آمد کے ایام از سرِ نو پیدا ہونے کا موسم

عالمگیر کلیسیا ہر سال بڑی شادمانی کے ساتھ آمد کے ایام سے نئے لطوریا ئی سال کا آغاز کرتی ہے۔ آمد کا لفظی مطلب ہے آنا، تشریف لانا۔لطوریا ئی معنوں میں اس کا مطلب ہے خداوند یسوع مسیح کا اس دنیا میں تشریف لانا۔آمد کے ایام کا مقصد اپنے آپ کو یسوع مسیح کے اس دنیا میں جنم لینے کی یاد منانے اور اْس کی جلالی آمد یعنی آمد ثانی کے لیے تیاری اور انتظار کرنا ہے۔ آمد کے موسم کا رنگ جامنی ہے جو توبہ اور پشیمانی کی علامت ہے۔ آمد کے ایام منانے کا آغاز فرانس سے ہوا اور پھر فرانس سے ہوتی ہوئی یہ رسم روم میں پہنچی۔ مارچ 1949 میں پوپ گریگری نہم نے اس بات کا اعلان کیا کہ آمد کے ایام چار ہفتوں پر مشتمل ہوں گے۔ پہلے دو ہفتوں میں ہم مسیح کی آمد ثانی پر غور کرتے ہیں جبکہ دوسرے ہفتوں میں پہلی آمد یعنی بیت الحم کی چرنی میں یسوع کی پیدائش کی ایمان افروز یاد تازہ کرتے ہیں۔
 آمدکا موسم روحانی موسم ہے جو ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم نہ صرف اپنے گھروں کو مسیح کی آمد کے لئے سجائیں بلکہ اپنے دلوں کو بھی تیار کریں تاکہ ہم امن کے شہزادے کو اپنے دلوں میں جگہ دے سکیں۔ 
 ان دنوں میں روحانی تیاری کے لیے 
زبور 62 خداوند نو ں آڈیکدی رہ آرام نال میری جان
 زبور 121 اکھیاں چکنا ں ہاں میں وال پہاڑاں 
بے حد موزوں ہیں یہ زبور ہماری مدد کرتے ہیں تاکہ اپنے آپ کو شخصی اور انفرادی تبدیلی کے ذریعے یسوع مسیح کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیاری کریں۔ یسوع کو خوش آمدید کہنے کی یہ تیاری روزہ، دْعا اور اپنے گناہوں پر پشیمان ہونے کے ذریعے پایہ تکمیل کو پہنچتی ہے۔ آمد کے ایام میں توبہ، تبدیلی پر زور دیا جاتا ہے۔ ان دنوں میں ہم اپنے آپ کو دل و جان سے خدا کے حضور پیش کرتے ہیں تاکہ یسوع مسیح کی آمد ثانی کے لئے بھی بہتر طریقے سے تیاری ممکن ہو سکے۔
آمد کے ایام ازسرِنو پیدا ہونے کا بھی موسم ہے جس میں ہم اپنی ذاتی اور اجتماعی تبدیلی پر زور دیتے ہیں۔ یہ وقت ظاہر و باطن کے ایک ہونے کا ہے۔  یہ ایام ہر مسیحی کے دل میں لگن پیدا کرتے ہیں کہ وہ یسوع مسیح کی محبت سے سرشار ہوکر انصاف، امن، محبت، سچائی اور سلامتی کا عملی طور پر چار کریں۔یہ وقت اپنے گناہوں سے منہ موڑنے،خود غرضی سے اجتناب کرنے اور قبولیت کو فروغ دینے کا ہے۔
 ان ایام کی روحانیت کو اپنانے سے ہمیں قوت ملتی ہیں ہمارے خاندانوں میں ہماری زندگی میں امن پیدا ہوتا ہے۔ اس سے ہم اپنے معاشرے میں بھی تبدیلی کا باعث بنتے ہیں۔خدا کرے ان ایام کی بدولت ہم منفی رویے اور منفی سوچیں ختم کریں تاکہ ہماری زندگیاں سچے مسیحی کا منہ بولتا ثبوت بن جائیں۔
 

Add new comment

1 + 18 =