آج کا بچہ کل کا رہنما

بچے ہرگھر کی رونق ہوتے ہیں۔یہ گھر میں ایک پل کیلئے بھی نہ ہوں تو گھر سْونا اور ویران لگنے لگتا ہے۔دنیا میں جہاں بہت سے عالمی دن منائے جاتے ہیں وہیں اِن من کے سچے، والدین کے دلوں کی دھڑکن اور آنکھوں کے تاروں کیلئے بھی ایک دن مخصوص کیا گیا،اور وہ دن بچوں کا عالمی دن کہلاتا ہے۔
اگر تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو ڈاکٹر چارلس لیو نارڈنے 1857 میں جون کے دوسرے اِتوار بچوں کا عالمی دِن منانے کا اِعلان کیا تھا۔ کیونکہ اِس بندے کوبچوں کے ساتھ خاص لگاؤ تھا۔ سب سے پہلے اِس دِن کو یوِمِ گلاب، پھر پھولوں کا دِن اور بعد میں لیونارڈ نے اِس دِن کو بچوں کے عالمی دِن کا نام دے دِیا۔ اِس کے بعد23اپریل 1920 ترکی میں سرکاری طور پر بچوں کا عالِمی دِن منایا گیا۔ 1929 میں ترکی کے صدرمصطفی کمال نے بچوں کے عالمی دِن کو قومی سطح پر ماننے کی اِجازت دے دی۔ اِسی طرح بہت سارے ممالک میں یہ دِن یکم جون کو منایا جاتا رہا۔20نومبر 1959میں جب اقوام ِمتحدہ کے اَدارے نے بچوں کے حقوق و تحفظ کے بارے بات چیت کی تو اِس کے ساتھ ہی عالمی سطح پر 20نومبر کو ہی بچوں کے عالمی دِن منانے کا اِعلان کیا گیا۔ تب سے بہت سے ممالک میں اور پاکستان میں بھی 20نومبر کو ہی بچوں کا عالمی دِن منایا جاتا ہے۔ 
کہا جاتا ہے کہ بچے قوم کا روشن مستقبل ہیں۔ جس قوم کے بچے اَن پڑھ اور کمزور ہوں گے تووہ قوم بھی ایسی ہی ہے۔ اِس لئے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دیں اور اُن کی اچھی تربیت کریں تاکہ وہ قوم کے روشن اور کامیاب معمار بن سکیں۔ بیشک بچے چھوٹے ہوتے ہیں۔لیکن اِن کے اَندر قوم کو مثبت طور پر تبدیل کرنے کی صلاحیتیں پنہاں ہوتی ہیں۔بچے ملک کے مستقبل کے ذمہ دار شہری ہوتے ہیں۔ملک کی ترقی کا دارومدار اِنہی کے ہاتھو ں میں ہوتا ہے۔ آج کابچہ آنے والے کل کا رہنما ہوتا ہے۔اِس لئے یہ ماں باپ، اُساتذہ اور خاندان کے افراد سے بہتر تربیت، محافظت،راہنمائی اور دیکھ بال کے مستحق ہوتے ہیں۔کیونکہ بچے کسی بھی ملک کی حقیقی طاقت ہوتے ہیں۔ 
بچے ماں باپ کے لئے ایسے گلاب کی مانند ہوتے ہیں۔جن کی خوشبو سے سارا گھرانہ مہکتا ہے۔ گھر میں موجود ہرفرد اِن کی میٹھی میٹھی اورلذیذ باتوں سے لطف اَندوز ہوتا ہے۔بچے کو اکثر فرشتوں سے تشبہیہ دی جاتی ہے کہ بچے فرشتوں کی مانند ہوتے ہیں۔ یقینا اِس میں کوئی شک نہیں کہ بچے زمینی فرشتے ہوتے ہیں۔ اِن میں وہ تمام صفات پائی جاتی ہیں جو فرشتوں میں ہوتی ہیں۔مثلاً فرشتوں کی طرح معصوم، فرشتوں کی طرح خدا کے بہت زیادہ قریب، جس طرح فرشتے خدا کے ہر حُکم کی تعمیل کرنے کے لئے ہر لمحہ تیار رہتے ہیں۔بالکل اِسی طرح بچے بھی اپنے والدین کے فرمانبرادر اورتابعدار ہوتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی معصوم خواہشیں دِلوں میں لئے کُھلی آنکھوں سے بڑے بڑے سپنے سجاتے ہیں۔ بچپن مَیں ہی ایسے نیک جذبات، خیالات اور منصوبے رکھنے والا بچہ زندگی کے ہر میدان میں کامیاب اور کامران ہوتا ہے۔
 بچوں کی اپنی ایک الگ سی دُنیا ہوتی ہے۔ جس دُنیا کے وہ بے پرواہ اور بے فِکر اور بے تاج بادشاہ ہوتے ہیں۔ایک گانا ہے جو اِن بچوں پر بڑا فِٹ آتا ہے کہ ”ہم ہیں مَست مولا، ہم ہیں مَست مولا، اپنی دُھن میں ہیں مگن،دِل کے بادشاہ“۔یقینا یہ بھولے بھالے بچے اپنی ہی دُھن میں گُم ہوتے ہیں۔ وہ والدین کتنے ہی خوش نصیب ہوتے ہیں جن کو بچوں جیسا قیمتی تحفہ ملتا ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ آج کے اِس نفسانفسی اور دہشتگردی اور بڑھتے ہوئے جرائم کی وجہ سے کوئی بھی اِس ملک میں محفوظ نہیں ہے۔ اکثر بچے ہی وحشی درندوں کی حوس کا شکار بنتے ہیں۔ بچوں سے جنسی زیادتی، جبری مشقت اور اُن کو نشے کا عادی بنا دِیا جاتا ہے۔ اُن کے ذہنوں کو واش کر کے ایسے ایسے کام اُن سے لئے جاتے ہیں جو اُنہیں مسلسل موت کی وادی میں لیے جاتے ہیں۔ 
جہاں سے اُن کے واپس آنے کی اُمید بھی ختم ہو جاتی ہے۔بچوں کے بارے ہر کوئی اپنے انداز میں بیان کرتا ہے۔کسی کمہار نے بولا بچے تو مٹی کی مانند ہوتے ہیں آپ انہیں جس شکل میں چاہیں ڈھال لیں۔ایک اْستاد نے کہا بچے تو کورے کاغذ کی طرح ہوتے ہیں آپ جو چاہیں اْن پر تحریر کر سکتے ہیں۔
آج بچوں کا عالمی دِن مناتے ہوئے یہ سوچنے کہ ضرورت ہے کہ ہمیں کس طرح اپنے بچوں کی تربیت کرنی ہیں۔تاکہ قوم کے اس قیمتی سْرمائے کو محفوظ کر کے ملک کے مستقبل کو روشن کیا جائے۔
 والدین پر سب سے پہلے یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بچوں کی مکمل طور پر دیکھ بھال کریں۔بچوں کو اچھی خوراک، صاف ستھرے کپڑے اور مکمل تحفظ فراہم دیں۔اُن کو اچھا معیارِ تعلیم مہیا کیا جائے۔معذوراور بیمار بچوں کے لئے حفاظتی اِنتظامات کئے جائیں۔
ْآئیں آج سارے مِل کر اپنے مستقبل کے راہنماؤں کو خراج ِ تحسین پیش کریں اور آج کے دِن کی مبارکبادیں اُنہیں پیش کریں۔ بچوں سے نفرت و حسد کرنے کی بجائے اُن سے محبت کریں۔ اُن سے اپنی محبتیں بانٹیں۔ آج کے دِن ان بچوں کے لئے خدا سے خاص دُعاکریں کہ خدا اِنہیں ہمیشہ اپنی پناہ و حفاظت میں رکھے۔ ہر مُشکل، مصیبت شیطان کے بْرے منصوبوں سے اِنہیں بچائے رکھے۔ اِن کی ذہنی صلاحیتوں کو بڑھائے، دل و دماغ کو فرحت اور تازگی بخشے تاکہ یہ بچے خداوند میں بڑھتے ہوئے، تعلیم یافتہ ہوں،کامیاب انسان بنیں اور اپنے والدین،ملک وقوم کا فخربن سکیں۔آمین۔
آپ سب کو بچوں کا عالمی دن بہت بہت مبارک ہو!

 

Add new comment

3 + 17 =