خطرات کے باوجود ڈیجیٹل دنیا میں ایمان کے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔فوقیت مآب کارڈینل لوئس انتونیو تاگلے

 مورخہ29 نومبر 2025 کو پینانگ، ملائیشیا میں عظیم زیارتِ اْمید کے موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس میں فوقیت مآب کارڈینل لوئس انتونیو تاگلے نے ڈیجیٹل دور کے امکانات، زیارت کی روحانی تسلی اور ایشیا کی کلیسیائی آواز کے عالمی اثرات پر جامع گفتگو کی۔ جس میں پورے ایشیا سے صحافی شریک تھے۔
ڈیجیٹل دور: تحفہ بھی، امتحان بھی
سوشل میڈیا، انٹرنیٹ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے کردار پر سوال کے جواب میں کارڈینل تاگلے نے کہا کہ انسانی ذہانت میں خدا کی تخلیقی روح کارفرما ہے اور یہی روح جدید ڈیجیٹل ترقی میں بھی دکھائی دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دنیا خدا کا تحفہ ہے لیکن اسے درست طریقے سے قبول کرنا ضروری ہے۔
اپنے طالب علمی کے زمانے کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 1980 کی دہائی میں وہ سال میں صرف دو بار گھر کال کرسکتے تھے۔آج ہم روزانہ کئی بار ویڈیو کال پر بات کرلیتے ہیں۔ ٹیکنالوجی نے معلومات اور تعلیم تک رسائی برابر کر دی ہے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ زیارتِ اْمید جیسے پروگرام اب عالمی طور پر جڑے ہوئے ہیں، لائیو اسٹریمز اور سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچتے ہیں۔
خطرات موجود، لیکن امکانات بھی بے شمار
کارڈینل تاگلے نے ٹیکنالوجی کے منفی رخ،جعلی شناخت، گمراہ کن معلومات، تجارتی فریب اور مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی دھوکہ دہی کی طرف بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ ان کے نام سے چار جعلی فیس بک اکاؤنٹس موجود ہیں، جن پر مختلف مصنوعات اور یہاں تک کہ پاپائی برکت بھی بیچی جا رہی ہے۔ لیکن خطرات امکانات کو ختم نہیں کرتے۔ فصل بہت زیادہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاپائے فرانسس کی وفات سے لے کر پاپائے لیو کے انتخاب تک، ایک کیتھولک انفلوئنسر کے پلیٹ فارم پر 20 لاکھ ایمان سے متعلق سوالات موصول ہوئے جو لوگوں کی گہری مذہبی لگن کو ظاہر کرتا ہے۔
اْن کا واضح پیغام تھا:میں انفلوئنسرز سے کہتا ہوں یقینی بنائیں کہ انجیل آپ کو متاثر کرے۔ ہر انفلوئنسر کسی نہ کسی چیز سے متاثر ہوتا ہے۔
زیارتِ اْمید: ایک ایسا تجربہ جو دل کو سہارا دیتا ہے۔
جب اُن سے پوچھا گیا کہ وہ عظیم زیارتِ اْمید کو ایک لفظ میں کیسے بیان کریں گے، تو انہوں نے بلا جھجھک کہا:تسلی بخش۔انہوں نے کہا کہ ملائیشیا بھر میں دْعا، موسیقی، تعلیمِ ایمان اور رفاقت کے ساتھ سفر کرنے والے ہزاروں زائرین اس تجربے کو نہ صرف روحانی تازگی بلکہ اجتماعی تسلی کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔یہ میرے لیے بڑی تسلی ہے جو زیارت کے مرکزی جذبے کا خلاصہ ہے۔
پہلی ایشیائی مشن کانگریس: ایشیا سے دنیا تک سفر کرتی ایک کہانی
2006 میں چیانگ مائی میں منعقدہ پہلی ایشیائی مشن کانگریس کے اثرات پر بات کرتے ہوئے کارڈینل نے بتایاکہ انہوں نے اس وقت”کہانی سْنانے اور ایمان“کے موضوع پر اپنی تحقیق پیش کی تھی یعنی کہانی سْنانا کس طرح سے تبلیغ کا دل ہے۔وہ ہنستے ہوئے بولے کہ انہوں نے اُس وقت کوئی پاورپوائنٹ نہیں تیار کیا تھا۔
ایم سی نے مذاق میں کہا تھا:ہمارے مقرر کے پاس پاورپوائنٹ نہیں، شاید ان کی بات میں نہ پاور ہو نہ پوائنٹ!
مگر انہی کی کہانیوں پر مبنی تقریر نے عالمی مشن شناسی میں نئی بحث چھیڑ دی۔
انہوں نے کہاکچھ لوگوں کو لگتا تھا کہ کہانی  سْنانا نظریاتی تعلیم کو کمزور کرتا ہے، مگر ہم نے دکھایا کہ یسوع خود سب سے بڑے کہانی سنانے والے تھے اور یہ طریقہ ایشیا کی ثقافت کے مطابق ہے۔
سالوں بعد روم کی ایک بڑی کیتھولک یونیورسٹی نے انہیں وہی تقریر دوبارہ پیش کرنے کو کہا۔جس پر انہوں نے کہا کہ ایشیا میں شاید یہ پرانی ہو گئی ہو، مگر ہمارے لیے نئی ہے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایشیا کا تجربہ آہستہ آہستہ پوری کلیسیاء کو متاثر کر رہا ہے۔
کارڈینل تاگلے کے پیغامات ڈیجیٹل دنیا، زیارت کے تجربے اور مشن تینوں میں ایک ہی حقیقت جھلکتی ہے: کلیسیاء اپنی روایت میں مضبوط ہے، مگر مستقبل کے لیے پوری طرح تیار بھی ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا:فصل بہت زیادہ ہے اور یسوع ہمارے ساتھ چلتا رہتا ہے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail