بائبل صرف پڑھنے کی نہیں بلکہ گہرائی سے تحقیق کرنے کی کتاب ہے۔جوزف مسیلمانی

نیوز رومز میں تین دہائیوں سے زیادہ وقت گزارنے کے بعد میں نے ایک مستقل سچائی سیکھی ہے: کوئی بھی خبر کبھی مکمل نہیں ہوتی۔ ایک ہی واقعے کے دس گواہوں سے بات کریں تو آپ کو دس مختلف کہانیاں ملیں گی۔
ایک کو گاڑی کا رنگ یاد رہتا ہے۔ دوسرے کو چیخ کی آواز۔ تیسرا کہتا ہے ملزم بائیں طرف بھاگا، جبکہ چوتھا قسم کھا کر کہتا ہے وہ دائیں طرف گیا۔ اور کبھی کبھار کوئی ایسا ڈرامائی واقعہ بیان کرتا ہے کہ آپ سوچنے لگتے ہیں آیا وہ واقعی اسی واقعے میں موجود بھی تھا یا نہیں۔
ایک رپورٹر کے طور پر آپ سنتے ہیں، تصدیق کرتے ہیں، غیر ضروری حصے نکالتے ہیں، جانچتے ہیں اور آخرکار انتخاب کرتے ہیں۔ انتخاب دھوکہ نہیں ہوتا بلکہ سوچ سمجھ کر ترتیب دینا ہوتا ہے۔
یہ سبق میرے ساتھ ہمیشہ رہا، خاص طور پر جب لوگ فخر سے کہتے ہیں:بائبل تضادات سے بھری ہوئی ہے۔میں عموماً مسکرا دیتا ہوں انکار میں نہیں بلکہ سمجھ بوجھ کے ساتھ، کیونکہ میں نے اپنی زندگی بیانیوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے گزاری ہے۔
یہوداہ اسکریوتی کو ہی لے لیجیے۔
انجیلِ متی میں لکھا ہے کہ یہوداہ پشیمان ہوا، تیس چاندی کے سکے واپس کیے اورجا کر پھانسی لگا لی۔جبکہ رسولوں کے اعمال کی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ منہ کے بل گرِا اور اْس کا جسم پھٹ گیا اور اس جگہ کو بعد میں ”خون کا کھیت“ کہا گیا۔ ناقدین کہتے ہیں: تضاد۔لیکن میرے اندر کا تجربہ کار صحافی کہتا ہے: زاویہِ نظر۔
اگر میں اس خبر کی رپورٹنگ کرتا، تو ایک ذرائع نے کہا ہوتا:اْس نے پھانسی لگائی۔دوسرا شاید بتاتا کہ بعد میں لاش کھیت میں کس حالت میں ملی۔ میرا کام گھبرا جانا نہیں بلکہ یہ سمجھنا ہوتا کہ اصل میں ہوا کیا اور کون سا پہلو اس بیان کے مقصد کو واضح کرتا ہے۔
متی پشیمانی اور پیشگوئی کی تکمیل پر زور دیتا ہے۔ لوقا، اعمال میں، انجام اور عوامی یادداشت پر توجہ دیتا ہے۔ زاویہ مختلف ہے مگر انجام ایک ہی المناک حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
نیوز روم میں ہم یہی کرتے ہیں۔ ایک اخبار جذباتی پہلو نمایاں کرتا ہے، دوسرا قانونی اثرات، تیسرا سیاسی نتائج۔ کیا کوئی جھوٹ بول رہا ہوتا ہے؟ نہیں۔کیا سب کی کہانیاں ایک جیسی ہوتی ہیں؟ بالکل نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مکمل یکسانیت کبھی کبھی زیادہ مشکوک لگتی ہے۔
اب تکوین کے ابتدائی ابواب پر نظر ڈالیں۔
تکوین باب 1 میں تخلیق کے چھ منظم دن بیان ہوتے ہیں؛ انسان، مرد اور عورت، چھٹے دن اکٹھے پیدا کیے جاتے ہیں۔ انداز شاندار، منظم اور عبادتی سا ہے۔ 
تکوین باب 2 میں رفتار سست ہو جاتی ہے۔ انسان مٹی سے بنایا جاتا ہے، باغ لگایا جاتا ہے، جانور اس کے سامنے لائے جاتے ہیں، اور عورت اْس کی پسلی سے بنائی جاتی ہے۔ یہاں خدا کا نام زیادہ ذاتی انداز میں آتا ہے۔
ترتیب مختلف، انداز مختلف، الفاظ بھی مختلف۔
کیا یہ تضاد ہے؟ یا ایک ہی حقیقت کو دو زاویوں سے دیکھنا؟ ایک وسیع منظر (wide angle)، دوسرا قریب سے منظر (closeup)۔
میں خود بھی ایسی تحریریں لکھ چکا ہوں پہلے قومی منظرنامہ، پھر انسانی کہانی پر فوکس۔ واقعہ ایک، کیمرے کی ترتیب مختلف۔قدیم مصنفین اس بات سے ناواقف نہیں تھے؛ وہ کہانی سنانے والے بھی تھے اور الٰہی مفہوم بیان کرنے والے بھی۔
اب یسوع کی زندگی کے اُن اٹھارہ خاموش برسوں پر غور کریں۔
ہم اْن کی پیدائش کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ بارہ برس کی عمر میں انہیں ہیکل میں علما ء کو حیران کرتے دیکھتے ہیں۔پھر خاموشی۔ تقریباً تیس سال کی عمر تک۔جیسا کہ توقع کی جا سکتی ہے، قیاس آرائیوں نے اْس خلا کو بھرنے کی کوشش کی ہے۔
نہیں، اس بات کا کوئی قابلِ اعتماد ثبوت نہیں کہ یسوع خفیہ طور پر ہندوستان گئے اور یوگیوں سے مراقبہ سیکھا۔ اگرچہ یہ نظریہ رات گئے بننے والی ڈاکیومنٹریز کے لیے ضرور دلچسپ ہے۔
ایک چینی تاؤ مت کے دوست نے سنجیدگی سے مجھے بتایا کہ یسوع یقیناً مشرق بعید گئے ہوں گے تاکہ شاولین خانقاہوں سے چی گونگ طرز کی شفائی تعلیم حاصل کریں اور پھر اپنی خدمت شروع کرنے واپس آئے ہوں۔یہ سچ ہو یا نہ ہو، مگر یہ دکھاتا ہے کہ ہر ثقافت خاموش جگہوں کو اپنی تخیل، معنی اور کبھی مزاح سے بھر دیتی ہے۔
مقدس لوقا ہمیں صرف ایک جملہ دیتا ہے:
اور یسوع حکمت اور قد میں بڑھتا گیا اور خدا اور انسان دونوں کی نظر میں مقبول ہوتا گیا، جبکہ یوسف اور مریم کے ساتھ رہتا رہا۔
بطور مصنف، میں اختصار کو سمجھتا ہوں۔ میں نے دو ہزار الفاظ کے انٹرویوز کو چھ سو الفاظ میں سمیٹا ہے بغیر اصل پیغام کھوئے۔ میں نے طویل سیاسی تقاریر کو تین پیراگراف میں خلاصہ کیا ہے۔
جو چھوڑ دیا گیا، وہ لازماً غیر اہم نہیں تھا؛ بس وہ اس کہانی کے مرکزی مقصد کا حصہ نہیں تھا۔
اتنے برسوں بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں: بائبل کو صرف پڑھنا کافی نہیں، اْسے مطالعہ کرنا چاہیے، رہنمائی، تفسیر اور تشریح کے ساتھ، بالکل اسی طرح جیسے ایک صحافی صرف ایک ذریعے پر انحصار نہیں کرتا۔
آپ ایک گواہی پڑھ کر پورا مقدمہ طے نہیں کرتے۔ آپ حوالہ جات ملاتے ہیں، ماہرین سے مشورہ کرتے ہیں، سیاق و سباق دیکھتے ہیں۔
پھر صحیفہ کو اس سے کم سنجیدگی سے کیوں پڑھا جائے؟کچھ مقامات پیچیدہ رہتے ہیں۔ کچھ آیات تاریخی پس منظر، لسانی باریکی اور ثقافتی سمجھ کا تقاضا کرتی ہیں۔تناؤ اور اختلاف کہانی کا حصہ ہیں، اس کی کمزوری نہیں۔
بائبل آسمان سے لفظ بہ لفظ اْترا ہوا عدالتی ریکارڈ نہیں؛ یہ گواہیوں، شاعری، قانون، نبوت، نوحہ، نسب ناموں اور داستانوں کی ایک لائبریری ہے۔ انسانی ہاتھوں سے لکھی گئی جو الٰہی ملاقات کے تجربے سے گزری، اور یقیناً خدا کی روح سے متاثر ہے۔
صحافت کے برسوں نے مجھے تہہ دار سچائی کا احترام سکھایا ہے۔ یادداشت منتخب ہوتی ہے۔ بیانیہ مقصد رکھتا ہے۔ زاویہِ بیان ناگزیر ہوتا ہے۔
جب میں یہوداہ، ساؤل، تخلیق کی کہانیوں، داؤد کی مردم شماری یا ناصرت کے خاموش برسوں کے بارے میں پڑھتا ہوں تو اختلاف مجھے خوفزدہ نہیں کرتا؛ بلکہ مجھے زیادہ غور سے پڑھنے کی دعوت دیتا ہے۔ ان وقفوں، خاموشیوں اور سطور کے درمیان موجود جگہوں میں، جہاں اصل غور و فکر جنم لیتا ہے۔
نیوز روم میں ہم کہا کرتے تھے:
”خبر درست لکھو، مگر یاد رکھو، کوئی خبر مکمل نہیں ہوتی۔“
یوحنا کی انجیل بھی اسی طرح ختم ہوتی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ یسوع نے اور بھی بہت سے کام کیے اور اگر سب لکھے جاتے تو شاید دنیا خود اُن کتابوں کو سمیٹ نہ پاتی۔
یہ مبالغہ آمیز گواہی ہے، مگر یاد دہانی بھی،کہ چاہے صحیفہ ہو یا صحافت، مکمل حقیقت کا صرف ایک حصہ ہی بیان کیا جا سکتا ہے۔
اصل مقصد ہر تفصیل جمع کرنا نہیں بلکہ بنیادی سچائی کو سمجھنا ہے۔ حاشیے کی سرگوشی، کہانی کے پیچھے اشارہ، انسانی ہاتھ جو ایک الٰہی داستان کو قلم بند کر رہا ہے۔اور کبھی کبھی، جیسا کہ ہر صحافی اور ہر قاری آخرکار سیکھتا ہے، اہم وہ نہیں جو ہم سب گن سکتے ہیں، بلکہ وہ ہے جو ہمارے دل کو چھو جائے۔بائبل صرف پڑھنے کی نہیں بلکہ گہرائی سے تحقیق کرنے کی کتاب ہے۔
یہ ایک مکالمے کی طرح جینے، حیرت کے ساتھ سوال کرنے، صبر، مزاح اور عاجزی کے ساتھ اس کا ذائقہ لینے کی دعوت دیتی ہے جیسے روح کے لیے گرم مرغی کے سوپ کا پیالہ: جو ذہن کو غذا دیتا،دل کو گرماتا، اور یاد دلاتا ہے کہ ایمان، اچھی کہانی کی طرح، جتنا غور سے سمجھا جائے اتنا ہی گہرا اور خوبصورت ہو جاتا ہے۔
جوزف مسیلمانی

Daily Program

Livesteam thumbnail