تبدیلی، تبدیلی، تبدیلی: کارڈینل اگناشیئس سُہاریو کا ایشیائی کلیسیا کے لیے چیلنج
جکارتہ کے آرچ بشپ کارڈینل اگناشیئس سُہاریو نے ایف اے بی سی کی 12ویں جنرل اسمبلی کے پیغام کو انہی تین الفاظ میں سمیٹتے ہوئے کہا ہے کہ کلیسیا کا سنڈی سفر کسی بھی ادارہ جاتی یا ساختی تبدیلی سے پہلے دلوں کی تبدیلی سے شروع ہوتا ہے۔24جولائی کو ہوٹل مولیا کے لیٹریس میڈیا روم میں اجلاس کی دوسری پریس کانفرنس کے دوران قومی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کارڈینل سُہاریو نے کہا کہ ایک ہفتے پر محیط اس اجتماع میں بار بار اس یقین پر زور دیا گیا کہ حقیقی تجدید ذاتی اور اجتماعی تبدیلی سے شروع ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف اے بی سی کی 12ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس کا موضوع سنڈی تبدیلی ہے اور یہ ان تمام افراد کے لیے بھی دعوت ہے جو اہم اور فیصلہ کن عہدوں پر فائز ہیں کہ وہ اپنی قیادت اور خدمت میں تبدیلی کو اپنائیں۔
اگرچہ اجلاس کے دوران ایشیا کو درپیش سماجی اور معاشی چیلنجز پر بھی گفتگو ہوئی، تاہم کارڈینل سُہاریو نے واضح کیا کہ بشپ صاحبان سیاسی معاملات پر گفتگو نہیں کر رہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا اجتماع سیاست سے متعلق نہیں بلکہ ایک اخلاقی دعوت کے بارے میں ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ کلیسیا سیاسی حل پیش کرنے کی بجائے ان افراد کے اخلاقی شعور کو بیدار کرنے کی کوشش کرتی ہے جنہیں قیادت اور عوامی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔کارڈینل سُہاریو کے مطابق تبدیلی محض ایک ذاتی روحانی تجربہ نہیں بلکہ ایسی تبدیلی ہونی چاہیے جو معاشروں کے نظم و نسق اور قیادت کے طریقہ کار کو بھی متاثر کرے۔ انہوں نے قیادت کی ذمہ داری ادا کرنے والوں کے لیے کیتھولک سماجی تعلیم کے اصولوں کو اہم رہنما قرار دیا۔
انہوں نے سب سے پہلے ہر انسانی عظمت کے احترام کو بنیادی اْصول قرار دیا۔ ان کے مطابق ایشیا کے کئی حصوں میں انسانی عظمت کو اب بھی مطلوبہ تحفظ حاصل نہیں، اس لیے حقیقی تبدیلی کا تقاضا ہے کہ ہر انسان کو سماجی، معاشی اور سیاسی زندگی کے مرکز میں رکھا جائے۔انہوں نے دوسری اہم ترجیح مشترکہ بھلائی کو قرار دیا، خصوصاً ایسے براعظم میں جہاں لاکھوں افراد اب بھی غربت کا سامنا کر رہے ہیں۔ کارڈینل سُہاریو نے کہا کہ امیر اور غریب کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ایشیا کے بڑے چیلنجز میں شامل ہے اور اس صورتِ حال میں معاشرے کے محروم طبقات کے ساتھ نئی یکجہتی کی ضرورت ہے۔انہوں نے بدعنوانی کو بھی ایک سنگین اخلاقی مسئلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق بدعنوانی صرف معیشت کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ لوگوں کے مواقع چھینتی، عوامی اعتماد کو کمزور کرتی اور انصاف کو متاثر کرتی ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف ادارہ جاتی اصلاحات کافی نہیں بلکہ ضمیر کی تبدیلی بھی ضروری ہے۔
ماحولیاتی ذمہ داری بھی کارڈینل سُہاریو کی گفتگو کا اہم موضوع رہی۔ انہوں نے ماحولیاتی تباہی کو انسانی لالچ سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اکثر غریب ترین برادریاں ماحولیاتی نقصان کے سب سے زیادہ اثرات برداشت کرتی ہیں۔ ان کے مطابق تخلیق کی حفاظت انسانی عظمت کے تحفظ اور مشترکہ بھلائی کے فروغ سے جدا نہیں کی جا سکتی۔اجلاس کی گفتگو کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کارڈینل سُہاریو ایک بار پھر اپنے مرکزی پیغام کی طرف لوٹے یعنی تبدیلی، تبدیلی، تبدیلی۔انہوں نے وضاحت کی کہ اس تکرار سے بشپ صاحبان کے اس مشترکہ یقین کی عکاسی ہوتی ہے کہ کلیسیا یا معاشرے میں ہونے والی ہر پائیدار تبدیلی کا آغاز دل کی تبدیلی سے ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بحیثیت انڈونیشیا کے شہری اور کلیسیا کے فرد کے طور پر وہ اس پیغام کو ہر شخص کے لیے ایک دعوت سمجھتے ہیں۔کارڈینل سُہاریو نے کہا کہ یہ دعوت صرف کیتھولک افراد تک محدود نہیں بلکہ حکومت، کاروبار، تعلیم اور سول سوسائٹی سمیت ہر شعبہ میں ذمہ دار عہدوں پر فائز افراد کے لیے بھی ہے۔ ان سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ انسانی عظمت، مشترکہ بھلائی، غریبوں کے ساتھ یکجہتی، دیانت داری اور تخلیق کی حفاظت کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔کارڈینل اگناشیئس سُہاریو کا سادہ مگر پُرزور پیغام اس اجتماع کے نمایاں نکات میں سے ایک بن کر سامنے آیا ہے کہ کلیسیا اور معاشرے کا مستقبل نئے منصوبوں یا پالیسیوں سے پہلے ایسے دلوں کی تبدیلی کا تقاضا کرتا ہے جو حقیقی تبدیلی کی راہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہوں۔