رکشا بندھن

 رکشا بندھن
رکشا بندھن

کچھ رشتے خون سے بنتے ہیں، کچھ وقت کے ساتھ مضبوط ہوتے ہیں، مگر بہن اور بھائی کا رشتہ شاید ان چند خوبصورت رشتوں میں سے ہے جس میں بچپن کی شرارتیں، لڑائیاں، ناراضگیاں، محبت، قربانی اور بے شمار یادیں ایک ساتھ سانس لیتی ہیں۔ رکشا بندھن اسی خوبصورت رشتے کو یاد کرنے اور اس کی محبت کو تازہ کرنے کا ایک تہوار ہے۔ کلائی پر باندھا جانے والا ایک چھوٹا سا دھاگا بظاہر معمولی دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے ساتھ جڑی دعائیں، جذبات اور یادیں اسے بے حد خاص بنا دیتی ہیں۔
رکشا بندھن کا لفظی مفہوم ہی حفاظت کا بندھن ہے۔ اس موقع پر بہن اپنے بھائی کی کلائی پر راکھی باندھتی ہے اور اس کی خوشی، سلامتی اور کامیابی کے لیے دعا کرتی ہے، جبکہ بھائی اپنی بہن کی حفاظت، عزت اور ہر مشکل وقت میں اس کا ساتھ دینے کا عہد کرتا ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ اس تہوار کا مفہوم صرف حفاظت کے وعدے تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ محبت، احترام، اعتماد اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے کی علامت بن گیا ہے۔
اس تہوار کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ راکھی صرف کلائی پر نہیں باندھی جاتی، بلکہ دل پر بھی ایک عہد باندھتی ہے۔ بہن جب بھائی کی کلائی پر راکھی باندھتی ہے تو اس لمحے میں برسوں کی یادیں سمٹ آتی ہیں۔ وہی بھائی جس کے ساتھ بچپن میں معمولی باتوں پر لڑائی ہوئی، جس سے کھلونے چھینے گئے، جس کے ساتھ شرارتیں کی گئیں، آج اسی کی کلائی پر محبت کا دھاگا باندھتے ہوئے آنکھوں میں دعائیں لیے کھڑی ہوتی ہے۔
بچپن میں بہن بھائی کی لڑائیاں بھی عجیب ہوتی ہیں۔ کبھی ایک دوسرے کی چیز چھین لینا، کبھی شکایت لگا دینا، کبھی ایک دوسرے کو چڑانا اور پھر چند ہی لمحوں بعد دوبارہ ساتھ کھیلنے لگنا۔ وقت گزرتا ہے، گھر بدل جاتے ہیں، مصروفیات بڑھ جاتی ہیں اور وہ بے فکری کے دن کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ مگر راکھی کا دن ان یادوں کے دروازے دوبارہ کھول دیتا ہے۔
کئی بہنوں کے لیے رکشا بندھن کا دن خوشی کے ساتھ ایک ہلکی سی اداسی بھی لے کر آتا ہے۔ کچھ بہنیں شادی کے بعد دور شہروں یا دوسرے ممالک میں آباد ہو جاتی ہیں۔ کچھ بھائی روزگار یا تعلیم کے سلسلے میں گھر سے دور ہوتے ہیں۔ ایسے میں راکھی کبھی ڈاک کے ذریعے سفر کرتی ہے، کبھی کسی تحفے کے ساتھ پہنچتی ہے اور کبھی صرف ایک فون کال یا ویڈیو کال ہی بہن بھائی کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ ٹیکنالوجی فاصلے تو ختم نہیں کر سکتی، مگر محبت کی آواز ضرور ایک دل سے دوسرے دل تک پہنچا دیتی ہے۔اور کچھ کلائیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو راکھی کے دن خالی رہ جاتی ہیں۔ کسی کی بہن اس دنیا میں نہیں رہتی، کسی کا بھائی بچھڑ چکا ہوتا ہے، اور کسی کے درمیان وقت یا حالات نے ایسی دیوار کھڑی کر دی ہوتی ہے جسے عبور کرنا آسان نہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے رکشا بندھن خوشی کے ساتھ یادوں کا تہوار بھی بن جاتا ہے۔ ایک تصویر، ایک پرانی آواز، بچپن کا کوئی کھلونا یا کسی عزیز کی یاد آنکھوں کو نم کر دیتی ہے۔لیکن شاید رکشا بندھن کا اصل حسن یہی ہے کہ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ محبت صرف الفاظ کا نام نہیں۔ محبت کسی کی حفاظت کرنے، اس کی عزت کرنے، اس کے دکھ میں شریک ہونے، اس کی کامیابی پر خوش ہونے اور مشکل وقت میں اس کا ہاتھ تھامنے کا نام ہے۔
آج کے تیز رفتار دور میں، جب رشتے مصروفیات، فاصلے اور اسکرینوں کے درمیان کہیں گم ہوتے جا رہے ہیں، ایسے تہوار ہمیں رک کر اپنے پیاروں کو یاد کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ ایک راکھی ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ زندگی کتنی ہی بدل جائے، کچھ رشتوں کی اہمیت کبھی کم نہیں ہوتی۔رکشا بندھن صرف بھائی کی بہن کی حفاظت کا وعدہ نہیں،یہ دونوں طرف سے ایک دوسرے کی عزت، محبت اور ساتھ نبھانے کا عہد ہے۔ بہن بھائی ایک دوسرے کے محافظ بھی ہیں، رازدار بھی اور زندگی کے سفر کے خاموش ساتھی بھی۔
آخر میں راکھی کا وہ دھاگا ہمیں ایک خوبصورت حقیقت سکھاتا ہے۔رشتے مضبوط دھاگوں سے نہیں، مضبوط محبت سے بندھے رہتے ہیں۔کلائی سے بندھا ہوا دھاگا وقت کے ساتھ ٹوٹ سکتا ہے، مگر اگر دلوں میں محبت زندہ ہو تو یہ بندھن عمر بھر قائم رہتا ہے۔ یہی رکشا بندھن کی اصل خوبصورتی ہے۔ایک چھوٹی سی راکھی، ایک بڑی سی دْعا، اور ایک ایسا رشتہ جسے وقت بھی کمزور نہیں کر سکتا۔

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup