مٹی کے اندر چھپی دنیا
ہم جب زمین پر چلتے ہیں تو عموماً اپنے قدموں کے نیچے موجود مٹی کو صرف پودوں کے اْگنے کی جگہ سمجھتے ہیں۔ لیکن اگر ایک مٹھی مٹی کو غور سے دیکھا جائے تو یہ محض مٹی کے ذرات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسی زندہ دنیا ہے جس میں بے شمار جاندار خاموشی سے اپنی زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں۔ اس دنیا میں بیکٹیریا، فنگس، ننھے جاندار، کیچوے اور دوسرے بے شمار حیاتیاتی اجزا موجود ہوتے ہیں جو ہماری نظر سے اوجھل رہ کر زمین کی زندگی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق ایک گرام صحت مند مٹی میں اربوں تک بیکٹیریا کے خلیے اور لاکھوں دیگر خردبینی جاندار موجود ہو سکتے ہیں، اگرچہ ان کی تعداد مٹی کی قسم، نمی، درجہ حرارت، نامیاتی مادے اور دیگر ماحولیاتی حالات کے مطابق بہت مختلف ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ہاتھ میں موجود مٹی کی ایک معمولی سی مقدار بھی ایک انتہائی پیچیدہ ماحولیاتی نظام کا حصہ ہو سکتی ہے۔
اس زیرِ زمین دنیا کے سب سے اہم کرداروں میں بیکٹیریا شامل ہیں۔ یہ ننھے جاندار مردہ پودوں، جانوروں اور دیگر نامیاتی مادوں کو توڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس عمل کے دوران پیچیدہ مادے ایسے غذائی اجزا میں تبدیل ہوتے ہیں جنہیں پودے دوبارہ استعمال کر سکتے ہیں۔ نائٹروجن، فاسفورس اور کاربن جیسے عناصر کی قدرتی گردش میں مٹی کے خردبینی جاندار بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر یہ جاندار اپنا کام نہ کریں تو مردہ حیاتیاتی مادہ جمع ہوتا جائے اور غذائی اجزا کا قدرتی چکر شدید متاثر ہو جائے۔
مٹی میں موجود فنگس بھی اس پوشیدہ نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ بعض فنگس پودوں کی جڑوں کے ساتھ ایک خاص تعلق قائم کرتی ہیں جسے مائیکورائزا کہا جاتا ہے۔ اس تعلق میں فنگس پودے کی جڑوں کو مٹی سے پانی اور فاسفورس جیسے غذائی اجزا حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جبکہ پودا فوٹو سنتھیسز کے ذریعے بننے والی توانائی کا کچھ حصہ فنگس کو فراہم کرتا ہے۔ یوں ایک ایسا باہمی تعلق قائم ہوتا ہے جس سے دونوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
مٹی کی یہ دنیا صرف خوردبینی جانداروں تک محدود نہیں۔ کیچوے بھی زمین کی صحت کے لیے اہم انجینئرز سمجھے جاتے ہیں۔ جب کیچوے مٹی میں حرکت کرتے ہیں تو وہ اس میں باریک راستے بناتے ہیں جن سے ہوا اور پانی کو مٹی کے اندر جانے میں مدد ملتی ہے۔ وہ نامیاتی مادہ کھاتے ہیں اور اسے ایسی شکل میں تبدیل کرتے ہیں جو مٹی کی زرخیزی میں اضافہ کر سکتی ہے۔ اسی لیے کیچووں کی موجودگی اکثر صحت مند مٹی کی ایک اچھی علامت سمجھی جاتی ہے۔
مٹی میں موجود چھوٹے کیڑے، نیماتوڈز، مائٹس اور دوسرے جاندار بھی اس پیچیدہ نظام کا حصہ ہیں۔ بعض جاندار پودوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں، لیکن بہت سے دوسرے جاندار ان کی تعداد کو قدرتی طور پر قابو میں رکھنے، نامیاتی مادے کو توڑنے اور غذائی اجزا کی گردش میں مدد دیتے ہیں۔ اس طرح مٹی کے اندر مختلف جانداروں کے درمیان ایک مسلسل تعلق قائم رہتا ہے۔
یہ زیرِ زمین زندگی صرف مٹی کو زرخیز بنانے تک محدود نہیں بلکہ زمین کے کاربن چکر میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پودے فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور کاربن کا ایک حصہ جڑوں، پودوں کے باقیات اور مٹی میں منتقل ہو جاتا ہے۔ مٹی کے جاندار اس نامیاتی مادے کو توڑتے ہیں، جس کے نتیجے میں کاربن مختلف شکلوں میں مٹی اور فضا کے درمیان گردش کرتا رہتا ہے۔ اسی لیے صحت مند مٹی موسمیاتی نظام کے ساتھ بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔
لیکن انسانی سرگرمیاں اس پوشیدہ دنیا کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ جنگلات کی کٹائی، مٹی کا کٹاؤ، ضرورت سے زیادہ کیمیائی کھاد اور بعض زرعی کیمیکلز کا بے جا استعمال، زمین کی مسلسل گہری جوتائی اور نامیاتی مادے کی کمی مٹی میں موجود حیاتیاتی تنوع کو متاثر کر سکتی ہے۔ جب مٹی کے جانداروں کا توازن بگڑتا ہے تو زمین کی ساخت، پانی جذب کرنے کی صلاحیت اور غذائی اجزا کی دستیابی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
اسی لیے دنیا بھر میں مٹی کے تحفظ پر توجہ بڑھ رہی ہے۔ فصلوں کی باقیات کو زمین میں واپس شامل کرنا، نامیاتی مادے کا استعمال، فصلوں کی گردش، درختوں اور پودوں کا تحفظ اور مٹی کو غیر ضروری طور پر بار بار نہ چھیڑنا ایسے طریقے ہیں جو مٹی کی حیاتیاتی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
اگلی بار جب آپ اپنے ہاتھ میں ایک مٹھی مٹی اٹھائیں تو اسے صرف خاک نہ سمجھیں۔ ممکن ہے اس چھوٹی سی مقدار میں ایسی زندگی موجود ہو جسے ہماری آنکھ دیکھ نہیں سکتی، لیکن جو پودوں کی نشوونما، غذائی اجزا کی گردش، پانی کے نظام اور زمین کے قدرتی توازن کے لیے مسلسل کام کر رہی ہو۔ مٹی خاموش ضرور ہے، مگر بے جان نہیں۔ اس کے اندر زندگی کی ایک ایسی دنیا سانس لے رہی ہے جس کے بغیر زمین پر ہماری اپنی زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں۔
