جکارتہ کی آرچ ڈایوسیس: ایشیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک میں پل تعمیر کرنے والی کلیسیا

 جکارتہ کی آرچ ڈایوسیس: ایشیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک میں پل تعمیر کرنے والی کلیسیا
جکارتہ کی آرچ ڈایوسیس: ایشیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک میں پل تعمیر کرنے والی کلیسیا

جکارتہ کی آرچ ڈایوسیس، ایشیا کے نمایاں کیتھولک مراکز میں سے ایک، انڈونیشیا میں کلیسیا ئی زندگی، بین المذاہب مکالمہ، سماجی ترقی اور قومی تعمیر میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔جب جکار تہ 20 تا 26 جولائی 2026 کو فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز (FABC) کی بارہویں جنرل اسمبلی کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے، تو جکارتہ کا آرچ ڈایوسیس ایشیا میں مکالمہ، ایمانی اشتراک اور تعلقات کے پل تعمیر کرنے کے کلیسیائی مشن کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آتا ہے۔
جکارتہ کی آرچ ڈایوسیس کاایشیا کی بڑی کیتھولک آرچ ڈایوسیس میں شمار ہوتا ہے۔ انڈونیشیا کے دارالحکومت میں واقع ہونے کے باعث یہ نہ صرف مقامی کلیسیا کی زندگی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے بلکہ دنیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک میں بین المذاہب ہم آہنگی، سماجی ترقی اور قومی تعمیر کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔دو صدیوں سے زائد عرصے کے دوران یہ آرچ ڈایوسیس نوآبادیاتی دور کے ایک چھوٹے مشنری علاقے سے ترقی کرتے ہوئے ایک متحرک مقامی کلیسیا بن چکا ہے، جو مکالمہ، خدمت اور یکجہتی کے ذریعے انجیل کی بشارت دینے کے اپنے مشن کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔
اس آرچ ڈایوسیس کی تاریخ کا آغاز 8 مئی 1807کو ہوتا ہے، جب پوپ پائس ہفتم نے ڈچ ایسٹ انڈیز میں مقیم کیتھولک برادری کی روحانی ضروریات پوری کرنے کے لیے”اپاسٹولک پریفیکچر آف باٹاویا“ قائم کیا۔ کلیسیا کے پھیلاؤ کے ساتھ 3 اپریل 1841کو ہولی سی نے اسے ”اپاسٹولک وکریٹ“ کا درجہ عطا کیا۔ اسی مشنری مرکز سے بعد ازاں متعدد اپاسٹولک پریفیکچرز اور وکریٹس قائم ہوئے، جو آگے چل کر پورے انڈونیشیا میں مختلف ڈایوسیسز کی بنیاد بنے۔خصوصاً جیزوٹ کاہن سمیت مختلف مذہبی جماعتوں نے اس ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے تعلیمی ادارے، ہسپتال، سیمنریز اور فلاحی مراکز قائم کیے، جو آج بھی کلیسیا کے مشن کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انڈونیشیا کی آزادی کے بعد مقامی کلیسیا ایک نئے دور میں داخل ہوئی۔0 195 میں ”اپاسٹولک وکریٹ آف باٹاویا“ کا نام تبدیل کرکے ”اپاسٹولک وکریٹ آف جکارتہ“ رکھا گیا، جو ملک کی نئی قومی شناخت کی عکاسی کرتا تھا۔ بعد ازاں 3 جنوری 1961کو پوپ جان تیسویں نے اسے ”میٹروپولیٹن آرچ ڈایوسیس آف جکارتہ“ کا درجہ عطا کیا، جبکہ بانڈونگ اور بوگورکی ڈایوسیسز کو اس کے معاون ڈایوسیسزقرار دیا گیا۔ یہ انڈونیشیا میں ایک بالغ اور مضبوط مقامی کلیسیا کے قیام کی اہم علامت تھی، جس میں مقامی قیادت مزید مستحکم ہوئی۔

 جکارتہ کی آرچ ڈایوسیس: ایشیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک میں پل تعمیر کرنے والی کلیسیا
جکارتہ کی آرچ ڈایوسیس: ایشیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک میں پل تعمیر کرنے والی کلیسیا

گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اس آرچ ڈایوسیس کی قیادت ممتاز کاہنوں نے کی، جن میں ”آرچ بشپ ایڈرینس جیاجیسیپوترا، ایس جے(جکارتہ کے پہلے انڈونیشیائی آرچ بشپ)، آرچ بشپ لیو سوکوٹو، ایس جے، کارڈینل جولیئس دارماتمادجا، ایس جے اور موجودہ آرچ بشپ کارڈینل اِگنیشیئس سوہاریو ہارجواتمودجو شامل ہیں۔ ان کی قیادت میں آرچ ڈایوسیس نے کلیسیائی تجدید، سماجی خدمت اور مختلف مذاہب و ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ مکالمہ کے اپنے عزم کو مزید مضبوط کیا۔
دنیا کے مذہبی اور ثقافتی اعتبار سے متنوع ترین معاشروں میں رہتے ہوئے، جکارتہ کا آرچ ڈایوسیس مکالمہ کو اپنے مشن کا بنیادی جزو سمجھتا ہے۔ دوسری ویٹی کن کونسل اور فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز کے وژن سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے، آرچ ڈایوسیس مذہب، نسل یا سماجی پس منظر سے بالاتر ہو کر ہر انسان کی خدمت کے ذریعے انجیل کی بشارت دیتا ہے۔یہ عزم تعلیم، صحت، سماجی خدمات، انسانی ہمدردی، فلاحی منصوبوں اور کمیونٹی کی ترقی کے وسیع شعبہ جات میں نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔
اس جذبے کی سب سے نمایاں مثال جکارتہ کیتھیڈرل اور استقلال مسجد کے درمیان قائم تعلق ہے۔ دارالحکومت کے قلب میں ایک دوسرے کے سامنے واقع یہ دونوں عبادت گاہیں بین المذاہب ہم آہنگی کی عالمی علامت بن چکی ہیں۔ ان دونوں کو ملانے والی ”فرینڈ شپ ٹنل“ اس مشترکہ عزم کی نمائندگی کرتی ہے کہ مختلف مذہبی برادریاں امن، باہمی احترام اور تعاون کے فروغ کے لیے متحد ہیں۔
ستمبر2024 میں پوپ فرانسس کے انڈونیشیا کے رسولی سفر کے دوران جکارتہ کے آرچ ڈایوسیس کی یہ گواہی عالمی سطح پر نمایاں ہوئی۔ استقلال مسجد میں پوپ فرانسس نے مسلم رہنماؤں کے ساتھ مل کر ”جوائنٹ ڈیکلریشن آف استقلال 2024“پر دستخط کیے، جس میں مختلف مذاہب کی اس مشترکہ ذمہ داری کی توثیق کی گئی کہ وہ امن، بھائی چارے اور ہماری مشترکہ زمین کی حفاظت کو فروغ دیں۔ اس تاریخی موقع نے جکارتہ کو ایشیا میں تعمیری بین المذاہب مکالمہ کی ایک اعلیٰ مثال کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔
آج جکارتہ کا آرچ ڈایوسیس جکارتہ، بیکاسی اور تانگیرانگ کے درجنوں پیرشز میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہے، جہاں سیکڑوں کاہن، مذہبی برادران و راہبات اور ہزاروں پُرعزم مومنین کلیسیا کے مشن میں شریک ہیں۔ سنڈی روح سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے آرچ ڈایوسیس تمام مومنین کی فعال شرکت کو فروغ دے رہا ہے اور غریبوں، محروموں اور ضرورت مند افراد تک اپنی خدمت کو مزید وسعت دے رہا ہے۔
کثیرالثقافتی اور کثیرالمذہبی معاشرے میں انجیل کی گواہی دینے کا یہی طویل تجربہ جکارتہ کو فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز (FABC)کی بارہویں جنرل اسمبلی کی میزبانی کے لیے ایک موزوں مقام بناتا ہے، جو 20 تا 26 جولائی 2026کومنعقد ہوگی۔”سنڈی تبدیلی اور ایشیا میں پل اور پل تعمیر کرنے والے بننے کا مشن“ کے عنوان سے منعقد ہونے والی یہ جنرل اسمبلی دراصل اسی مشن کی عکاس ہے جسے جکارتہ کی آرچ ڈایوسیس اپنی پوری تاریخ میں اپنائے ہوئے ہے،یعنی مکالمہ، خدمت اور اخوت کے ذریعے لوگوں کے درمیان تعلقات کے پل تعمیر کرنا۔انڈونیشیا کے متنوع معاشرے کے قلب میں واقع جکارتہ آج بھی اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ انجیل کی سب سے مؤثر منادی کشادہ دلی، باہمی تعاون اور عملی محبت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔