FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی میں مسّیو میونخ کا پیغام: ذاتی روابط کلیسیائی شراکت داری کو مضبوط بناتے ہیں۔
فیڈریشن آف ایشین بشپ کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی میں مسّیو میونخ (Missio Munich) نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی کلیسیائی شراکت داریاں صرف مالی معاونت یا مشترکہ منصوبوں سے نہیں بلکہ باہمی ملاقاتوں، ایک دوسرے کو سننے، سیکھنے اور عالمگیر کلیسیا کے طور پر مل کر سفر کرنے کے جذبے سے مضبوط ہوتی ہیں۔یہ پیغام مسز برانکا بیگچ، پروگرام منیجر برائے ایشیا، مسّیو میونخ نے 23 جولائی کو جکارتہ کے ہوٹل مولیا میں منعقد ہونے والی 12ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔
جرمنی میں قائم پاپائی مشن سوسائٹیز کی دو شاخوں میں سے ایک، مسّیو میونخ کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے ایشیا میں تقریباً تین دہائیوں سے کلیسیائی منصوبوں کے ساتھ اپنے تجربات کا ذکر کیا۔ اگرچہ یہ ان کی FABC کی جنرل اسمبلی میں پہلی شرکت تھی، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ برسوں سے ایشیا کی کلیسیا کی زندگی، سرگرمی اور خدمت کا مشاہدہ کرتی رہی ہیں۔ان کا خطاب اس ہفتہ بھر جاری رہنے والی 12ویں جنرل اسمبلی کے دوران ہوا، جس کا موضوع تھا:”سنڈی تبدیلی کی دعوت اور ایشیا میں پْل اور پْل بنانے والے بننے کا مشن۔“برانکا بیگچ نے کہا کہ ایشیا کی کلیسیا اپنی مقامی برادریوں سے قربت، مکالمہ کے فروغ اور فعال پاسبانی خدمت کے ذریعے مسلسل دوسروں کے لیے ایک مثال بنی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ کئی برسوں سے ہم ایشیا کی کلیسیا کو لوگوں کے درمیان پْل تعمیر کرتے، بامعنی مکالمہ کو فروغ دیتے اور بے شمار افراد کے لیے حقیقی اْمید کا ذریعہ بنتے دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے مقامی کلیسیاؤں کی پاسبانی قیادت اور وابستگی کے ذریعے اْن عظیم کاموں کو حقیقت بنتے دیکھا ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ مسّیو میونخ نے ایشیا میں متعدد کامیاب منصوبوں کی معاونت کی ہے، لیکن اس بات پر زور دیا کہ حقیقی شراکت داری صرف انتظامی تعاون یا مالی امداد تک محدود نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ مسّیو میونخ کے لیے ذاتی تعلقات بہت اہم ہیں۔ ہم صرف یکجہتی کا اظہار نہیں کرنا چاہتے بلکہ سب سے بڑھ کر آپ کو سننا اور آپ سے سیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ عالمگیر کلیسیا کو کبھی بھی عطیہ دینے والوں اور وصول کرنے والوں کے تعلق کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ ہر مقامی کلیسیا اپنی منفرد نعمتوں، تجربات اور ایمانی روایات کے ذریعے پوری کیتھولک کلیسیا کو مالا مال کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمگیر کلیسیا میں شراکت داری ایسا رشتہ ہے جس میں مسیح میں بہن بھائی ہونے کے ناطے دونوں فریق ایک دوسرے کو کچھ دیتے بھی ہیں اور ایک دوسرے سے کچھ حاصل بھی کرتے ہیں۔برانکا بیگچ نے بتایا کہ مسّیو میونخ نہ صرف ایشیا میں کلیسیائی اور پاسبانی خدمات کی معاونت کرتا ہے بلکہ ایشیائی کلیسیاؤں کے تجربات کو جرمنی کے کیتھولک مؤمنین تک بھی پہنچاتا ہے، تاکہ وہ ایشیا کی کلیسیا کی زندگی، اس کے چیلنجز اور ایمان کی گواہی کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ مسّیو میونخ ایک بڑا ادارہ نہیں، لیکن اعتماد اور ذاتی تعلقات پر قائم شراکت داریاں اکثر صرف ادارہ جاتی ڈھانچوں پر مبنی تعلقات سے زیادہ دیرپا اور موثر ثابت ہوتی ہیں۔
ان کے خیالات نے 12ویں جنرل اسمبلی کے اس مرکزی پیغام کو تقویت دی کہ سنڈیلٹی کا حقیقی اظہار ایسے تعلقات میں ہوتا ہے جو مکالمہ، شرکت اور باہمی احترام پر قائم ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ جب ایشیا کی کلیسیا اپنے سنڈی سفر کو آگے بڑھا رہی ہے تو مختلف ثقافتوں اور ممالک کے درمیان ایک دوسرے کو سننا کلیسیا کے پْل تعمیر کرنے کے مشن کی تکمیل کے لیے نہایت ضروری ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے اْمید ظاہر کی کہ FABC کے ذریعے قائم ہونے والی شراکت داریاں مقامی کلیسیاؤں اور بین الاقوامی مشنری اداروں کے درمیان رفاقت کو مزید مضبوط کریں گی،تاکہ باہمی سیکھنے کا عمل اور ایشیا بھر میں کلیسیا کے مشترکہ مشن کو فروغ دیا جا سکے۔جرمنی کے شہر میونخ میں قائم مسّیو میونخ دنیا بھر میں کلیسیا کے بشارتی مشن، ایمانی تربیت اور مقامی کلیسیاؤں کے ساتھ یکجہتی کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ جرمنی کی پاپائی مشن سوسائٹیزمیں شامل یہ ادارہ باہمی اعتماد، مشترکہ ذمہ داری اور مقامی کلیسیاؤں کی قیادت کے احترام پر مبنی شراکت داری کو فروغ دیتا ہے۔