یسوع ہمارا ہمسفر ہی نہیں، ہماری منزل بھی ہے۔فوقیت مآب کارڈینل لوئس انتونیو تاگلے
مورخہ29نومبر 2025 کو”عظیم زیارتِ اُمید“ کے تیسرے دن فوقیت مآب کارڈینل لوئس انتونیو تاگلے نے پینانگ ملائیشیا میں واقع مقدسہ حنہ کے مائنر باسیلیکامیں یُوخرستی عباد ت کی قیادت فرمائی۔ہزاروں حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کارڈینل تاگلے نے کہاکہ ہم خداوند کی تعریف اور شکر ادا کرتے ہیں جس نے ہمیں ایک کمیونٹی، ایک ایمان کے خاندان کی صورت میں اکٹھا کیا ہے۔ ہم اُمید کے اسی مستقبل کے زائرین ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ اگرچہ 2033 مسیح کے (Paschal Mystery) کی 2000ویں سالگرہ ہے، مگر یہ ہماری آخری منزل نہیں۔2033 صرف ایک سالِ جشن ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم خدا کی طرف سفر کر رہے ہیں اور وہاں یسوع ہمارا انتظار کر رہا ہے۔
دانیال نبی اورعموآس کی راہ پر شاگردوں کے واقعہ پر غور کرتے ہوئے انہوں نے سمجھایا کہ اْلجھن، غیر یقینی اور محدود سمجھ بوجھ روحانی سفر کا حصہ ہیں۔ یہاں تک کہ دانا اور وفادار لوگ بھی گھبراہٹ کے لمحات سے گزرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم ایک ایسی کمیونٹی ہیں جو بہت کچھ نہیں جانتی، بہت کچھ سمجھنے کی ضرورت رکھتی ہے۔ لیکن دانیال کی طرح ہم خدا سے روشنی مانگتے ہیں اور خدا جواب دیتا ہے۔ یسوع ہماری اْلجھن میں ہمارے ساتھ چلتا، ہمیں حکمت دیتا اور ہمارے لیے روٹی توڑتا ہے۔کارڈینل تاگلے نے خبردار کیا کہ آج روحانی بصیرت کے لیے سب سے بڑا خطرہ غفلت، بے چینی اور دنیاوی لذتوں کے پیچھے بھاگناہے۔ انہوں نے بتایا کہ یسوع ہمیں ہوشیار رہنے کی دعوت دیتے ہیں:”اپنے آپ پر نگاہ رکھو۔ اگر مستقبل کا کوئی تصور نہ ہو تو ہم آج قدم نہیں بڑھا سکتے“۔
انہوں نے مندوبین کو ترغیب دی کہ وہ دْعا اور خدمت میں خاص طور پر غریبوں اور دْکھ اُٹھانے والوں کی خدمت میں جڑے رہیں۔جب ہم بھوکوں، پیاسوں، اجنبیوں اور قیدیوں کے ساتھ چلتے ہیں، تو انہی میں موجود یسوع ہمیں پہلے ہی باپ کی بادشاہی کی طرف لے جا رہا ہوتا ہے۔ غریبوں میں پیدا ہونے والا یسوع وہی یسوع ہے جو ہمیں خوش آمدید کہے گا۔
اس تقریب کی سب سے دل موہ لینے والی بات یہ تھی:یسوع صرف ہمارا ہمسفر نہیں بلکہ وہی ہماری منزل بھی ہے۔کارڈینل تاگلے نے مومنین کو ہمت دیتے ہوئے کہاکہ جب کوئی آپ سے پوچھے کہ آپ کہاں جا رہے ہیں؟تو جواب دیں میں خدا باپ کی طرف جا رہا ہوں۔اگر وہ حیران ہوں، تو انہیں بھی ساتھ چلنے کی دعوت دیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے ایک متاثرکن واقعہ سنایا کہ ایک خاتون نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر کی آخری گھڑیاں آنے پر کمرے سے باہر چلی گئیں تاکہ یسوع اور میرے شوہر اُس لمحہ کو تنہا اور پُر محبت طریقے سے گزار سکیں۔کارڈینل نے کہا کہ یہی حقیقی مسیحی اُمید ہے۔خداوند پر کامل بھروسہ، جو ہمیں اپنے پاس خوش آمدید کہنے کے لیے تیار کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ خوف نہ کرو۔ ہمارا بھائی یسوع ہمارا انتظار کر رہا ہے۔ وہ واقعی ہمارا بھائی ہے۔شام کا آغاز ریکس بینڈ کے رْوح پرور گیتوں سے ہوا۔ اس کے بعد کمیشن برائے ایونجیلائزیشن، لیٹی اور منسٹری کے چیئرمین آرچ بشپ کرسٹوفر نے ایک پْرجوش خطاب اُمید کے زائرین بنوپیش کیا۔
اسی شام آسٹریلیا کے فادر روب گالیہ،آٹھ البمز کے مصنف، گلوکار، نغمہ نگار، اور آئیکون منسٹری کے بانی نے ایک ولولہ انگیز کنسرٹ پیش کیا جس نے پورے اجتماع کو جوش سے بھر دیا۔