یسوع مسیح کے دکھوں کا تذکرہ:یسوع نے صلیب کو نجات میں بدل دیا۔

مورخہ 3اپریل 2026کو سینٹ پیٹرز باسیلیکا میں پوپ لیو چہار دہم نے پاک جمعہ کی مقدس عبادت کی صدارت فرمائی۔ ریورنڈ فادر روبرٹو پاسولینی (او۔ایف۔ایم کیپ) the Preacher of the Pontifical Household، نے وعظ میں اس بات پر زور دیا کہ یسوع نے صلیب کے راستے پر چلتے ہوئے سب سے مشکل فرمانبرداری سیکھی یعنی دوسروں سے محبت کرنا، یہاں تک کہ جب دوسرا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔پاک جمعہ سال کا واحد دن ہے جب یوخرستی قربانی ادا نہیں کی جاتی۔ کلیسیا اس دن یسوع کے دْکھوں کی پاک عبادت میں شامل ہوتی ہے، جس کے تین حصے ہوتے ہیں:
1۔ کلامِ کی عبادت
2۔پاک صلیب کی تعظیم
3۔ پاک شراکت
ریورنڈفادر پاسولینی نے کہا کہ اس مقدس دن کی عبادت ہمیں مسیح کے دْکھوں پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہم مسیح کی صلیب کو ایک بے معنی واقعہ سمجھیں یعنی اچانک اور سمجھ سے باہر ہونے والا واقعہ تو ہم اْسے مکمل طور سے نہیں سمجھ سکتے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ صلیب ایک سفر کا سب سے بلند مقام ہے ایسا سفر جو محبت کی انتہا تک پہنچتا ہے۔ فادر پاسولینی نے کہا کہ یسوع  نے باپ پر مکمل بھروسے کے ساتھ اپنی صلیب کو نجات کا ذریعہ بنا دیا۔انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ دنیا میں برائی کے مقابلے میں لوگ یا تو ہار مان لیتے ہیں یا بدلہ لیتے ہیں۔ہم روزانہ جنگوں، نفرت اور ٹوٹے رشتوں میں یہ دیکھتے ہیں۔لیکن یسوع نے اس زنجیر کو توڑ دیا،طاقت سے نہیں، بلکہ محبت اور خدمت کے ذریعے۔
انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں جنگیں ختم نہیں ہو رہیں، ناانصافیاں بڑھ رہی ہیں اور کمزور لوگ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انسانیت کو متحد کرنے والی آواز گم ہو گئی ہے۔لیکن اس کے باوجود ایک خاموش گروہ موجود ہے،ایسے لوگ جو خدا کی آواز یا اپنے ضمیر کی پکار سنتے ہیں۔ 
وہ روزمرہ کی زندگی میں دوسروں کی خدمت کرتے ہیں اور انہی کی وجہ سے برائی آخری فیصلہ نہیں بنتی۔انہوں نے زور دیا کہ دنیا کو آج بھی برائی، ناانصافی اور تقسیم سے نجات کی ضرورت ہے۔ مگر یہ نجات سیاسی یا فوجی طاقت سے نہیں آئے گی بلکہ اُن لوگوں کے ذریعے آئے گی جو خدا کے خادم کے راستے پر چلتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج  پاک صلیب کا پیغام ہمیں بھی دیا گیا ہے۔ ہم اسے تب قبول کر سکتے ہیں جب ہم یہ مان لیں کہ:
* کوئی بھی مشکل ناقابلِ برداشت نہیں 
* کوئی بھی شخص ایسا نہیں جسے ہم ہمیشہ کے لیے رد کر دیں 
* کوئی بھی دشمن ایسا نہیں جس سے محبت نہ کی جا سکے
آخر میں فادر پاسولینی نے کہا کہ ہمیں بدلے کے بجائے صبر، تاریکی میں بھی بھلائی پر یقین اور خدمت کے ذریعے خدا کے آلہ کار بننا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ایسی دنیا میں جہاں خدا کے نام پر بھی جنگیں کی جاتی ہیں، مسیحیوں کو بغیر خوف کے صلیب کے قریب آنا چاہیے اس یقین کے ساتھ کہ یہی وہ تخت ہے جہاں انسان دوسروں کی خدمت کے ذریعے حقیقی بادشاہی سیکھتا ہے۔اگر ہم اپنے ایمان پر قائم رہیں تو ہماری زندگی خوشی اور دکھ دونوں کے نغمے بن جائے گی،  یعنی صلیب کا ایسا سُر جس میں سب سے بڑی محبت کی آواز سنائی دیتی ہے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail