ماچو پچو

ماچو پچو
ماچو پچو

جنوبی امریکہ کے ملک پیرو میں واقع ماچو پچو دنیا کے ان تاریخی مقامات میں شامل ہے جو اپنی قدرتی خوب صورتی، منفرد تعمیراتی انداز اور پراسرار ماضی کی وجہ سے مشہور ہیں۔ بلند پہاڑوں، گہری وادیوں اور بادلوں سے ڈھکی چوٹیوں کے درمیان قائم یہ قدیم شہر انکا تہذیب کی ذہانت اور فنی مہارت کا شاندار نمونہ ہے۔ اسے جدید دنیا کے سات عجائبات میں شامل کیا گیا ہے۔ ماچو پچو آج صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ انسانی تاریخ، آثارِ قدیمہ اور قدیم تہذیبوں کے مطالعے کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔انکا تہذیب جنوبی امریکہ کی ایک طاقتور قدیم تہذیب تھی، جس کا مرکز موجودہ پیرو کے علاقے میں واقع تھا۔ پندرہویں صدی میں انکا سلطنت نے وسیع علاقے پر اپنا اثر و رسوخ قائم کیا۔ اس سلطنت کے باشندے زراعت، تعمیرات، سڑکوں کی تعمیر، پہاڑی علاقوں میں آب پاشی اور انتظامی نظام میں نمایاں مہارت رکھتے تھے۔انکا تہذیب کی سب سے حیرت انگیز خصوصیات میں سے ایک پتھروں کو اس مہارت سے تراشنا اور جوڑنا تھا کہ دیواروں میں بہت کم یا بالکل بھی مسالہ استعمال کیے بغیر مضبوط تعمیرات قائم کی جا سکیں۔ ماچو پچو میں اس فن کی متعدد مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔
ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق ماچو پچو پندرہویں صدی کے وسط میں انکا حکمران پاچاکوتی کے دور میں تعمیر کیا گیا۔ تاہم، اس کے تمام مقاصد کے بارے میں مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں۔ بعض ماہرین اسے شاہی رہائش گاہ یا حکمرانوں کے لیے مخصوص مقام سمجھتے ہیں، جبکہ اس کی مذہبی اور انتظامی اہمیت کے شواہد بھی ملتے ہیں۔یہ شہر سطحِ سمندر سے تقریباً 2,430 میٹر بلند پہاڑی علاقے میں واقع ہے۔ یہاں پتھر کی عمارتیں، کھلے میدان، عبادت گاہیں، رہائشی حصے اور زرعی سیڑھیاں موجود ہیں۔ عمارتوں کی ترتیب سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعمیر کرنے والوں نے قدرتی زمین کی ساخت کو سمجھتے ہوئے پورے علاقے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
ماچو پچو کی دیواریں انکا انجینئرنگ کا ایک نمایاں نمونہ ہیں۔ یہاں بڑے پتھروں کو تراش کر ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جوڑا گیا کہ ان کے درمیان بہت کم جگہ باقی رہتی ہے۔ بہت سی تعمیرات میں مسالے کے بجائے پتھروں کی درست تراش اور ترتیب پر انحصار کیا گیا۔یہ طریقہ پہاڑی علاقے میں زلزلوں کے اثرات کم کرنے میں بھی مدد دے سکتا تھا، کیونکہ پتھر معمولی حرکت کے ساتھ اپنی جگہ برقرار رکھ سکتے ہیں۔ البتہ تعمیرات کی پائیداری کا تعلق صرف پتھروں سے نہیں بلکہ بنیادوں، نکاسی ِآب اور مجموعی منصوبہ بندی سے بھی ہے۔ماچو پچو کے اردگرد پہاڑی ڈھلوانوں پر زرعی سیڑھیاں بنائی گئی تھیں۔ ان کا مقصد زمین کو قابلِ کاشت بنانا، مٹی کے کٹاؤ کو کم کرنا اور پانی کے بہتر استعمال کو ممکن بنانا تھا۔ انکا باشندوں نے مشکل جغرافیائی حالات میں بھی خوراک پیدا کرنے کے مؤثر طریقے اختیار کیے۔
شہر میں پانی کی فراہمی کے لیے پتھروں سے بنی نالیاں اور چشمے سے منسلک نظام موجود تھا۔ بارش اور پہاڑی پانی کو قابو میں رکھنا ضروری تھا، کیونکہ شدید بارشیں زمین کھسکنے اور تعمیرات کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتی تھیں۔ نکاسیِ آب کے انتظامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تعمیر کرنے والوں نے شہر کی پائیداری پر خاص توجہ دی۔
انکا سلطنت پر ہسپانوی قبضے کے بعد ماچو پچو کا کردار اور آبادی بتدریج کم ہو گئی۔ اگرچہ اس علاقے کے مقامی باشندے اس مقام سے واقف تھے، لیکن یہ طویل عرصے تک بین الاقوامی دنیا کی توجہ کا مرکز نہیں بنا۔1911میں امریکی محقق ہائرم بنگھم نے اس مقام کو بین الاقوامی علمی حلقوں میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، یہ کہنا درست نہیں کہ اس نے ایک مکمل طور پر نامعلوم شہر دریافت کیا تھا، کیونکہ مقامی لوگ پہلے ہی اس علاقے سے واقف تھے۔ بعد میں آثارِ قدیمہ کی تحقیق نے اس کی تاریخ، تعمیرات اور انکا تہذیب کے بارے میں معلومات میں اضافہ کیا۔
یونیسکو نے 1983ء میں ماچو پچو کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا۔ 2007ء میں یہ جدید دنیا کے سات عجائبات میں منتخب ہوا۔ آج یہاں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں اور پہاڑوں کے دلکش مناظر، پتھر کی عمارتوں اور قدیم زرعی نظام کا مشاہدہ کرتے ہیں۔سیاحت سے مقامی معیشت کو فائدہ ہوتا ہے، لیکن سیاحوں کی بڑھتی تعداد سے تاریخی تعمیرات، قدرتی ماحول اور راستوں پر دباؤ بھی پڑتا ہے۔ اسی لیے داخلے کے ضوابط، سیاحوں کی تعداد پر انتظامی پابندیاں اور آثارِ قدیمہ کی حفاظت کے اقدامات اہم ہیں۔ماچو پچو انکا تہذیب کی ذہانت، محنت اور قدرتی ماحول کے ساتھ ہم آہنگی کی زندہ مثال ہے۔ اس کی عمارتیں، زرعی سیڑھیاں اور پانی کا نظام ظاہر کرتے ہیں کہ قدیم انسان محدود وسائل کے باوجود پیچیدہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ ماچو پچو ہمیں ماضی سے سیکھنے، تاریخی ورثے کی حفاظت کرنے اور قدرتی ماحول کی قدر کرنے کا درس دیتا ہے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup