کیا ہمارے گھروں میں بات چیت ختم ہو رہی ہے؟
کبھی گھر میں شام اترتی تھی تو لگتا تھا جیسے دن بھر کی تھکن دروازے پر ہی رک گئی ہو۔ ماں کچن سے آواز دیتی، بیٹی اپنے دن کی باتیں سناتی، بیٹا سکول کا کوئی قصہ لے کر بیٹھ جاتا، والد کام سے واپس آتے تو بچے ان کے گرد جمع ہو جاتے۔ کسی کے پاس کوئی خاص موضوع نہیں ہوتا تھا، پھر بھی باتیں ختم نہیں ہوتی تھیں۔ کبھی ہنسی گونجتی، کبھی کسی بات پر ناراضگی ہوتی، کبھی کسی بزرگ کی پرانی یاد سب کو خاموش کر دیتی، مگر گھر میں زندگی محسوس ہوتی تھی۔آج ہمارے پاس بات کرنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ ذرائع موجود ہیں، مگر شاید بات کرنے کے لیے وقت کم پڑ گیا ہے۔ ایک ہی گھر میں چار افراد بیٹھے ہیں، چاروں کے ہاتھوں میں موبائل ہیں، چاروں کی نظریں الگ اسکرینوں پر ہیں اور چاروں اپنی اپنی دنیا میں مصروف ہیں۔ کمرے میں مکمل خاموشی ہے، لیکن ہر موبائل کے اندر شور ہے۔ کوئی ویڈیو دیکھ رہا ہے، کوئی پیغام لکھ رہا ہے، کوئی سوشل میڈیا پر دوسروں کی زندگی دیکھ رہا ہے اور کوئی ایسی دنیا میں کھویا ہوا ہے جہاں گھر میں بیٹھے اپنے لوگ بھی اس لمحے اجنبی محسوس ہونے لگتے ہیں۔
کبھی ماں کے پاس بیٹھنا سکون تھا، اب ماں کی آواز اکثر موبائل کی گھنٹی میں دب جاتی ہے۔ کبھی والد کے گھر آنے کا مطلب تھا کہ بچے ان کے گرد بیٹھ کر دن بھر کی کہانیاں سنائیں گے، اب والد بھی تھکے ہوئے آتے ہیں اور بچے بھی اپنی اپنی اسکرینوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے لوگ ایک دوسرے سے اتنے دور ہو گئے ہیں کہ کبھی کبھی انہیں ایک دوسرے سے بات کرنے کے لیے بھی پیغام بھیجنا پڑتا ہے۔سب سے زیادہ خاموشی شاید بچوں کے دلوں میں اْتر رہی ہے۔ ایک بچہ جب ماں سے کہتا ہے، امی میری بات سنیں، اور جواب ملتا ہے، ہاں بیٹا، بولو، مگر ماں کی نظریں موبائل پر ہی رہتی ہیں، تو بچہ شاید اپنے الفاظ روک لیتا ہے۔ وہ خاموشی سے وہاں سے چلا جاتا ہے۔ اگلی بار وہ شاید اپنی بات نہ بتائے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ اپنی خوشیاں بھی کسی اور کے ساتھ بانٹنے لگتا ہے، اپنے خوف بھی، اپنے سوال بھی اور اپنے راز بھی۔ہم اکثر کہتے ہیں کہ بچے ہم سے بات نہیں کرتے، مگر کبھی خود سے یہ سوال نہیں کرتے کہ کیا ہم نے واقعی ان کے لیے سننے کا وقت نکالا؟
بچے ہمیشہ لمبی گفتگو نہیں چاہتے۔ کبھی وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ جب وہ بولیں تو ہماری آنکھیں ان کی طرف ہوں۔ جب وہ اپنی کوئی معمولی سی تصویر دکھائیں تو ہم اسے اہم سمجھیں۔ جب وہ اسکول کا کوئی چھوٹا سا واقعہ سنائیں تو ہم موبائل ایک طرف رکھ کر مسکرا دیں۔ ان کے لیے ہماری چند منٹ کی توجہ شاید دنیا کے کسی مہنگے تحفے سے زیادہ قیمتی ہو۔اسی طرح گھر کے بزرگ بھی صرف ہمارے وقت کے چند ٹکڑے مانگتے ہیں۔ جب ایک دادی یا نانی ایک ہی قصہ بار بار سناتی ہیں تو شاید انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہ قصہ پہلے بھی سن چکے ہیں، مگر وہ پھر بھی سنانا چاہتی ہیں، کیونکہ کہانی سے زیادہ انہیں ہماری قربت چاہیے۔ جب کوئی بزرگ خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھا رہتا ہے تو ضروری نہیں کہ اسے کوئی بات نہیں کرنی؛ ممکن ہے وہ صرف کسی کے پاس آ کر بیٹھنے کا انتظار کر رہا ہو۔
اور میاں بیوی کے درمیان بھی خاموشی کبھی کبھی بہت کچھ کہتی ہے۔ دونوں ایک ہی صوفے پر بیٹھے ہوں، مگر ایک دوسرے سے بات نہ کریں۔ دونوں ایک ہی کمرے میں ہوں، مگر توجہ کہیں اور ہو۔ دن گزرتے جائیں، ہفتے گزرتے جائیں اور پھر ایک دن احساس ہو کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے بہت دور ہو چکے ہیں۔ رشتوں میں فاصلے ہمیشہ جھگڑوں سے پیدا نہیں ہوتے؛ کبھی مسلسل نظرانداز کیے جانے سے بھی دل آہستہ آہستہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
موبائل فون خود مسئلہ نہیں۔ یہ ہماری ضرورت بھی ہے، ہمارے کام کا ذریعہ بھی، تعلیم کا وسیلہ بھی اور دنیا سے رابطے کا ایک اہم ذریعہ بھی۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اسے استعمال کر رہے ہیں یا یہ ہماری توجہ کو استعمال کر رہا ہے؟ کیا ہم موبائل کو ضرورت کے وقت اٹھاتے ہیں یا ہر فارغ لمحے میں اس کی طرف ہاتھ بڑھ جاتا ہے؟ کیا ہم گھر کے کسی فرد کی بات سننے سے پہلے نوٹیفکیشن دیکھتے ہیں؟ کیا ہمیں اپنے قریبی لوگوں کی موجودگی سے زیادہ دور بیٹھے لوگوں کی آن لائن موجودگی اہم لگنے لگی ہے؟
شاید ہمیں اپنے گھروں میں ایک چھوٹی سی تبدیلی سے آغاز کرنا چاہیے۔ کھانے کی میز پر موبائل نہ ہوں۔ سونے سے پہلے چند منٹ صرف خاندان کے لیے ہوں۔ دن میں ایک وقت ایسا ہو جب سب ایک دوسرے سے بات کریں، چاہے صرف دس منٹ کے لیے۔ کوئی اپنے دن کی سب سے اچھی بات بتائے، کوئی اپنی پریشانی، کوئی اپنی خواہش اور کوئی صرف خاموش بیٹھ کر دوسروں کو سنے۔
کبھی کبھی گھر کو بچانے کے لیے بڑے فیصلوں کی نہیں، چھوٹی چھوٹی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایک ماں کا اپنے بچے کے بالوں میں ہاتھ پھیر دینا، ایک والد کا بیٹے سے کہنا آج سکول کیسا رہا، ایک بیٹی کا ماں کے پاس بیٹھ کر چائے پینا، ایک شوہر کا بیوی سے پوچھنا تم تھک گئی ہو؟ اور ایک بیوی کا اپنے شوہر سے کہنا آج آپ بہت خاموش ہیں۔یہ بظاہر معمولی جملے ہیں، مگر یہی جملے مکانوں کو گھر بناتے ہیں۔
ہم ایک ایسی دنیا میں داخل ہو چکے ہیں جہاں لوگ اپنی زندگی کے ہر لمحے کی تصویر دوسروں کو دکھاتے ہیں، مگر کبھی کبھی اپنے ہی گھر کے لوگوں کو اپنی اصل کیفیت بتانا بھول جاتے ہیں۔ ہمارے پاس سینکڑوں آن لائن دوست ہیں، ہزاروں فالوورز ہیں، بے شمار پیغامات ہیں، مگر کیا ہمارے پاس کوئی ایسا شخص بھی ہے جو ہماری آنکھوں میں چھپی تھکن پڑھ سکے؟ کوئی ایسا جو ہمارے خاموش ہونے کی وجہ پوچھ سکے؟ کوئی ایسا جس کے سامنے ہمیں اپنے دل کی بات کہنے کے لیے الفاظ تلاش نہ کرنے پڑیں؟
گھر میں گفتگو ختم ہونا صرف آوازوں کا ختم ہونا نہیں۔ یہ جذبات کے درمیان ایک پْل کا کمزور ہونا ہے۔ اور اگر اس پْل کی مرمت وقت پر نہ کی جائے تو ایک دن گھر میں سب لوگ موجود تو ہوں گے، مگر ایک دوسرے کے دلوں تک پہنچنے کا راستہ شاید باقی نہ رہے۔اس لیے آج جب ہم گھر جائیں تو صرف یہ نہ دیکھیں کہ گھر میں کون موجود ہے۔ یہ بھی دیکھیں کہ کون ہماری توجہ کا منتظر ہے۔
موبائل کو چند لمحوں کے لیے ایک طرف رکھیں۔
اپنے بچے کی آنکھوں میں دیکھیں۔
ماں کے پاس بیٹھیں۔
والد کی بات سنیں۔
اپنے شریکِ حیات سے پوچھیں کہ آج اس کا دن کیسا گزرا۔
اور اگر گھر میں کوئی خاموش ہے تو اْس کی خاموشی کو معمول نہ سمجھیں۔
ممکن ہے وہ بہت کچھ کہنا چاہتا ہو، مگر اسے صرف ایک ایسے شخص کی ضرورت ہو جو اپنا موبائل بند کرکے کہہ دے۔میں سننے کو تیار ہوں، تم بتاؤ۔
شاید ہمارے گھروں کو آج کسی نئی چیز کی نہیں، صرف ایک دوسرے کے لیے تھوڑے سے وقت کی ضرورت ہے۔
کیونکہ آخرکار زندگی کی سب سے قیمتی یادیں موبائل کی اسکرین پر محفوظ نہیں ہوتیں۔
وہ ان لمحوں میں محفوظ ہوتی ہیں جب ہم کسی اپنے کے پاس بیٹھے تھے، اس کی بات سنی تھی، اس کے ساتھ ہنسے تھے، اس کے آنسو پونچھے تھے، یا صرف خاموشی سے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔
آئیے اپنے گھروں میں بات چیت کو دوبارہ زندہ کریں۔
کیونکہ ایک دن موبائل کی بیٹری ختم ہو جائے گی، انٹرنیٹ بند ہو جائے گا، اسکرینیں خاموش ہو جائیں گی…مگر ہمیں اپنے رشتوں کی آواز سننے کے لیے تب بھی ایک دوسرے کی ضرورت ہوگی۔
