خواتین خاندان کی معمار ہیں۔فضیلت مآب آرچ بشپ خالد رحمت
مورخہ 17 اپریل 2026 کولائف فار گارڈین فاؤنڈیشن لاہور نے اقلیتی خواتین کیلئے لیڈرشپ کانفرنس کا انعقاد کیا۔ یہ فاؤنڈیشن امن کے فروغ اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔اس کانفرنس میں فضیلت مآب آرچ بشپ خالد رحمت نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت فرمائی۔ اس تقریب میں پنجاب بھر سے 200 سے زائد خواتین رہنماؤں، اْساتذہ اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔اس کانفرنس میں پسماندہ مذہبی برادریوں کو بااختیار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بشپ جی نے اپنے خطاب میں خاندان کے ادارے کے تحفظ اور مضبوطی کی ضرورت پر زور دیا اور اسے آنے والی نسل کے لیے روحانی و سماجی بنیاد قرار دیا۔ اس بات پر زور دیا کہ کمیونٹی کا بنیادی مشن اپنے بچوں کو مضبوط اخلاقی اور روحانی بنیاد فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے خاندان کو”ایمان کا پہلا مدرسہ“قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی بقا اس بات پر منحصر ہے کہ بچوں کی تربیت شعوری انداز میں کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو یسوع مسیح تک پہنچائیں اور والدین و رہنماؤں کو تلقین کی کہ وہ محبت، ہمدردی اور دیانت جیسی انجیل کی بنیادی اقدار سکھائیں تاکہ نوجوان ایک مشکل سماجی ماحول میں روشنی بن سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسیح میں مضبوط بنیاد کے بغیر نئی نسل دنیاوی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
بشپ جی نے کہا کہ قیادت کوئی اختیار نہیں بلکہ خدمت کا نام ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ جب خواتین، جنہیں انہوں نے خاندان کی”معمار“قرار دیا، اپنے وقت، حکمت اور ایمان کو اپنے گھروں میں سرمایہ کاری کے طور پر لگاتی ہیں، تو اس کی برکت پوری برادری کو حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے شرکاء کو ترغیب دی کہ وہ خود کو اپنے خاندانوں اور کلیسیا کے مستقبل کی محافظ سمجھیں، اور کہا کہ حقیقی قیادت بے لوث خدمت میں جڑی ہوتی ہے۔
لائف فار گارڈین فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹرمہناز جاویدنے کہا کہ ادارہ پسماندہ طبقات کی سماجی اور روحانی ترقی کے لیے لیڈرشپ ٹریننگ اور قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔انہوں اس عزم کا اعادہ کیا کہ اقلیتی خواتین کو ایسے وسائل فراہم کیے جائیں گے جو ان کی پیشہ ورانہ خواہشات اور روحانی ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم کرنے میں مدد دیں۔
سسٹر جینیویو رام لال نے سسٹرز آف چیریٹی اور پاکستان کیتھولک ویمن آرگنائزیشن (PCWO) کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی خدمت کے روحانی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اْن کی زندگی اور خدمت یسوع مسیح کی زندگی اور مقدسہ مریم کی عاجزانہ خدمت سے متاثر ہے۔ انہوں نے شرکاء کو تلقین کی کہ وہ اپنی قیادت کے سفر میں ان مقدس نمونوں سے قوت حاصل کریں۔
اس تقریب کا اختتام شرکاء کے اس عہد کے ساتھ ہوا کہ وہ تعلیم اور انجیل پر مبنی اقدار کے ذریعے اپنی ثقافتی اور مذہبی شناخت کو برقرار رکھیں گی۔