پاکستان کی کلیسیا خدمت کے ذریعے امن و ہم آہنگی کے پل تعمیر کر رہی ہے۔
پاکستان میں جہاں مسیحیوں کی آبادی مجموعی آبادی کا دو فیصد سے بھی کم ہے، وہاں کیتھولک کلیسیا کے لیے مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانا روزمرہ کی پاسبانی خدمت کا ایک بنیادی حصہ ہے۔
20 تا 26 جولائی 2026 تک ایشیا بھر کے بشپ صاحبان جکارتہ، انڈونیشیا میں فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز (FABC) کی بارہویں جنرل اسمبلی میں جمع ہوں گے۔ اس اجلاس کا مرکزی موضوع ہے: ”سنڈی تبدیلی کی دعوت اور ایشیا میں پل بننے اور پل تعمیر کرنے کا مشن“۔پاکستان میں، جہاں 24 کروڑ سے زائد آبادی میں مسیحیوں کا تناسب دو فیصد سے بھی کم ہے، مختلف مذاہب کے درمیان فاصلے کم کرنا صرف ایک سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ بقا کا ایک لازمی ذریعہ بھی ہے۔ ایسے میں پل تعمیر کرنا اس بات کی علامت ہے کہ تمام اختلافات اور نفرت کی دیواروں کو انسانی وقار، باہمی احترام اور مشترکہ انسانیت کے ذریعے عبور کیا جائے۔پاکستان کی کلیسیا نے معاشرے کے لیے جو سب سے مضبوط پْل تعمیر کیے ہیں، ان کی بنیاد کئی دہائیوں سے جاری بے لوث خدمات پر قائم ہے، جن سے پوری قوم مستفید ہو رہی ہے۔
۱۔تعلیم
بین المذاہب مکالمہ کے باضابطہ دفاتر قائم ہونے سے بہت پہلے، کراچی میں سینٹ پیٹرک سکول اور لاہور میں سینٹ انتھونی سکول جیسے تاریخی کیتھولک مشنری تعلیمی ادارے سماجی ہم آہنگی کے مراکز بن چکے تھے۔ان اداروں نے نسلوں تک اکثریتی مسلم طلبہ کو تعلیم دی، جہاں مستقبل کے وزرائے اعظم، جج، فوجی افسران اور دیگر قومی رہنما اقلیتی طلبہ کے ساتھ ایک ہی ماحول میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بانیِ پاکستان”قائدِ اعظم محمد علی جناح نے بھی سینٹ پیٹرک سکول میں تعلیم حاصل کی تھی۔مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو ایک ہی تعلیمی ماحول فراہم کرکے کلیسیا نے خاموشی سے تعصبات کو کم کرنے اور پاکستان کی آئندہ نسلوں میں باہمی احترام کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
۲۔صحت اور انسانی ہمدردی کی خدمات
جب قدرتی آفات یا معاشی بحران ملک کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں تو کلیسیا کی امدادی سرگرمیاں مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کرتیں۔کاریتاس پاکستان اور مختلف کیتھولک ہسپتال صرف انسانی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے امداد فراہم کرتے ہیں۔حالیہ تباہ کن سیلابوں کے دوران کلیسیا کی امدادی ٹیمیں ملک بھر میں متاثرہ علاقوں تک پہنچیں، جہاں ہزاروں بے گھر مسلمان خاندانوں کو رہائش، صاف پانی، خوراک اور طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ یہ غیر مشروط محبت اور خدمت کی ایک مؤثر مثال تھی۔
۳۔امن و مکالمے کے علمبردار رہنما
پاکستان کی کلیسیا کو قومی زندگی کا ایک باوقار اور فعال حصہ بنانے میں کئی رہنماؤں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
فوقیت مآب کارڈینل جوزف کوٹس
جب بھی علاقائی یا مذہبی کشیدگی اقلیتوں کے لیے خطرہ بنی، فوقیت مآب کارڈینل جوزف کوٹس نے مسلمان علما اور مدارس کے ساتھ مسلسل رابطے برقرار رکھے، جس سے متعدد مواقع پر فرقہ وارانہ کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ملی۔
عزت مآب بشپ سیمسن شکردین
پاکستان کیتھولک بشپز کانفرنس کے صدر عزت مآب بشپ سیمسن شکردین سندھ کے دیہی علاقوں میں رہنے والے پسے ہوئے مسیحیوں اور نہایت پسماندہ ہندو برادری کے افراد کے حقوق کے لیے سرگرم آواز ہیں۔انہوں نے انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کے ساتھ مل کر اقلیتوں کے مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ریورنڈ فادر جیمز چنن، او۔ پی
لاہور کے پیس سینٹر کے ڈائریکٹر ریورنڈفادر جیمز چنن گزشتہ کئی دہائیوں سے بین المذاہب ہم آہنگی کو ادارہ جاتی شکل دینے میں مصروف ہیں۔انہوں نے مقامی امن کونسلوں اور بین المذاہب ک ہم آہنگی کے اداروں کے ذریعے ملک بھر میں بین المذاہب مکالمہ کو فروغ دیا تاکہ فرقہ وارانہ انتہا پسندی کا مقابلہ کیا جا سکے۔
ریورنڈ فادر فرانسس ندیم، او ایف ایم کیپ
مرحوم ریورنڈفادر فرانسس ندیم، جو قومی کمیشن برائے بین المذاہب مکالمہ و ہم آہنگی کے طویل عرصہ تک ایگزیکٹو سیکرٹری رہے، پاکستان میں بین المذاہب روابط کی بنیاد رکھنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔انہوں نے ”امن کارواں“ جیسے منصوبوں کے ذریعے ثابت کیا کہ اگر اخلاص اور مستقل مزاجی ہو تو کشیدہ حالات میں بھی امن کی ثقافت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر روتھ فاؤ
جرمنی سے تعلق رکھنے والی مرحومہ ڈاکٹر روتھ فاؤ 1960 میں پاکستان آئیں اور اپنی زندگی کے پچاس سال سے زائد عرصہ جذام کے خاتمے کے لیے وقف کر دیا۔کراچی کے”میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر“ میں ان کی خدمات مذہبی اور سماجی تفریق سے بالاتر تھیں۔ اسی وجہ سے انہیں ”پاکستان کی مدر ٹریضہ“ کہا گیا، اور ان کی وفات پر انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔
پاکستان کی کلیسیا کا تجربہ ایشیا کی دیگر کلیسیاؤں کے لیے ایک اہم سبق پیش کرتا ہے کہ نبوی گواہی دینے کا مطلب خود کو خوف اور تنہائی کے حصار میں قید کرنا نہیں بلکہ اکثریتی معاشرے کی طرف محبت، خدمت اور مکالمے کا ہاتھ بڑھانا ہے۔تعلیم، صحت، سماجی خدمت اور مسلمان مذہبی رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے کے ذریعے پاکستان کی کلیسیا خاموش مگر مؤثر انداز میں یہ ثابت کر رہی ہے کہ پُرامن بقائے باہمی کوئی محض مثالی تصور نہیں بلکہ ملک کے مشترکہ مستقبل کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔