کوالالمپور کا پیرش گروپ کینسر کے مریضوں کے لیے ایمان، حوصلہ اور ساتھ کا سہارا

ملائیشیا کے مضافاتی شہر پیٹالنگ جایا میں واقع سینٹ اگنیشئس چرچ کے ایک میٹنگ روم میں کینسر سے بچ جانے والے افراد باقاعدگی سے جمع ہوتے ہیں تاکہ وہ اپنے ایسے تجربات شیئر کر سکیں جنہیں دوسرے لوگ پوری طرح سمجھ نہیں سکتے۔یہ پیرش آرچ ڈایوسیس آف کوالالمپور میں واقع ہے۔
تقریباً 40 اراکین، جن میں سے اکثر کینسر کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں یا اس سے صحت یاب ہو رہے ہیں، اس سپورٹ گروپ کا حصہ ہیں جو گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے سینٹ اگنیشئس چرچ کی فیملی لائف منسٹری کے تحت ملاقاتیں کر رہا ہے۔ یہ گروپ ایک ایسا ماحول فراہم کرتا ہے جہاں شرکاء بیماری، علاج اور ایمان کی حقیقتوں کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہیں۔اراکین آرچ ڈایوسیس کے مختلف پیرشز سے ماہانہ اجلاس میں شرکت کے لیے آتے ہیں۔ وہ کینسر کے جسمانی اور جذباتی اثرات کے بارے میں بات کرتے ہیں، جن میں سرجری، علاج، طویل مدتی ادویات اور اْن کے مضر اثرات شامل ہیں۔کئی چھوٹی چھوٹی باتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں صرف کینسر سے بچ جانے والے ہی سمجھ سکتے ہیں، 2016 میں اس گروپ کی بنیاد رکھنے والی پرسی چیو نے کہا۔ اس دوران ہم مذاق بھی کرتے ہیں اور خود پر ہنستے بھی ہیں۔
68 سالہ چیو کا ماننا ہے کہ ذاتی مشکلات کو شیئر کرنے سے اراکین کو اپنی بیماری سے نمٹنے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جتنا زیادہ ہم شیئر کرتے ہیں، اْتنا ہی بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ جب ہم ایک دوسرے میں مسیح کو دیکھتے ہیں تو ہمیں نااْمیدی میں بھی اْمید نظر آتی ہے۔زیادہ تر اراکین سینٹاگنیشئس  چرچ سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن یہ گروپ ہر اس شخص کا خیرمقدم کرتا ہے جو مدد کا خواہاں ہو، بشمول تیمارداروں کے۔ کچھ اراکین صحت کی خرابی یا سرجری کے بعد کی بحالی کے باعث باقاعدگی سے شرکت نہیں کر سکتے، لیکن وہ فون کالز، گھریلو ملاقاتوں، دْعا اور ایک فعال میسجنگ گروپ کے ذریعے جڑے رہتے ہیں۔
43 سالہ کیرولین جوزف اکثر سرمبان سے ایک گھنٹے سے زیادہ سفر کر کے اجلاس میں شرکت کرتی ہیں۔ چرچ آف دی وزٹیشن کی رکن، انہوں نے بتایا کہ بیضہ دانی کے کینسر کی تشخیص کے بعد وہ سوچتی تھیں کہ ْان کے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔انہوں نے کہا کہ بعد میں مجھے احساس ہوا کہ مسیح کو بھی مصلوب کیا گیا تھا۔ کیا یہ بھی ناانصافی نہیں تھی؟ میں ہمیشہ خدا سے طاقت مانگتی ہوں، اور اب مجھے لگتا ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے کہ میں اس طاقت کو کیسے استعمال کرتی ہوں۔بہت سے اراکین کے لیے یہ گروپ جذباتی اور روحانی دونوں طرح کی مدد فراہم کرتا ہے۔
78 سالہ فرانسس کھو نے اس کمیونٹی کو ”بامعنی اور مفید“قرار دیا، خاص طور پر ان دعاؤں کے ذریعے جو اراکین ایک دوسرے کے لیے علاج کے دوران کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سب سے اہم چیز کامیاب علاج اور بیماری کے دوبارہ نہ آنے کے لیے دْعا ہے۔ دْعا ہمیں سکون اور یہ یقین دیتی ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔کھو نے گلے کے کینسر کے باعث اپنی آواز کھو دی جب بیماری علاج کے دوران پھیل گئی۔ دوسری بار ریڈیوتھراپی سے فالج کا خطرہ تھا، اس لیے سرجری ہی واحد راستہ رہ گیا۔ بولنے سے محروم ہونے کے باعث انہوں نے اپنے خیالات ایک پیغام کے ذریعے شیئر کیے جو اْن کی اہلیہ نے پڑھ کر سنایا۔انہوں نے کہاکہ میں مایوس تھا کیونکہ میں بہت باتیں کیا کرتا تھا، لیکن مراقبہ اور دْعا کے ذریعے مجھے سکون ملنا شروع ہوا۔
75 سالہ این پون دوسری بار کینسر کا سامنا کر رہی ہیں، اس سے پہلے وہ بریسٹ کینسر سے بچ چکی تھیں۔ جبڑے میں مسلسل درد بعد میں ایک اور قسم کے کینسر کی تشخیص نکلا۔انہوں نے کہا کہ میں خود کو مضبوط محسوس کرتی ہوں اور ریڈیوتھراپی کے کم سے کم سائیڈ ایفیکٹس ہیں۔ میں زندہ ہونے پر شکر گزار ہوں۔
70 سالہ کم اینگ، جن کا علاج لیمفوما کے لیے ہوا، کہتی ہیں کہ اس گروپ میں چھوٹے چھوٹے اشارے بھی خاص معنی رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں پہلے ”گڈ مارننگ“کے پیغامات سے پریشان ہو جاتی تھی، لیکن اس گروپ میں یہ اہم ہے۔ جب کوئی گڈ مارننگ کہتا ہے تو ہمیں یاد آتا ہے کہ آج زندہ ہونا ایک نعمت ہے۔
79 سالہ پالین اینگ نے بھی تھائیرائیڈ کینسر کے حالیہ علاج کے بارے میں بات کی، جس کے لیے انہیں ریڈیوایکٹو آئیوڈین تھراپی کے بعد کئی دن تنہائی میں گزارنے پڑے۔ یہ تشخیص اس وقت ہوئی جب وہ دہائیوں پہلے یوٹرائن کینسر سے بچ چکی تھیں۔انہوں نے کہاایمان مجھے ان چیلنجز کا سامنا کرنے میں مدد دیتا ہے۔
اینگ اور اسٹیلا وون،اس گروپ کی بانی اراکین میں شامل ہیں۔ وون اب بھی اْن مریضوں تک پہنچتی ہیں جو گھر تک محدود ہیں اور اجلاس میں شرکت نہیں کر سکتے۔اس سپورٹ گروپ کی بنیاد چیو کے اپنے کینسر کے تجربے سے جڑی ہے۔ 1994 میں انہیں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی اور انہوں نے کئی سرجریز کروائیں، جن میں پرتھ، آسٹریلیا میں ایک بڑی بائی پاس سرجری بھی شامل ہے۔اس دوران انہوں نے زیادہ تر اپنے خاندان اور دوستوں پر انحصار کیا۔ صحت یاب ہونے کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ دوسروں کے لیے بھی ایسا ہی سپورٹ نیٹ ورک ہونا چاہیے۔آسٹریلیا میں قیام کے دوران انہوں نے پہلی بار یہ خیال کارملائٹ کاہن سنی پی ابراہیم کے ساتھ شیئر کیا، جنہوں نے اس کی حوصلہ افزائی کی۔
2015 میں ملائیشیا واپسی کے بعد، چیو نے سینٹ اگنیشئس چرچ میں سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ اگلے سال فیملی لائف منسٹری کی کوآرڈینیٹر شیلاگ نونس کی مدد اور اس وقت کے پیرش پرِسٹ اینڈریو وونگ
 کی منظوری سے اس گروپ کا باضابطہ آغاز ہوا۔یہ گروپ ہر ماہ دوسرے ہفتے کے ہفتہ کو ملاقات کرتا ہے اور کبھی کبھار بیماری اور دیکھ بھال سے متعلق موضوعات پر لیکچرز بھی منعقد کرتا ہے۔
اجلاسوں کے علاوہ، یہ منسٹری عملی مدد بھی فراہم کرتی ہے۔ فیملی لائف منسٹری وٹامن سپلیمنٹس تقسیم کرتی ہے، جن میں آملہ بھی شامل ہے جو وٹامن سی سے بھرپور ہوتا ہے، جبکہ اس کے کوآرڈینیٹر لیونارڈ لم باقاعدگی سے اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں تاکہ اراکین کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ایک موقع پر، لم نے اراکین کے لیے سینٹ جُوڈ چرچ تک زیارت کے لیے ٹرانسپورٹ کا بھی انتظام کیا، جو پیٹالنگ جایا سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ہے۔
چیو، جن کے شوہر 2017 میں کولون کینسر سے انتقال کر گئے، کا ماننا ہے کہ چرچ کمیونٹیز سنگین بیماریوں سے متاثرہ افراد کی مدد میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چرچ ایک ایسی جگہ ہے جہاں لوگ سمجھ بوجھ، روحانی رہنمائی اور ساتھ پا سکتے ہیں۔انہوں نے اپنے تجربات کو ایک کتاب ”مائی جرنی ود بریسٹ کینسر کنٹینیوز“میں بھی قلمبند کیا ہے۔ہر ماہ جمع ہونے والے اراکین کے لیے یہ سپورٹ گروپ ایک ایسی جگہ بن چکا ہے جہاں بیماری کا مقابلہ اجتماعی طور پر کیا جاتا ہے—گفتگو، دْعا اور اس خاموش یقین کے ساتھ کہ کوئی بھی اس سفر میں اکیلا نہیں ہے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail