ریورنڈ فادر ایم۔ڈی۔تھامس مذاہب کے درمیان محبت،احترام اور امن کے داعی

ریورنڈفادر ایم۔ ڈی۔ تھامس نے مکالمہ، تعلیم اور ذاتی روابط کے ذریعے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان ہم آہنگی اور اعتماد کے پل تعمیر کرنے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی ہے۔جب فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز (FABC) اپنے آئندہ جنرل اجلاس کی تیاری کر رہی ہے، جو انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ”سِنڈی تبدیلی اور ایشیا میں پْل اور پْل بنانے والے بننے کے مشن“ کے موضوع کے تحت منعقد ہوگا، تو بھارتی کاہن فادر ایم۔ ڈی۔ تھامس کی زندگی اور خدمات اس وژن کی ایک زندہ مثال کے طور پر سامنے آتی ہیں۔
چار دہائیوں سے زائد عرصے سے فادر تھامس مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان مکالمہ، تعلیم اور ذاتی روابط کے ذریعے ہم آہنگی اور باہمی احترام کو فروغ دینے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ایشیا جیسے مذہبی تنوع سے بھرپور خطے میں، جہاں مختلف عقائد کے پیروکار ایک ساتھ رہتے ہیں، ان کی خدمت اس یقین کی عکاسی کرتی ہے کہ پائیدار امن تقسیم سے نہیں بلکہ باہمی سمجھ بوجھ، احترام اور دوستی سے قائم ہوتا ہے۔فادر تھامس نے اپنی زندگی میں کئی منفرد اعزازات حاصل کیے ہیں۔ وہ مشنریز آف سینٹ تھامس (MST) کے اولین ارکان میں شامل تھے، بنارس ہندو یونیورسٹی، وارانسی سے ہندی زبان میں ڈاکٹریٹ حاصل کرنے والے پہلے کاہن بنے، اور کیتھولک بشپز کانفرنس آف انڈیا (CBCI) کے کمیشن برائے مذہبی ہم آہنگی کے پہلے قومی سیکریٹری مقرر ہوئے، جہاں انہوں نے نو برس تک خدمات انجام دیں۔

2014 سے 73 سالہ فادر تھامس نئی دہلی میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف ہارمنی اینڈ پیس اسٹڈیز (IHPS) کے بانی اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران انہوں نے ہندو مت، اسلام، مسیحیت، سکھ مت، بدھ مت، جین مت، بہائی مذہب، یہودیت، احمدیہ برادری اور دیگر مذہبی روایات کے ماننے والوں کے درمیان مکالمہ اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے اپنی زندگی وقف کر رکھی ہے۔
فادر تھامس کا کہنا ہے کہ ایک ایسی دنیا میں جہاں مذہب کے نام پر نفرت اور قتل و غارت ہو رہی ہے، مختلف مذاہب کے درمیان مکالمہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امن اور ہم آہنگی کا یہ مشن، جس پر میں کئی دہائیوں سے کاربند ہوں، مجھے خوشی عطا کرتا ہے اور مجھے اس الٰہی سرچشمے سے جوڑے رکھتا ہے جس سے یہ مشن وابستہ ہے۔ پوپ فرانسس کی  دستاویزفراتیلی تُوتی (Fratelli Tutti)نے بھی اسی وژن پر بھرپور زور دیا ہے۔ان کی خدمات پوپ فرانسس کے بین المذاہب مکالمہ کے وژن سے گہری مطابقت رکھتی ہیں، جس کا نمایاں اظہار 2019 میں ابوظہبی میں جامعہ الازہر کے عظیم امام شیخ احمد الطیب کے ساتھ انسانی اخوت، عالمی امن اور مشترکہ بقائے باہمی سے متعلق تاریخی دستاویز پر دستخط کی صورت میں سامنے آیا۔اپنے مشن کی بنیاد کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فادر تھامس اپنے خاندانی ماحول کو اس کا اصل محرک قرار دیتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں:میں مسیحی برادری کی وسیع تر بھلائی کے لیے کام کرنا چاہتا تھا۔ اس جذبے کا سہرا میرے گھر کی تربیت کو جاتا ہے۔
اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ 1969 میں سیمنری میں داخل ہوئے، جہاں تربیت کے دوران ان کے اندر بین المذاہب ہم آہنگی کا جذبہ بتدریج پروان چڑھتا گیا۔بعد ازاں وسطی بھارت میں بطور کاہن خدمات انجام دیتے ہوئے ان کا مختلف مذاہب اور نظریات سے تعلق رکھنے والے افراد سے واسطہ پڑا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ہندی زبان پر محدود عبور ان کی خدمت میں رکاوٹ بن رہا ہے، چنانچہ انہوں نے ہندی ادب سیکھنے کا فیصلہ کیا۔

وہ یاد کرتے ہیں:میدانِ خدمت کی ضروریات کو محسوس کرتے ہوئے میں نے دیگر کئی امکانات کو ترک کر کے ہندی ادب سیکھا۔ہندی زبان میں مہارت نے انہیں مقامی آبادی سے گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد دی۔ اسی عرصے میں انہوں نے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی مشترکہ روحانی موسیقی کی محافل منعقد کیں اور دیہی خواندگی کے ایک منفرد منصوبے کا آغاز کیا، جس میں اسکول کے طلبہ دیہات کے بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھاتے تھے۔
بعد ازاں انہوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور اس ادارے سے ہندی میں پی ایچ ڈی کرنے والے پہلے مسیحی کاہن بن گئے۔
وہ بتاتے ہیں:میری تحقیق کا موضوع ”کبیر اور مسیحی فلسفہ“تھا۔
ان کی تحقیق میں پندرہویں صدی کے عظیم صوفی شاعر ”کبیر“ کی تعلیمات کا مسیحی فلسفے کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا گیا، جس سے مختلف مذہبی روایات میں مشترکہ روحانی اقدار کو اْجاگر کیا گیا۔
1994 میں ڈاکٹریٹ مکمل کرنے کے بعد وہ انسٹی ٹیوٹ آف ریلیجن اینڈ کلچر کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے، جہاں انہوں نے بین المذاہب مکالمہ، بین الثقافتی تعلیم، کثیر لسانی تعلیم اور مختلف علمی شعبوں کے امتزاج کو فروغ دیا۔
بعد ازاں انہوں نے ریاست اتر پردیش کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اْردو زبان کی تعلیم بھی حاصل کی، جس کے ذریعے وہ مسلم برادری سے زیادہ مؤثر انداز میں رابطہ قائم کرنے کے قابل ہوئے۔
بعد میں انہیں سی بی سی آئی کمیشن برائے مذہبی ہم آہنگی کا قومی سیکریٹری مقرر کیا گیا، جہاں انہیں بھارت کے مذہبی طور پر متنوع معاشرے میں امن اور بین المذاہب مکالمہ کے فروغ کے لیے وسیع تر پلیٹ فارم میسر آیا۔ان کا تحقیقی مقالہ ہندی زبان میں ”کبیر اور مسیحی چنتن“ (Kabeer aur Eesaayee Chintan) کے عنوان سے شائع ہوا، جسے ہندی اکیڈمی کی جانب سے”ساہتیہ کرتی سمان“ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اپنی مذہبی خدمات کے علاوہ فادر تھامس نے بھارت اور بیرونِ ملک متعدد جامعات اور کالجوں میں تدریسی خدمات انجام دیں، علمی کانفرنسوں، بین المذاہب اجتماعات اور سول سوسائٹی کے فورمز سے خطاب کیا، کئی پی ایچ ڈی محققین کی نگرانی کی اور مختلف تعلیمی اداروں میں وزیٹنگ پروفیسر بھی رہے۔
انہوں نے بین المذاہب مکالمہ، مذہبی ہم آہنگی اور امن کے موضوعات پر 12 کتابیں تصنیف کیں، جن میں سات انگریزی اور پانچ ہندی زبان میں ہیں۔ ان کے مضامین متعدد جرائد اور اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں، جبکہ انہوں نے دو موسیقی کے البمز بھی جاری کیے ہیں۔
جب فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز (FABC) اس بات پر غور کر رہی ہے کہ ایشیا میں کلیسیا کس طرح ایک مؤثر پل بنانے والی برادری بن سکتی ہے، تو فادر ایم۔ ڈی۔ تھامس کی زندگی اور خدمات اس مشن کی ایک روشن مثال کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ اپنی علمی کاوشوں، بین المذاہب مکالمہ اور مختلف عقائد کے ماننے والوں کے ساتھ دہائیوں پر محیط صبر آزما تعلقات کے ذریعے انہوں نے ثابت کیا ہے کہ اعتماد اور امن کے پْل ایک وقت میں ایک تعلق استوار کرنے سے بنتے ہیں، جہاں باہمی افہام و تفہیم شکوک و شبہات پر غالب آتی ہے اور امن کو فروغ ملتا ہے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail