ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ(ایک مثالی شخصیت)
ڈاکٹر عرفافہ سیدہ زہرہ پاکستان کی ایک ممتاز ماہرِ تعلیم، ادیبہ، محققہ، انسانی حقوق کی کارکن اور عوامی مفکرہ تھیں۔جنہوں نے 50 سال سے زائد عرصے تک تعلیم، ادب اور سماجی شعور کے فروغ میں شاندار خدمات انجام دیں۔ ان کا فکری اور تعلیمی سفر تاریخ میں ایک مضبوط اور باوقار مقام رکھتا ہے۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ 22 جون 1937ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم لاہور میں حاصل کی۔ اْن کی دلچسپی ہمیشہ سے ادب، تاریخ اور سماجی علوم میں رہی، جس نے ان کے علمی سفر کی بنیاد رکھی۔
عارفہ سیدہ زہرہ نے اپنی بی اے آنرز لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی سے مکمل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہورسے ایم اے اْردو میں ڈگری حاصل کی۔ مزید تعلیم کے لیے وہ University of Hawaii at Manoa گئیں جہاں سے انہوں نے ایم اے (Asian Studies) اور پی ایچ ڈی (History)کی ڈگریاں حاصل کیں۔
اْن کی تحقیق میں خاص طور پر اْردو ادب، تاریخ، سماجی مسئلے اور فکری تاریخ جیسے موضوعات شامل تھے، جن پر انہوں نے گہرائی سے کام کیا۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ نے تدریسی شعبے میں شاندار خدمات انجام دیں اور کئی معروف اداروں میں بطور اْساتذہ، پرنسپل اور پروفیسرکام کیا:
لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی– لیکچرر اور بعد میں پرنسپل۔
گورنمنٹ کالج فار ویمن، گلبرگ، لاہور – پرنسپل۔
فارمن کرسچن کالج لاہور – پروفیسر اور بعد میں پروفیسر ایمرٹس
لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز – وزیٹنگ فیکلٹی۔
نیشنل کالج آف آرٹس اور اسکول آف پبلک پالیسی _ تدریسی خدمات۔
اْن کے تدریسی انداز میں طلبہ کو تنقیدی سوچ، بحث و مباحثہ اور تاریخی تناظر سے واقف کرانے کا خاص عنصر شامل تھا۔ جس کی وجہ سے وہ نہ صرف ایک اْستاد بلکہ فکری رہنما کے طور پر بھی جانی گئیں۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ نے اپنی پوری زندگی تعلیم، انسانی حقوق، خواتین کے حقوق، اْردو زبان اور ثقافت کے فروغ کے لیے وقف کی۔ وہ نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن (NCSW)کی چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں۔ جہاں انہوں نے معاشرتی مساوات، خواتین کی قانونی حقوق اور سماجی انصاف کی بیداری کے لیے اہم کردار ادا کیا۔وہ اپنی روشن خیالی، زبان و ادب کی گہری سمجھ اور معاشرتی مسئلوں پر کھلے مکالمے کے لیے عوامی فورمز پر بھی نمایاں رہیں۔
عارفہ سیدہ زہرہ نے نہ صرف علم بانٹا بلکہ اپنے نظریات کو اشارات، مضامین، لیکچرز اور تقریروں کے ذریعے عوام تک پہنچایا۔ اْن کی تحریریں، ادب، تاریخ، زبان، سماجی شعور اور قومی شناخت جیسے موضوعات پر مبنی تھیں، جنہوں نے پاکستانی فکری منظر نامے میں ایک مضبوط مقام قائم کیا۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ 10 نومبر 2025ء کو لاہورمیں 83 سال کی عمرمیں دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ اْن کے انتقال پر ملک بھر کے علمی، ادبی اور سماجی حلقوں نے گہرے دْکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔اْن کی وفات نے پاکستان کو ایک عظیم تعلیم دان، ادیبہ اور فکری رہنما سے محروم کر دیا، مگر اْن کا علمی اور اخلاقی ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے روشن رہنمائی کا سبب رہے گا۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ وہ شخصیت تھیں جنہوں نے اپنی زندگی تعلیم، ادب، انسانی حقوق کی خدمت کے لیے وقف کی۔ اْن کی فکری اور تعلیمی خدمات نے نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ان کا نام روشن کیا۔ اْن کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ علم کا مقصد محض تعلیم حاصل کرنا نہیں بلکہ اسے سماج کی بہتری اور انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کرنا ہے۔