مونسیگنور پروفیسر توماش ہالِک نے FABC سے بدلتی دنیا میں روح القدس کی رہنمائی میں خدا کی مرضی جاننے کی اپیل کی۔

مونسیگنور پروفیسر توماش ہالِک
مونسیگنور پروفیسر توماش ہالِک

مونسیگنور پروفیسر توماش ہالِک نے کہا ہے کہ اگر کلیسیا آج کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کا وفاداری سے جواب دینا چاہتی ہے تو اسے صرف معلومات میں اضافہ کرنے کے بجائے روحانی حکمت اور روحانی امتیازکو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے یہ بات فیڈریشن آف ایشین بشپ کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہی۔23 جولائی کو جمہوریہ چیک سے ویڈیو لنک کے ذریعے بشپ صاحبان اور شرکاسے خطاب کرتے ہوئے پراگ کی ”چارلس یونیورسٹی“ میں عمرانیات کے پروفیسر مونسیگنور توماش ہالِک نے کہا کہ کلیسیا اِس وقت عالمی سطح پر گہری تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے، جس میں خدا اور ایک دوسرے کی آواز کو پہلے سے زیادہ توجہ سے سننے کی ضرورت ہے۔ان کا یہ خطاب انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں منعقد ہونے والی 12ویں جنرل اسمبلی کا حصہ تھا، جس میں ایشیا بھر سے کلیسیائی رہنما”سنڈی تبدیلی کی دعوت اور ایشیا میں پْل اور پْل تعمیر کرنے والے بننے کے مشن“ کے موضوع پر غور و خوض کر رہے ہیں۔اگرچہ وہ ذاتی طور پر اجلاس میں شریک نہ ہو سکے، تاہم انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی جغرافیائی فاصلے تو کم کر سکتی ہے، لیکن ایمانی رفاقت کی جگہ نہیں لے سکتی۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی جغرافیائی فاصلے ختم کر سکتی ہے، لیکن جدید ترین ٹیکنالوجی بھی حقیقی قربت پیدا نہیں کر سکتی۔ حقیقی قربت ہمارے ایمان اور کلیسیا اور ہمارے خداوند کے لیے مشترکہ ذمہ داری سے جنم لیتی ہے۔انہوں نے اپنے خطاب کا مرکزی نکتہ روحانی امتیاز کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مواصلات اور تیزی سے بدلتے ہوئے سماجی و سیاسی حالات کے دور میں کلیسیا کو پہلے سے زیادہ گہری بصیرت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا:جتنی زیادہ معلومات ہمارے پاس ہوں گی، اتنی ہی زیادہ ہمیں صحیح امتیاز کی حکمت کی ضرورت ہوگی۔انہوں نے واضح کیا کہ صرف علم آج کے پیچیدہ حالات کا سامنا کرنے کے لیے کافی نہیں۔مونسیگنور ہالِک نے بشپ صاحبان کو تلقین کی کہ وہ 12ویں جنرل اسمبلی کو صرف ایک انتظامی اجلاس نہ سمجھیں بلکہ اسے روح القدس کی آواز کو مل کر سننے اور کلیسیا کے مشن کو زندہ کرنے کا موقع تصور کریں۔انہوں نے اسمبلی کے موضوع، جو یوحنا 1:50 کے الفاظ”تْو اس سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا۔“ (یوحنا 1:50)سے ماخوذ ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے شرکاء کو دعوت دی کہ وہ غور کریں کہ آج خدا کلیسیا کو کون سے بڑے کام دکھانا چاہتا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمگیر کلیسیا میں ایشیا کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے، کیونکہ اس کی آبادی، ثقافتی تنوع اور مذہبی کثرت مستقبل کی کیتھولک کلیسیا کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

مونسیگنور پروفیسر توماش ہالِک
مونسیگنور پروفیسر توماش ہالِک

مونسیگنور ہالِک کے مطابق حقیقی سنڈی تبدیلی انتظامی ڈھانچوں یا طرزِ حکمرانی میں تبدیلی سے نہیں بلکہ خدا، ایک دوسرے اور دنیا کے حالات کو نئے انداز سے سننے سے شروع ہوتی ہے۔انہوں نے ہر سنڈی اجتماع کو ”روحانی امتیاز کی درسگاہ“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں خدا کے لوگ روزمرہ زندگی کے عام واقعات میں خدا کی موجودگی کو پہچاننا سیکھتے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ آج کا معاشرہ اکثر شور، سنسنی اور غیر معمولی واقعات پر توجہ دیتا ہے، جبکہ خدا کا عمل اکثر خاموش اور بظاہر معمولی واقعات میں ظاہر ہوتا ہے۔ اسی لیے کلیسیا کو چاہیے کہ وہ ہر مسئلے کا صرف عملی حل پیش کرنے کے بجائے اپنی روحانیت، الٰہیات اور ایمانی بصیرت کو مزید گہرا کرے۔ان کا خطاب جنرل اسمبلی میں سنڈیلٹی، جدید تہذیب کو درپیش بحران اور حکمت، مکالمہ اور مضبوط تعلقات کے ذریعے اْمید کا پیغام دینے کے موضوعات کے لیے ایک وسیع فکری بنیاد فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ کلیسیا کا سنڈی سفر صرف ایک ساتھ چلنے کا نام نہیں بلکہ دْعا اور روحانی امتیاز کے ذریعے خدا کی مرضی کو گہرائی سے پہچاننے کا سفر بھی ہے، تاکہ کلیسیا اُن بڑے کاموں کو دیکھ سکے جو خدا آج بھی اپنے لوگوں پر ظاہر کر رہا ہے۔