خدا کا گھر یا منافع کی منڈی؟ ایک تاریخی سوال
دوستو، آج آپ ایک ایسا واقعہ پڑھنے جا رہے ہیں جس نے صرف اپنے زمانے کو نہیں، بلکہ صدیوں پر قائم مذہبی ڈھانچوں کو چیلنج کر دیا۔یہ نہ کوئی جنگ تھی، نہ کسی بادشاہ کی تاج پوشی، نہ کسی سلطنت کا قیام۔یہ ایک لمحہ تھا مگر ایسا لمحہ جس میں سچائی نے خاموش رہنے سے انکار کر دیا۔یہ یروشلیم تھا۔ دوسرا ہیکل اپنے جلال پر تھا۔وہ صرف عبادت کی جگہ نہیں تھی۔ وہ مذہبی اختیار، معاشی سرگرمی اور سماجی کنٹرول کا مرکز تھی۔ وہاں قانون بنتا تھا، وہاں فیصلے سنائے جاتے تھے اور وہاں خدا کا نام ہر معاملے میں استعمال ہوتا تھا۔
ہیکل کے صحن میں ہجوم تھا۔ قربانی کے جانور بیچے جا رہے تھے۔ مخصوص سکے بدلے جا رہے تھے کیونکہ رومی سکّے ”ناپاک“سمجھے جاتے تھے۔ زائرین دور دراز سے آتے، عبادت کی نیت سے، مگر نظام اْن کے ایمان کو ایک لین دین میں بدل دیتا۔سب کچھ بظاہر مذہبی تھا۔مگر اندر کہیں نہ کہیں نیت بدل چکی تھی۔وہ شخص جس کے بارے میں لوگ کہتے تھے کہ وہ رحم دل ہے۔جو گنہگاروں کے ساتھ بیٹھتا ہے۔جو ٹوٹے دلوں کو جوڑتا ہے۔وہ یسوع تھا۔لوگ اسے نرمی اور محبت کی علامت سمجھتے تھے مگر اس دن اس کی آنکھوں میں خاموشی نہیں، آگ تھی۔اْس نے دیکھا کہ عبادت ایک کاروبار بن چکی ہے۔دْعا ایک رسم رہ گئی ہے اور ایمان، اختیار اور فائدے کے نیچے دب چکا ہے۔انجیل کے مطابق، اْس نے صرافوں کی میزیں اْلٹ دیں، کبوتروں کے بیچنے والوں کو ہٹا دیا اور اعلان کیا کہ میرے باپ کا گھر دْعا کا گھر ہے، مگر تم نے اْسے ڈاکوؤں کی کھوہ بنا دیا ہے۔سکّے فرش پر بکھر گئے۔لوگ سہم گئے۔نظام لرز اْٹھا۔یہ صرف لکڑی کی میزیں نہیں تھیں جو گریں۔یہ وہ یقین تھا جو لوگوں نے ناقابلِ سوال سمجھ لیا تھا۔یہ وہ طاقت تھی جو خود کو خدا کے نام پر محفوظ سمجھتی تھی۔مسیحی روایت اسے ایک نبوی عمل مانتی ہے،خدا کے گھر کو پاک کرنے کا اقدام۔ایک ایسا لمحہ جب الٰہی غیرت نے استحصال کو برداشت کرنے سے انکار کر دیا۔
تاریخ دان اور فلسفی اسے ایک سماجی احتجاج بھی قرار دیتے ہیں۔ایک ایسا احتجاج جو مذہبی ڈھانچے میں سرایت کر جانے والے لالچ اور طاقت کے غلط استعمال کے خلاف تھا۔چاہے اسے نبوت کہیں یا بغاوت،یہ عمل ایک اعلان تھا کہ عبادت کو تجارت نہیں بنایا جا سکتا۔یہ واقعہ محض جذباتی ردعمل نہیں تھا۔یہ اُس نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی تھا جو مذہب کو کنٹرول اور مفاد کے لیے استعمال کر رہا تھا۔اسی واقعے کے بعد مذہبی قیادت نے اسے سنجیدگی سے خطرہ سمجھنا شروع کیا۔کیونکہ جو شخص تخت اُلٹ سکتا ہے، وہ نظریات بھی بدل سکتا ہے۔یہ کہانی ماضی میں دفن نہیں ہوئی۔یہ ہر دور میں زندہ رہتی ہے۔جب عبادت خوف کا ذریعہ بن جائے۔جب مذہب طاقت کے تحفظ کا ہتھیار بن جائے۔جب خدا کا نام منافع کے لیے استعمال ہونے لگے۔تب کہیں نہ کہیں تخت اُلٹنے کی ضرورت باقی رہتی ہے۔یہ واقعہ ہم سے سوال کرتا ہے:کیا عبادت ہمیں بدل رہی ہے؟یا ہم نے عبادت کو اپنے مفاد کے مطابق بدل لیا ہے؟اس لمحے نے ثابت کیا کہ خدا کو بیچا نہیں جا سکتا۔اور جو لوگ خدا کے نام پر استحصال کرتے ہیں، ان کے تخت ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رہتے۔ہیکل کے صحن میں بکھرے ہوئے سکّے صرف دھات کے ٹکڑے نہیں تھے۔وہ اس اعلان کی گواہی تھے کہ ایمان، تجارت نہیں ہے۔عبادت، اختیار کا کھیل نہیں ہے۔اور سچائی، خاموش تماشائی نہیں بنتی۔
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کبھی کبھی محبت کا مطلب نرمی نہیں بلکہ جرات ہوتا ہے۔اور کبھی کبھی پاکیزگی کا مطلب سکون نہیں بلکہ ہلچل ہوتا ہے۔کیونکہ جب سچائی حرکت میں آتی ہے تو تخت اُلٹ جاتے ہیں۔