شدید سردی ایک خاموش خطرہ

سردی کا موسم اپنی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ خطرات بھی لاتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس دوران دل اور دماغ کی بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔سخت سردی کو محض موسم کی تبدیلی سمجھنا ایک عام غلط فہمی ہے، حالانکہ طبی تحقیق یہ ثابت کر چکی ہے کہ سرد موسم دل اور دماغ کی بیماریوں کے خطرات کو نمایاں حد تک بڑھا دیتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) اور مختلف کارڈیالوجی جرنلز کے مطابق سردیوں میں ہارٹ اٹیک اور فالج کے کیسز میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو پہلے سے دل، بلڈ پریشر یا ذیابیطس کے مریض ہوں۔
سردی میں جسم اپنا درجہ حرارت برقرار رکھنے کے لیے قدرتی دفاعی نظام استعمال کرتا ہے۔ اس عمل کے دوران خون کی شریانیں سکڑ جاتی ہیں جس سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔ بلند فشارِ خون دل کے پٹھوں کو زیادہ محنت پر مجبور کرتا ہے، جس سے دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سرد موسم میں خون کے پلیٹ لیٹس زیادہ فعال ہو جاتے ہیں، جو خون کے لوتھڑے بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی لوتھڑے اگر دل یا دماغ کی شریانوں میں پھنس جائیں تو ہارٹ اٹیک یا فالج کا سبب بنتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق سردیوں میں جسم میں اسٹریس ہارمونز (جیسے ایڈرینالین) کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے، جو دل کی دھڑکن تیز اور بے ترتیب کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صبح کے وقت، خاص طور پر فجر کے بعد، دل کے دورے کے واقعات زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں کیونکہ اس وقت سردی بھی زیادہ ہوتی ہے اور بلڈ پریشر قدرتی طور پر بلند سطح پر ہوتا ہے۔سردی میں وٹامن ڈی کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے، کیونکہ دھوپ میں وقت کم گزارا جاتا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی دل کی بیماریوں، شریانوں کی سختی اور فالج کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے۔ اسی طرح سردیوں میں وزن بڑھ جانا، نیند کا غیر
 متوازن ہونا اور ڈپریشن بھی بالواسطہ طور پر دل کی صحت پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔
احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سردیوں میں صرف گرم کپڑے پہننا ہی کافی نہیں، بلکہ طرزِ زندگی میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔ دل کے مریضوں کو خاص طور پر صبح سویرے ٹھنڈے موسم میں باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر باہر جانا ضروری ہو تو پہلے جسم کو گرم کریں، ہلکی پھلکی اسٹریچنگ کریں اور اسکارف یا مفلر کے ذریعے سینہ اور گردن کو ڈھانپیں۔

خوراک میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز (جیسے مچھلی، اخروٹ)، اینٹی آکسیڈنٹس (پھل اور سبزیاں) اور پوٹاشیم سے بھرپور غذاؤں کو شامل کریں، کیونکہ یہ دل کی شریانوں کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ نمک کا زیادہ استعمال سردیوں میں بلڈ پریشر کو خطرناک حد تک بڑھا سکتا ہے، اس لیے اعتدال ضروری ہے۔طبی ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ سردیوں میں فلو اور نمونیا سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن کروائی جائے، کیونکہ انفیکشن کی صورت میں دل پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ نیند پوری کرنا، ذہنی دباؤ کم رکھنا اور تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز سردیوں میں دل اور دماغ کی حفاظت کے لیے نہایت اہم ہیں۔
حقیقت واضح ہ ہے کہ سخت سردی ایک خاموش خطرہ ہے جو براہِ راست نہیں بلکہ جسمانی نظام کو متاثر کر کے ہارٹ اٹیک اور فالج کا باعث بنتی ہے۔ بروقت احتیاط، باقاعدہ طبی معائنہ اور صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر ہم نہ صرف سردیوں کو محفوظ بنا سکتے ہیں بلکہ اپنی مجموعی صحت کو بھی بہتر رکھ سکتے ہیں۔

Daily Program

Livesteam thumbnail