الفاظ کا زخم کلہاڑی کے زخم سے زیادہ گہرا ہوتا ہے۔
ایک گھنے جنگل کے قریب ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا۔ وہ روزانہ صبح اپنی کلہاڑی اٹھا کر جنگل جاتا، لکڑیاں کاٹتا اور انہیں بازار میں فروخت کرکے اپنے گھر کا خرچ چلاتا تھا۔ زندگی مشکل ضرور تھی، مگر وہ محنتی، نرم دل اور دوسروں کا درد سمجھنے والا انسان تھا۔ ایک دن جنگل میں لکڑیاں کاٹتے ہوئے اس کی ملاقات ایک شیر سے ہوئی۔ شیر شدید تکلیف میں تھا کیونکہ اس کے پنجے میں ایک بڑا کانٹا گہرا دھنس گیا تھا۔ وہ درد سے بے چین ہو کر زمین پر لوٹ رہا تھا۔ لکڑہارے کو شیر پر رحم آگیا۔ اپنی جان کی پروا کیے بغیر وہ آہستہ آہستہ شیر کے قریب گیا اور اس کے پنجے سے کانٹا نکال دیا۔ شیر نے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ اس نے چند لمحوں تک لکڑہارے کو غور سے دیکھا اور پھر خاموشی سے جنگل میں چلا گیا۔ لکڑہارے نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ چھوٹی سی ملاقات ایک ایسی دوستی کا آغاز بن جائے گی جس کی مثال شاید ہی کہیں ملے۔
وقت گزرتا گیا اور لکڑہارے اور شیر کے درمیان گہری دوستی قائم ہوگئی۔ اب جب بھی لکڑہارا جنگل میں آتا، شیر کہیں نہ کہیں سے اس کے پاس آجاتا۔ لکڑہارے کو شیر سے خوف محسوس نہیں ہوتا تھا اور شیر بھی اسے اپنا دوست سمجھنے لگا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کی موجودگی کے عادی ہوگئے تھے۔ ایک دن دونوں جنگل میں بہت دور تک چلتے رہے۔ سارا دن گرمی اور تھکن میں گزر گیا۔ آخرکار دونوں بری طرح تھک گئے۔ سامنے ایک گھنا درخت تھا جس کے نیچے ٹھنڈی چھاؤں پھیلی ہوئی تھی۔ لکڑہارا درخت کے نیچے لیٹ گیا اور شیر بھی اس کے پاس آکر آرام کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد شیر نے بڑی محبت سے اپنا سر اٹھایا اور لکڑہارے کی گود میں رکھ دیا۔ ایک خطرناک شیر کا اپنے دوست انسان پر اتنا اعتماد دیکھ کر لکڑہارا بھی خوش ہوا، لیکن پھر نہ جانے کیوں اس نے شیر کو قریب سے دیکھا اور کہا کہ تمہارے جسم سے بو آ رہی ہے۔ یہ کہتے ہوئے اس نے شیر کا سر اپنی گود سے ہٹا دیا۔
شیر ایک دم خاموش ہوگیا۔ وہ لکڑہارے کو دیکھتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت بھی تھی اور دْکھ بھی۔ وہ شاید یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ جس انسان پر اس نے اتنا اعتماد کیا، اسی نے آج اس کے وجود کو ناپسند کر دیا۔ شیر نے کوئی شکایت نہیں کی، کوئی غصہ نہیں دکھایا، بس خاموشی سے اٹھا اور وہاں سے چلا گیا۔ لکڑہارے نے اس وقت اس بات کو معمولی سمجھا اور اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ اس کے ایک جملے نے شیر کے دل میں کتنی گہری چبھن پیدا کردی ہے۔چند دن گزر گئے، مگر شیر دوبارہ لکڑہارے سے ملنے نہیں آیا۔ پہلے لکڑہارے نے زیادہ توجہ نہیں دی، لیکن جب کئی دن گزر گئے تو اسے اپنے دوست کی کمی محسوس ہونے لگی۔ وہ جنگل میں لکڑیاں کاٹتے ہوئے بار بار اِدھر اُدھر دیکھتا، شاید شیر کہیں نظر آجائے۔ وہ ان جگہوں پر بھی جاتا جہاں دونوں اکثر بیٹھا کرتے تھے، مگر شیر کہیں دکھائی نہ دیتا۔ آخر ایک دن لکڑہارا بہت اداس ہوگیا اور اس نے دل ہی دل میں کہا کہ شاید میں نے اپنا ایک اچھا دوست کھو دیا ہے۔ پھر ایک دن لکڑہارا حسبِ معمول جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا کہ اچانک اسے جھاڑیوں کے پیچھے سے کسی کے قدموں کی آواز سنائی دی۔ وہ رک گیا۔ اس نے آہستہ سے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کی آنکھیں خوشی سے بھر آئیں۔ وہی شیر اس کے سامنے کھڑا تھا۔ لکڑہارا کچھ لمحوں تک یقین ہی نہ کرسکا، پھر خوشی سے شیر کے قریب گیا۔ اس نے محبت سے شیر کو دیکھا اور کہا کہ میرے دوست، میں نے تمہیں صرف ایک شیر نہیں بلکہ اپنا ایک سچا دوست سمجھا تھا، اور جب تم مجھ سے دور ہوئے تو مجھے احساس ہوا کہ میں نے تمہیں کتنا یاد کیا۔
شیر خاموشی سے لکڑہارے کی بات سنتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں نہ غصہ تھا اور نہ نفرت، لیکن ایک گہرا دکھ ضرور تھا۔ کچھ لمحوں بعد شیر نے لکڑہارے سے کہا کہ میری ایک بات مانو۔ لکڑہارے نے فوراً کہا کہ کہو، میں ضرور مانوں گا۔ شیر نے اپنی کمر لکڑہارے کی طرف کردی اور کہا کہ اپنی کلہاڑی سے میری کمر پر ایک ضرب لگاؤ۔ لکڑہارا یہ سن کر حیران رہ گیا۔ اس نے کہا کہ میں تمہیں زخمی نہیں کرنا چاہتا۔ شیر نے اصرار کیا کہ بس ایک وار کرو۔ لکڑہارا بہت تذبذب کا شکار ہوا، لیکن آخرکار شیر کے کہنے پر اس نے اپنی کلہاڑی اٹھائی اور شیر کی کمر پر ایک ضرب لگائی۔ شیر کی کمر پر زخم ہوگیا اور خون نکل آیا۔ لکڑہارا گھبرا گیا اور فوراً پچھتانے لگا کہ اس نے یہ کیا کردیا، لیکن شیر نے اسے کچھ نہیں کہا۔ وہ خاموشی سے وہاں سے چلا گیا اور صرف اتنا کہا کہ اب اس زخم کو وقت کے حوالے کردو۔دن گزرتے گئے۔ کچھ عرصے بعد شیر دوبارہ لکڑہارے کے پاس آیا۔ لکڑہارے نے جب شیر کی کمر کو دیکھا تو حیران رہ گیا۔ کلہاڑی کا زخم تقریباً بھر چکا تھا۔ شیر نے لکڑہارے کی طرف دیکھا اور کہا کہ دیکھو، تمہاری کلہاڑی کا زخم وقت کے ساتھ بھر گیا ہے۔ لکڑہارا خاموش کھڑا رہا۔ پھر شیر نے آہستہ سے کہا کہ لیکن تمہارے الفاظ سے میرے دل پر جو زخم لگا تھا، وہ اتنی آسانی سے نہیں بھرا۔ لکڑہارے کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ شیر نے کہا کہ کلہاڑی نے میرے جسم کو زخمی کیا تھا، لیکن تمہارے الفاظ نے میرے دل کو زخمی کیا۔ جسم کا زخم دکھائی دیتا ہے، اس پر دوا لگائی جاسکتی ہے، پٹی باندھی جاسکتی ہے اور وقت اسے بھر دیتا ہے، لیکن دل کا زخم نظر نہیں آتا۔ انسان مسکراتا رہتا ہے، خاموش رہتا ہے اور بظاہر معمول کے مطابق زندگی گزارتا ہے، مگر اس کے دل میں کہے گئے الفاظ بار بار گونجتے رہتے ہیں۔
لکڑہارا شیر کی بات سن کر خاموش ہوگیا۔ اس دن اسے ایک ایسی حقیقت سمجھ آئی جسے وہ شاید پوری زندگی نہیں بھول سکتا تھا۔ ہم اپنے ہاتھوں سے دیا ہوا زخم دیکھ سکتے ہیں، لیکن اپنی زبان سے دیا ہوا زخم اکثر دیکھ ہی نہیں پاتے۔ ہم غصے میں، مذاق میں یا بے خیالی میں کسی سے ایسی بات کہہ دیتے ہیں جسے ہم چند لمحوں بعد بھول جاتے ہیں، لیکن ممکن ہے وہ شخص اس بات کو برسوں تک اپنے دل میں لیے پھرے۔ کسی بچے کی حوصلہ شکنی، کسی دوست کی بے قدری، کسی اپنے کی توہین یا کسی کی کمزوری کا مذاق بظاہر معمولی بات لگ سکتی ہے، مگر اس کا اثر بہت گہرا ہوسکتا ہے۔
ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ زبان سے نکلا ہوا لفظ واپس نہیں آتا۔ کلہاڑی کا زخم وقت کے ساتھ بھر سکتا ہے، مگر الفاظ کا زخم کبھی کبھی انسان کے دل میں بہت دیر تک زندہ رہتا ہے۔ اس لیے جب بھی غصہ آئے، کسی سے اختلاف ہو یا زبان پر کوئی سخت جملہ آئے تو ایک لمحے کے لیے رک کر ضرور سوچیں کہ ہمارے الفاظ سامنے والے کے دل پر کیا اثر ڈال سکتے ہیں۔ کیونکہ بعض اوقات خاموشی وہ بات کہہ دیتی ہے جو سخت الفاظ کبھی نہیں کہہ سکتے۔ اپنی زبان کو دوسروں کے دل کے لیے زخم نہیں بلکہ مرہم بنائیں، کیونکہ جسم کا زخم نظر آتا ہے، مگر الفاظ کا زخم صرف محسوس ہوتا ہے۔
