ایلیسن بوتھا
18 دسمبر 1994 کی رات، 27 سالہ ایلیسن بوتھا نے ایک بالکل عام سا کام کیا۔ اْس نے اپنی ایک سہیلی کو گھر چھوڑااور پھر جنوبی افریقہ کے شہر پورٹ الزبتھ میں اپنے اپارٹمنٹ پہنچی۔ اْس نے گاڑی پارک کی اور پیچھے سے اپنے کپڑوں کا بیگ لینے کے لیے مڑی۔ اسی لمحے اس کی زندگی بدل گئی۔ایک شخص چاقو لہراتا ہوا زبردستی اْس کی گاڑی میں گھس آیا۔ اْس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی، وہ اپنی ہی گاڑی میں قیدی بن چکی تھی۔ اغوا کار نے گاڑی چلائی اور راستے میں اپنے ایک اور ساتھی کو بھی بٹھا لیا۔ وہ اْسے ایک سنسان جھاڑیوں والے علاقے میں لے گئے تاکہ وہاں اس کی چیخیں کوئی نہ سن سکے۔اْس رات جو کچھ اْس کے ساتھ ہوا، وہ انسانی سوچ سے باہر ہے۔اْسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اْس کے پیٹ پر درجنوں وار کیے گئے یہاں تک کہ اْس کی آنتیں جسم سے باہر نکال دی گئیں۔ اْس کے گلے پر اتنی بار چھری چلائی گئی کہ اْس کا سر جسم سے تقریباً الگ ہو چکا تھا۔ حملہ آور اْسے مردہ سمجھ کر وہیں مٹی میں چھوڑ کر چلے گئے۔لیکن وہ غلط تھے، ایلیسن اب بھی سانس لے رہی تھی۔اندھیرے میں خون سے لت پت پڑے ہوئے اْسے ایک بات بالکل واضح طور پر سمجھ آ گئی: اگر وہ یہاں سے نہ ہلی تو وہ وہیں مر جائے گی اور کسی کو کبھی پتہ بھی نہیں چلے گا کہ اْس کے ساتھ کیاہوا۔سب سے پہلے اْس نے ایک نشان چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اپنی انگلیوں سے اْس نے ریت پر اپنے حملہ آوروں کے نام لکھے اور اْن کے نیچے وہ چار الفاظ لکھے جنہوں نے بعد میں دنیا کو رْلا دیا:
I Love Mom (ماں، مجھے تم سے پیار ہے)
پھر اْس نے حرکت کرنا شروع کی۔ اْس کا سر پیچھے کی طرف گرِ رہا تھا کیونکہ گردن کے پٹھے کٹ چکے تھے اور پیٹ کے زخموں سے آنتیں باہر نکل رہی تھیں۔ اْس نے ایک ہاتھ سے اپنا سر سیدھا پکڑا، دوسرے سے اپنے اعضاء کو اندر روکا اور محض زندہ رہنے کی تڑپ کے سہارے رینگنا شروع کیا۔
وہ گرِتی، پھر اْٹھتی، پھر گرِتی۔ اْس کی نظر دھندلا رہی تھی، لیکن وہ ہر بار کھڑی ہو جاتی۔ آخر کار وہ سڑک تک پہنچ گئی۔رات پونے تین بجے، ایک ویٹرنری طالب علم وہاں سے گزرا۔ اْس نے ہیڈلائٹس کی روشنی میں کسی چیز کو دیکھا، پہلے اْسے لگا کہ کوئی لاش ہے، لیکن پھر اْس نے حرکت کی۔ اْس نے ایمبولینس بلائی اور ایلیسن کو ہسپتال پہنچایا۔ ڈاکٹرز حیران تھے کہ اتنے شدید زخموں کے باوجود کوئی انسان کیسے زندہ رہ سکتا ہے۔ ایک سرجن نے کہا کہ اْس نے اپنی پوری زندگی میں ایسا کیس نہیں دیکھا۔
ایلیسن نہ صرف زندہ رہی بلکہ اْس نے ہسپتال کے بستر سے ہی پولیس کو اپنے حملہ آوروں کی شناخت بتائی۔ فرانز ڈو ٹوئٹ اور تھیونس کروگر کو گرفتار کر لیا گیا اور 1995 میں انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
ایلیسن نے خاموش رہنے کے بجائے اپنی پہچان ظاہر کی اور دوسری خواتین کے لیے ہمت کی مثال بن گئی۔ اْس نے کتاب لکھی، وہ ایک موٹیویشنل اسپیکر بنی اور 30 سے زائد ممالک کا سفر کیا۔ ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ وہ شاید کبھی ماں نہ بن سکے، لیکن اْس نے دو بیٹوں کو جنم دیا۔
جولائی 2023 میں، 28 سال بعد دونوں حملہ آوروں کو پیرول پر رہا کر دیا گیا، جس سے ایلیسن کو شدید صدمہ پہنچا۔ ستمبر 2024 میں اْسے دماغی شریان پھٹنے (Aneurysm) کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے اْس کے جسم کا ایک حصہ متاثر ہوا۔لیکن فروری 2025 میں، عوامی احتجاج اور قانونی جائزے کے بعد، اْن مجرموں کی رہائی منسوخ کر دی گئی اور انہیں دوبارہ جیل بھیج دیا گیا۔
آج ایلیسن آہستہ آہستہ صحت یاب ہو رہی ہے۔ اْس نے حال ہی میں ایک پیغام دیا:”آپ جس بھی مشکل سے گزر رہے ہوں، وہ صرف ایک عارضی وقت ہے۔ یہ آپ پر اچانک بھاری پڑ سکتا ہے، لیکن اگر آپ آگے بڑھتے رہیں گے، تو دوسری طرف ضرور نکلیں گے۔ میں ٹھیک ہو جاؤں گی۔“
ایلیسن بوتھا کی کہانی صرف بچ جانے کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ اْس انسانی جذبے کی مثال ہے جو سب کچھ چھین جانے کے بعد بھی ہار ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔