ماں کی صحت بھی ہے ضروری!

یہ حقیقت ہے اور اس سے انکار ممکن نہیں کہ ماں اپنے بچے کو دْنیا میں لانے کے لئے کتنی مشکلات سے گزرتی ہے۔ہم اتنے ترقی یافتہ زمانے میں رہ رہے ہیں مگر اْس کے باوجود کہیں نہ کہیں ہماری سوچ اپ ڈیٹ نہیں ہوئی۔آج بھی بہت لوگ ایسا کرتے ہیں کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو بے حد خوش ہوتے ہیں،ہونا بھی چاہئیے۔لیکن بچے کی ماں کو اْس کی صحت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔اگر تو بیٹا پیدا ہو جائے تو بعض اوقات اچھی دیکھ بھال کچھ دیر کے لئے مل جاتی ہے اور اگر بیٹی ہو جائے تو پھر عموماً سوکھی روٹی سے ہی گزارہ کرنا پڑتا ہے۔سارا جتن اور لاڈ صرف بچے کے لئے ہوتا ہے۔وہ ناصرف ماں کے لئے بلکہ سارے خاندان کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔
لیکن ماں،جس کے جسم میں کمزوری ہو چکی ہے۔وہ نیند کی کمی کی وجہ سے دماغی تناؤ کا شکار ہے۔وہ خود سے نہا نہیں سکتی ہے۔ہو سکتا ہے وہ اپنے بستر پر بیٹھی رو رہی ہو، اپنے جسم میں دل و دماغ میں ہونے والی تبدیلیوں کی بدولت پریشان ہو۔دور سے کرہ رہی ہو۔لیکن کسی کو بھی نہ تو اْس کا دکھ و درد نظر آتا ہے نہ ہی پریشانی دکھائی دیتی ہے۔انہی پریشانیوں سے اْبھر نے کیلئے وہ اندر ہی اند ر کوشش کرنا شروع کرتی ہے لیکن اگر نہیں کر پاتی تو اْس کی حالت کو سمجھنے کی بجائے اکژ اْسے یہی کہا جاتا ہے تم انوکھی ماں تو نہیں بنی۔ساری خواتین ہی اولاد پیدا کرتیں ہیں۔جبکہ اس دورانیہ میں ایک عورت جو ماں بنی ہے اْسے بہت ہی زیادہ پیار اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک ماں کو اس بات سے خوشی ہوتی ہے کہ ْاس کا بچہ زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔سبھی اْسے پیار کرتے ہیں۔لیکن ذرا سوچیں جس نے اتنی تکلیف سہی اور بچہ پیدا کیا،کیا وہ اہمیت کی حامل نہیں ہے؟ 
جس نے بچے کو دودھ پلا نا ہے کیا اْسے اچھا کھانا کھانے کی ضرورت نہیں؟
نوزائیدہ  بچے کے رونے کی آواز ہی سب کو اپنی طرف راغب کر لیتی ہے تو کیا ماں کا رونا نظر انداز کرنا ٹھیک بات ہے؟ بچہ سب کی جان بنا ہوتا ہے تو جس نے اپنی جان کی پرواہ کئے بنا بچے کو جنم دیا اْس کی کو ئی قدر نہیں؟اس لئے بچے سے زیادہ ماں کو توجہ،محبت اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ ماں تندرست ہوگی تو بچہ بہتر نشوونما پائے گا۔
ایک ماں وہ وقت ہمیشہ یاد رکھتی ہے کہ اْسے اْس کے مشکل وقت میں کس نے اور کیسے سنبھالا؟
تو آ ئیں اس بار ماؤں کے عالمی دن پہ خود سے یہ عہد کریں کہ آپ کانئی ماں بنے والی سے جو بھی رشتہ ہو۔آپ اْس کی دیکھ بھال کرنے اپنا فرض ضرور ادا کریں گے۔جب بھی کوئی نونحال پیدا ہو تو ایسا کہنے کی بجائے کہ،میں بچے کو ملنے آ رہا ہوں۔یہ کہنے کی عادت اپنائیں کہ میں ماں سے ملنے آرہا ہوں اور ساتھ میں بچے سے بھی ملوں گا۔یقین مانیں آپ کے یہ الفاظ اْس نئی ماں بننے والی لڑکی کے لئے جادوئی کام کریں گے اور وہ نا صرف جسمانی طور پر بلکہ ہر لحاظ سے جلد صحت یاب ہوگی۔
کیونکہ یہ سچ ہے کہ بچے سے زیاد ماں کو دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ 
 

Add new comment

10 + 1 =