انسانیت کی فتح
1942 کا سال انسانیت کے لیے ایک کڑا امتحان تھا۔ دوسری عالمی جنگ اپنے عروج پر تھی، سلطنتیں لرز رہی تھیں اور سیاست انسان سے زیادہ طاقتور بن چکی تھی۔ اسی دوران عرب سمندر میں ایک جہاز بھٹک رہا تھا،گویا ایک تیرتا ہوا تابوت۔
اس جہاز میں 740 پولش بچے سوار تھے۔ یہ بچے یتیم تھے، سوویت لیبر کیمپوں کے وہ زندہ بچ جانے والے، جن کے والدین بھوک، بیماری اور سردی کے ہاتھوں جان ہار چکے تھے۔ ایران کے راستے کسی طرح وہ سمندر تک پہنچے تھے مگر اب قسمت نے انہیں ایک اور امتحان میں ڈال دیا۔
دنیا کے طاقتور ممالک نے اْن بچوں کے لیے اپنے دروازے بند کر دیے۔ برطانوی سلطنت، جو اُس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقت تھی، اْس نے ہندوستان کی بندرگاہوں پر انہیں اْترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ جواب ایک ہی تھا:یہ ہماری ذمہ داری نہیں۔ جہاز واپس لے جاؤ۔
جہاز پر خوراک اور دوائیں ختم ہو رہی تھی،یہاں تک کہ وقت بے رحم رفتار سے نکلتا جا رہا تھا۔ بارہ سالہ ماریا اپنے چھ سالہ بھائی کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے کھڑی تھی۔ مرنے سے پہلے اْس کی ماں نے اْس سے وعدہ لیا تھا:میرے بیٹے کا خیال رکھنا۔مگر جب پوری دنیا منہ موڑ لے، تو ایک معصوم بچی کس طرح کسی کو بچا سکتی ہے؟یہ خبر گجرات پہنچی، نواب نگر کے حکمران جام صاحب دِگ وجے سنگھ جی کے محل تک۔ وہ کوئی طاقتور شہنشاہ نہ تھے۔ بندرگاہیں، فوج اور تجارت سب برطانوی راج کے اختیار میں تھیں۔ اْن کے پاس خاموش رہنے کی ہر وجہ موجود تھی۔مشیر نے بتایا:حضور، 740 بچے سمندر میں پھنسے ہیں۔ انگریز کسی بندرگاہ پر اْترنے نہیں دے رہے۔
جام صاحب نے صرف ایک سوال کیا:کتنے بچے ہیں؟سات سو چالیس، حضور۔
وہ لمحہ بھر خاموش رہے، پھر نہایت سکون سے بولے:
انگریز میری بندرگاہوں پر حکومت کر سکتے ہیں، مگر میرے ضمیر پر نہیں۔ یہ بچے نواب نگر میں اْتریں گے۔
یوں ایک بادشاہ نے سلطنت کے مقابلے میں انسانیت کا انتخاب کیا۔
اگست 1942 میں جہاز نواب نگر کی بندرگاہ میں داخل ہوا۔ بچے کمزور، خاموش اور تھکے ہوئے تھے۔ اْمید اْن کے لیے خوف بن چکی تھی۔
جام صاحب خود سفید لباس میں بندرگاہ پر موجود تھے۔ انہوں نے بچوں کے سامنے جھک کر اْن کی آنکھوں کی سطح پر آ کر مترجم کے ذریعے کہا:تم اب یتیم نہیں ہو۔آج سے تم میرے بچے ہو۔میں تمہارا باپو ہوں۔
یہ الفاظ بچوں کے لیے کسی معجزے سے کم نہ تھے۔جام صاحب نے بچوں کے لیے کوئی پناہ گزین کیمپ نہیں بنایا بلکہ ایک گھر بسایا۔ بالاچڈی میں ایک ننھا سا پولینڈ آباد کیا گیا۔ پولش اْساتذہ، پولش کھانے، پولش گیت اور گرم موسم میں سجا ہوا کرسمس ٹری۔ سب کچھ اس بات کی علامت تھا کہ ان بچوں کی شناخت محفوظ رکھی جائے گی۔
جام صاحب کہا کرتے تھے:”دکھ انسان کو مٹا دینا چاہتا ہے، مگر تمہاری زبان، ثقافت اور روایت مقدس ہیں۔بچوں نے دوبارہ ہنسنا، کھیلنا اور خواب دیکھنا سیکھاؤ“۔
جام صاحب ان بچوں کے لیے صرف حکمران نہیں بلکہ باپ بن گئے۔ وہ ان کے نام یاد رکھتے، سالگرہیں مناتے، بیمار بچوں کو گلے لگاتے اور ہر ضرورت اپنی جیب سے پوری کرتے۔
چار سال تک، جب دنیا جنگ میں جل رہی تھی، یہ 740 بچے پناہ گزین نہیں بلکہ ایک خاندان کی طرح زندہ رہے۔جنگ کے بعد جب واپسی کا وقت آیا تو آنکھوں میں آنسو تھے۔ بالاچڈی اْن کا پہلا اور آخری حقیقی گھر بن چکا تھا۔یہ بچے بڑے ہو کر ڈاکٹر، اْستاد، انجینئر اور والدین بنے۔ پولینڈ میں اْن کے نام پر یادگاریں بنیں، اسکول قائم ہوئے اور انہیں قومی اعزازات دیے گئے۔ مگر اصل یادگار وہ زندہ زندگیاں تھیں جو بچا لی گئیں۔
آج، اسیّ سال بعد، وہ بچے اپنے پوتوں کو ایک کہانی سناتے ہیں:
ایک ہندوستانی بادشاہ تھا، جس نے سیاست نہیں، انسانیت کو چُنا تھا۔1942 میں، جب سلطنتوں نے دروازے بند کر دیے، ایک شخص نے کہا:”یہ میرے بچے ہیں“۔اور اسی ایک جملے نے دنیا کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔