پر زور دیا کہ وہ ”دیواریں نہیں بلکہ پْل تعمیر کریں۔“ ان کے نزدیک خوف، نفرت اور دوسروں کو خارج کرنا کبھی بھی حقیقی مسیحی گواہی کی بنیاد نہیں بن سکتے۔
2024 میں انڈونیشیا کے اپنے پاسبانی دورے کے دوران پوپ فرانسس نے اس نظریے کو عملی مثالوں کے ذریعے واضح کیا۔ انہوں نے گوتونگ روؤنگ (باہمی تعاون اور یکجہتی) کے انڈونیشی اصول کو سراہا، جو برسوں سے اس ملک کی سماجی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے جکارتہ کی ”ٹنل آف فرینڈشپ“ (دوستی کی سرنگ) کا بھی ذکر کیا، جو ”استقلال مسجد“اور کیتھیڈرل آف آور لیڈی آف دی اسمپشن“ کو آپس میں ملاتی ہے۔ پوپ فرانسس نے اسے اس بات کی علامت قرار دیا کہ مختلف مذاہب کے ماننے والے اپنے اپنے عقائد پر قائم رہتے ہوئے بھی مکالمہ، تعاون اور باہمی احترام کو فروغ دے سکتے ہیں۔
پْل تعمیر کرنے اور مکالمہ کی یہ سوچ صرف پوپ فرانسس کی نہیں بلکہ اْن کے پیش رو پوپ صاحبان کی تعلیمات میں بھی نمایاں رہی ہے۔
1999 میں جاری ہونے والی دستاویز کلیسیا اِن ایشیامیں ”مقدس پوپ جان پال دوم“ نے مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے ساتھ مکالمہ کو کلیسیا کے بشارتی مشن کا لازمی حصہ قرار دیا۔ انہوں نے مسیحیوں پر زور دیا کہ وہ ایشیا کی روحانی روایات کے ساتھ احترام اور مضبوط ایمان کے ساتھ تعلق قائم کریں۔اسی طرح پوپ بیناڈکٹ سولہویں نے اس بات پر زور دیا کہ ایمان جبر سے نہیں بلکہ معقول، باوقار اور بامعنی مکالمہ سے فروغ پاتا ہے۔
ان تینوں پوپ صاحبان کی تعلیمات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ پْل تعمیر کرنا کوئی سفارتی حکمتِ عملی یا تعلقاتِ عامہ کا
1970 میں اپنے قیام سے ہی فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز (FABC)نے جس تصور کو فروغ دیا، اسے”تین جہتی مکالمہ“ کہا جاتا ہے:
* ایشیا کی ثقافتوں کے ساتھ مکالمہ
* مختلف مذاہب کے ساتھ مکالمہ
* غریب اور محروم لوگوں کے ساتھ مکالمہ
یہ نظریہ اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ ایشیا میں کلیسیا کی بشارت کا انحصار ادارہ جاتی طاقت سے زیادہ اعتماد، احترام اور یکجہتی پر مبنی تعلقات پر ہے۔ایشیا کے مختلف ممالک میں کلیسیائی رہنماؤں نے اس وژن کو عملی جامہ پہنایا۔
طریقہ نہیں بلکہ انجیلِ مقدس کا عملی اظہار ہے۔
تھائی لینڈ میں کارڈینل مائیکل میچائی کٹ بونچو نے بدھ مت برادری کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے۔بھارت میں کارڈینل اوسوالڈ گریشیاس نے ہمیشہ مختلف مذاہب کے درمیان مکالمے کی حوصلہ افزائی کی۔
انڈونیشیا میں کارڈینل اگناشیئس سوہاریو ہارجوماتمودجونے دیگر مذاہب کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کیا اور یہ ثابت کیا کہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہتے ہوئے بھی تعاون اور باہمی احترام ممکن ہے۔
جنوبی کوریا میں کارڈینل اسٹیفن کم سو ہوان نے ملک کی جمہوری تحریک کے دوران امن، انصاف اور مصالحت کی آواز بلند کی اور کلیسیا کے دروازے جمہوریت کے کارکنوں کے لیے کھول دیے۔
فلپائن میں کارڈینل جائمے سن نے 1986 کی پیپلز پاور تحریک کے دوران پرامن سیاسی تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا اور خونریزی سے بچانے میں کلیسیا کی اخلاقی قیادت فراہم کی۔
ملائیشیا کے مرحوم کارڈینل انتھونی سوٹر فرنانڈیزبھی مختلف مذہبی اور نسلی برادریوں میں یکساں احترام رکھتے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ مکالمہ ایمان سے سمجھوتہ نہیں بلکہ ایمان کا عملی اظہار ہے۔ انہوں نے 1983 میں قائم ہونے والی ملائیشین کنسلٹیٹو کونسل آف بدھ ازم، مسیحت، ہندومت، سکھ مت اور تاؤ مت (MCCBCHST) میں نمایاں کردار ادا کیا۔
آج بھی میانمارکے کارڈینل چارلس مونگ بو ملک میں جاری تنازعات کے دوران مفاہمت اور امن کی آواز بلند کر رہے ہیں، جبکہ کارڈینل لوئس انتونیو ٹیگلے اپنی عاجزی، لوگوں کو سننے اور ان کے ساتھ چلنے والی خدمت گزار قیادت کے لیے دنیا بھر میں معروف ہیں۔
ان تمام رہنماؤں کے حالات مختلف رہے، لیکن ان سب کا مشترکہ یقین یہی تھا کہ کلیسیا اس وقت سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے جب وہ رکاوٹ نہیں بلکہ پْل بن جاتی ہے۔
پْل تعمیر کرنے کا عمل صرف بین المذاہب مکالمہ تک محدود نہیں۔ایشیا میں کلیسیا کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ بہت سے ممالک میں کیتھولک آبادی اقلیت میں ہونے کے باوجود اس کی خدمات کا اثر بہت وسیع ہے۔
کلیسیا نے اپنے اسکولوں، اسپتالوں، سماجی خدمات اور فلاحی اداروں کے ذریعے بغیر کسی مذہبی یا نسلی امتیاز کے سب لوگوں کی خدمت کی ہے۔ یہی بے لوث خدمت کلیسیا کی ساکھ اور اعتبار کی اصل بنیاد ہے، نہ کہ اس کی تعداد یا سیاسی طاقت۔
کئی اہم پل عام کیتھولک مومن خاموشی سے تعمیر کرتے ہیں؛ جیسے پیرش کے رضاکار جو بین المذاہب سرگرمیوں کا اہتمام کرتے ہیں، مذہبی سسٹرز جو غریبوں کی خدمت کرتی ہیں، اْساتذہ جو مختلف پس منظر رکھنے والے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں اور وہ کمیونٹیز جو قدرتی آفات کے بعد مل کر متاثرین کی مدد کرتی ہیں۔
آج دنیا بڑھتی ہوئی تقسیم، عدم اعتماد اور کشیدگی کا شکار ہے۔ ایسے وقت میں کلیسیا کا مشن اختلافات کو ختم کرنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ یہ اختلافات کبھی بھی انسانی وقار، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔
اسی لیے FABC کی جنرل اسمبلی میں ”پْل تعمیر کرنے“ پر دیا جانے والا زور صرف ایک پاسبانی حکمتِ عملی نہیں بلکہ کلیسیا کا ایک جامع وژن ہے۔ایسی کلیسیا جو فیصلہ سنانے سے پہلے سنتی ہے، تعلیم دینے سے پہلے لوگوں کے ساتھ چلتی ہے، اور تصادم سے پہلے ملاقات اور مکالمہ کو ترجیح دیتی ہے۔
اگر جکارتہ میں جمع ہونے والے بشپ صاحبان اس وژن کی تجدید کرتے ہیں تو وہ ”مقدس پوپ جان پال دوم“ کے مکالمہ کے تصور،”پوپ بیناڈکٹ سولہویں“ کے معقول گفت و شنید کے پیغام، ”پوپ فرانسس“کی بھائی چارے کی دعوت اور ایشیا کے کلیسیائی رہنماؤں جیسے کارڈینل اسٹیفن کم سو ہوان، کارڈینل جائمے سن، کارڈینل چارلس مونگ بو، کارڈینل لوئس انتونیو ٹیگلے اور کارڈینل اگناشیئس سوہاریوکی روشن روایت کو آگے بڑھائیں گے۔
ایشیا جیسے متنوع براعظم میں کلیسیا کا سب سے موثر اور نبوی کردار شاید یہی ہے کہ وہ تقسیم کی کسی ایک جانب کھڑی ہونے کے بجائے مکالمہ، انکساری اور خدمت کے ذریعے انسانوں کو آپس میں جوڑنے والا ایک مضبوط پل بن جائے۔