خواتین کوئی بعد از خیال نہیں، بلکہ تخلیق کا تاج ہیں۔ڈاکٹر بینا منوج،بھارتی ماہرِ تعلیم
مورخہ 28 نومبر 2025 کو ڈاکٹر بینا منوج نے دی لائٹ ہوٹل، پینانگ کے اریگانو ہال میں ”نسوانی بصیرت: خدا کی محبت اور زندگی کا عکس“کے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ خواتین خدا کی نرمی، قوت، شفقت اور زندگی بخش محبت کی ایسی صورت پیش کرتی ہیں جو مردوں سے مختلف مگر تکمیلی ہے۔
نیز انہوں نے ایشیا کی کلیسیا سے مطالبہ کیا کہ وہ نسوانی بصیرت کی قدر، اس کی حفاظت اور اس کے ساتھ مل کر خدمت کرے۔اس سیشن میں 120 سے زائد بشپ صاحبان، کاہن اور عام مومنین نے شرکت کی۔ ڈاکٹر منوج نے مرد شرکاء کی موجودگی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی میں نے نسوانی بصیرت پر کوئی سیشن لیا ہے، مردحضرات کی موجودگی میرے لیے اور یہاں موجود تمام خواتین کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنی ہے۔
ڈاکٹر بینا منوج اس وقت کیرالہ کے سینٹ ٹریضہ کالج میں روحانی و مذہبی زندگی کی ڈین کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ 36 سالہ تدریسی تجربے کے دوران انہوں نے ہزاروں نوجوان خواتین کی روحانی اور علمی تربیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ 1998 کی ایشین سنڈ آف بشپس میں مدعو کی جانے والی واحد بھارتی خاتونِ عام تھیں اور آج بھی کلیسیا میں خواتین کی دعوت اور قیادت کے موضوع پر بین الاقوامی سطح پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
نسوانی بصیرت
ڈاکٹر منوج نے اپنا سیشن پوپ جان پال دوم کی تاریخی دستاویز Mulieris Dignitate کے تناظر میں پیش کیا، جس میں نسوانی بصیرت کی اصطلاح پہلی بار متعارف کرائی گئی تھی تاکہ خواتین کی عظمت، بلاہٹ اورخداداصلاحتیوں کی وضاحت کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح اس دستاویز کو پڑھنے سے، اْن کی اپنی نسوانی شناخت اور بلاہٹ کو سمجھنے میں مدد ملی اور یہی تجربہ وہ کلیسیا کی تمام خواتین کے لیے چاہتی ہیں۔
نسوانی بصیرت کوئی نعرہ نہیں، بلکہ ایک الٰہی حقیقت ہے۔ خواتین خدا کی فروتنی، قوت، شفقت اور زندگی بخش محبت،مردوں سے مختلف مگر تکمیلی انداز میں ظاہر کرتی ہیں۔ مرد اور عورت مل کر خدا کی شبیہ کی پوری حقیقت پیش کرتے ہیں۔یہ سیشن اگرچہ الٰہیات پر مبنی تھا لیکن انتہائی مذہبی اور عملی نوعیت کا تھا۔ ڈاکٹر منوج نے ذاتی واقعات، بائیبل مقدس کے کرداروں اور روزمرہ زندگی کی مثالوں کے ذریعے واضح کیا کہ خواتین کی نعمتیں کس طرح خاندان، معاشرے اور کلیسیا کو تعمیر کرتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ عورت کسی بعد از خیال کے طور پر نہیں بلکہ ”تخلیق کے تاج“کے طور پر پیدا کی گئی،عزت میں برابر، نعمتوں میں منفرد اور زندگی کی پرورش کی ذمہ داری اِس کے سپرد کی گئی۔انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ خود یسوع نے عورتوں کے دل و دماغ کو اس گہرائی سے سمجھا جس کی مثال نہیں ملتی اور صلیب تلے بھی وہی ثابت قدم رہیں۔ ان کی جرات، بصیرت اور محبت آج کی دنیا کے لیے خدا کے چہرے کا ایک ضروری عکس ہیں۔
ڈاکٹر منوج نے پوپ جان پال دوم کے بیان کردہ چار ستونوں پر گفتگو کی۔یعنی قبولیّت، حساسیت، سخاوت، اور مادریّت۔ یہ خصوصیات کوئی فرض یا دقیانوسی تصورات نہیں بلکہ خدا کی عطا کردہ روحانی اور اخلاقی نعمتیں ہیں۔
۱۔ قبولیت
قبولیت کمزوری نہیں، بلکہ خدا، انسان اور حقیقت کے لیے جرأت مند اقدام ہے۔ مقدسہ مریم کی”ہاں“اس کا کامل نمونہ ہے۔غیر یقینی حالات میں بھی خدا پر بھروسے کے ساتھ دیا گیا جواب۔ ایک ایسی دنیا میں جو کنٹرول اور غلبے کو ترجیح دیتی ہے، قبولیّت آزادی کا احترام کرنے والی الٰہی محبت کی گواہ ہے۔خواتین جسمانی طور پر زندگی کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، مگر روحانی طور پر وہ لوگوں کو قبول کرنے، جگہ دینے، تھامنے اور گھر بنانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔
۲۔حساسیت
یعنی دل کی آنکھوں سے دیکھنا۔حساسیت دوسروں کے غیر کہے ہوئے درد، ضرورت اور وقار کو محسوس کرنے کی صلاحیت ہے۔ خواتین اکثر وہ دیکھ لیتی ہیں جو دوسروں کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ یہ خدا کے اُن الفاظ کی جھلک ہے کہ ”میں نے اپنی قوم کی مصیبت دیکھی اور ان کی فریاد سنی۔“حساسیت نظاموں کو انسانی بناتی اوررشتوں کو ترجیح دیتی ہے نیز کسی کو نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتی۔
۳۔ سخاوت
یعنی بغیر حساب کتاب محبت لٹانا،سخاوت نسوانی بصیرت کا دل ہے۔ خواتین فطری طور پر اشخاص کو ترجیح دیتی ہیں اور بغیر فائدہ سوچے اپنا وقت اور محبت پیش کر دیتی ہیں۔ گھروں، اسکولوں اور کلیسیاؤں میں اِن کی بے آواز خدمت،مسیح کی غیر مشروط محبت کی جھلک ہے۔ یہ سخاوت گھر ہی نہیں بلکہ کلیسیا کی بنیادوں کو مضبوط کرتی ہے۔
۴۔مادریت
یعنی جسمانی اور روحانی زندگی کی پرورش،مادریّت صرف حیاتیاتی ماں بننے تک محدود نہیں بلکہ یہ روحانی مادریت بھی ہے۔ایمان، شفا، نشوونمااور تعلق کی پرورش۔ خواتین جہاں بھی ہوں،کمرہ جماعت، گھر، وزارت، یا دفتر میں وہ اْسے گھربنا دیتی ہیں۔ مادریت حفاظت، رفاقت، صبر، اور نرمی مگر مضبوطی کے ساتھ تربیت دینے سے پہچانی جاتی ہے۔
ڈاکٹر منوج نے یاد دلایا کہ نسوانی بصیرت ایشیا کی کلیسیا کے لیے ایک طاقتور قوت ہے۔ جب خواتین اپنی نعمتوں کو آزادی، سچائی اور خوشی کے ساتھ جیتی ہیں تو وہ خدا کی محبت کی علامت اور شفا و اْمید کی سفیر بن جاتی ہیں۔ انہوں نے مردوں کو دعوت دی کہ وہ ان نعمتوں کی عزت کریں، ان کی حفاظت اور ان کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ کلیسیا خدا کے منصوبہ کے پورے حْسن کی عکاسی کر سکے۔
اس سیشن کے اختتام پر مقدسہ مریم سے شفاعت مانگی گئی تاکہ ہماری روزمرہ زندگی اور خدمت میں نسوانی بصیرت کو پنپنے کا موقع ملے۔