حو صلوں سے اْڑان

 زندگی خدا نے دی ہے لیکن اس میں رنگ خود بھر نے پڑتے ہیں۔یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس ز ند گی کو رنگدار بنا تے ہیں یا بے رنگ۔بعض اوقات لوگ اپنی زندگی میں آنے والی پریشا نیوں سے بہت جلد گھبرا جاتے ہیں، یا تو وہ گمنامی کے اندھیروں میں چھپ جاتے ہیں یا پھر اپنی کمزوریوں کا رونا روتے ہوئے ہمت ہار جاتے ہیں۔ لیکن شِیلا یسی با ہمت لڑکی ہے جس نے ایسا بالکل نہیں کیا،کیو نکہ وہ جانتی ہے کہ جنہیں ہمارا معاشرہ جسمانی کمی کہتا ہے وہ اصل میں دماغ کا و ہم ہے۔ دماغ جسم کاا نتہا ئی طاقت ور حصہ ہے۔جیسے دماغ سوچتا ہے انسانی جسم و یسے کام کر نا شروع ہو جا تا ہے۔ شِیلا جانتی ہے کہ زندگی کی تصویر کو رنگنے کے لئے تھوڑا سا رنگ آسمان سے اور تھوڑا سا رنگ زمین سے چڑھانا پڑتا ہے۔اس بہا در لڑکی نے  آسمانی اور زمینی رنگ ایک ساتھ ملا کر نہ صرف اپنی زندگی بلکہ اپنے ساتھ ان سب کی زندگیوں میں رنگ بھرنے کی کوشش کی ہے جو حالات سے ڈر کر جینے کا حوصلہ چھوڑ دیتے ہیں۔ شِیلا نے اپنی کامیابی کی 
عبار ت کو رنگین کینواس پر لکھ دیا ہے۔
 شِیلاشرما  بہت چھوٹی سی تھی جب  ایک ٹر ین حادثے میں اس نے اپنے دونوں ہاتھ اور پاؤں کی تین انگلیاں کھو دیں۔ اس حادثے نے  شِیلا سے اس کی ماں کو بھی چھین لیا۔ ایک چھوٹی سی بچی کے لئے بہت مشکل تھا بغیر ماں اور ا پنے دونوں ہاتھوں کے بِنازندگی گزارنا لیکن  شِیلانے ہار نہیں مانی۔ اس کے بعد جیسے جیسے اسکی عمر بڑھتی گئی اس کا حوصلہ بھی بڑھتا گیا اور اپنے انہی حوصلوں کے ساتھ اس لڑکی نے 
رنگو ں سے کھیلنا شروع کر دیا۔ شِیلا پیشے سے ایک پینٹر ہے۔ وہ اپنے پیروں سے پینٹنگ بناتی ہیں۔  ایسی پینٹنگ کہ لوگ ہاتھوں سے بھی ویسی نہیں بنا سکتے۔ شِیلا پینٹنگ کرتے وقت اپنے پاؤں اور منہ دونوں کا استعمال کرتی ہیں۔ شِیلاشادی شدہ ہیں لیکن شادی کے بعد بھی اپنے رنگوں سے دور نہیں ہوئیں۔اس میں ان کے جیون سا تھی سدھیر نے حوصلہ افزائی کی اور ان کے فن کو نکھارنے میں مدد کی۔ وہ رنگوں 
 اور برش کو اپنی انگلیوں میں دبائے آگے بڑھتی رہیں۔ ساتھ ہی شِیلا نے خاندان کی ذمہ داریوں کو بھی پوری ایمانداری سے نبھایا، پھر بات چاہے کچن میں کھانا بنانے کی ہو یا پھر کورے کاغذوں میں رنگ بھرنے کی۔ شِیلا ایک بہادر خاتون ہیں اور حالات سے کس طرح لڑنا ہے یہ انہیں بہت اچھے سے آتا ہے۔ اپنی اِسی ضد کی وجہ سے شِیلانے کبھی کسی بھی سرکاری مدد کا سہارا نہیں لیا۔ ان کے لئے معذوری نہ ہی کوئی لعنت ہے اور نہ ہی ایسی کوئی کمی کہ اس کی آڑ لے کر اپنی ضرورتوں کو آسانی سے مکمل کیا جا سکے۔ شیلا دو بچوں کی ماں بھی ہیں۔ بچوں کو بھی ان کی طرح پینٹنگ کا شوق ہے۔ شِیلا اپنے خاندان اور کام میں ہم آہنگی بنا کر چلتی ہیں۔ ان کے لئے ان کا فن عبادت ہے اور خاندان ان کی زندگی۔ دونوں کے بغیر رہ پانا مشکل ہے اور ساتھ لے کر چلنا آسان۔ یہ شِیلا کی مسلسل محنت اور لگن کا ہی نتیجہ ہے کہ وہ متعدد ایوارڈ بھی جیت چکی ہیں۔ ان کے جاننے والے انہیں فٹ پینٹر کے نام سے پکارتے ہیں۔ شِیلاکو قدرتی مناظر اور عورتوں کی پینٹنگ بنانا اچھا لگتا ہے۔ ان کا خواب ہے، کہ وہ ایسے بچوں کو پینٹنگ سکھائے جو ان کی ہی طرح کسی نہ کسی حادثے کی وجہ سے اپنے ہاتھ یا پاؤں گنوا چکے ہیں۔ لیکن یہ کام وہ پیسوں اور کسی ادارے کے تحت نہیں کرنا چاہتیں۔ وہ سو چتی ہیں کہ ز ند گی میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے ہر کام کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے ہاتھ پاؤں اور طاقت کی ضرورت نہیں ہے بس پختہ عزم اور مثبت سوچ کا ہونا ضروری ہے۔ شاید اسی لیے کسی نے کیا خو ب کہا ہے:
منزل اْنہیں کو ملتی ہے جن کے سینوں میں جان ہو تی ہے
پنکھوں سے کچھ نہیں ہو تا حو صلوں سے اْڑان ہوتی ہے

Add new comment

7 + 1 =