ایف اے بی سی جنرل اسمبلی میں ایشیا کے لیے سنڈیلٹی رہنما کتابچہ کی تیاری کا آغاز
سنڈیلٹی پر کئی روز کی روحانی اور الٰہیاتی غور و فکر کے بعد فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کی12ویں جنرل اسمبلی میں شریک بشپ صاحبان اور شرکاء نے 25 جولائی کو سنڈیلٹی کے عملی نفاذ کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایشیا کی مقامی کلیسیاؤں کے لیے ایک رہنما کتابچہ تیار کرنے کے عمل کا آغاز کر دیا۔اس مجوزہ رہنما کتابچہ کو ”ایشیا میں سنڈیلٹی کے لیے رہنما کتابچہ“ کہا جا رہا ہے، جس کا مقصد ایشیا بھر کی مقامی کلیسیاؤں کو سنڈ برائے سنڈیلٹی کے وژن کو اپنی پاسبانی زندگی اور مشن میں عملی طور پر نافذ کرنے کے لیے واضح اور قابلِ عمل رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
دن کے پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے اجلاس کے پریزائیڈنگ آفیسر اور ڈھاکہ، بنگلہ دیش کے آرچ بشپ بے جوی این ڈی کروزنے کہا کہ گزشتہ روز سنڈ آف بشپس کے سیکریٹری جنرل کارڈینل ماریو گریچ اور فادر جیاکومو کوستا کی گفتگو سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ سنڈی کلیسیا کی بنیاد ذاتی تبدیلی پر ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں سنڈی کلیسیا تعمیر کرنی اور پْل بنانے والے بننا ہے تو ہماری اپنی تبدیلی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔آرچ بشپ بے جوی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سنڈیلٹی صرف ڈھانچوں یا طریقہ کار کا نام نہیں بلکہ کلیسیائی رفاقت کو روزمرہ زندگی میں عملی طور پر نمایاں کرنے کا نام ہے۔دن کے اجلاس میں شرکاء کو ایشیا کی کلیسیاؤں میں روح القدس کی رہنمائی کو سننے اور اسے دو اہم دستاویزات میں ڈھالنے کی دعوت دی گئی۔ ان میں ایشیا کے خدا کے لوگوں کے لیے ایک پاسبانی پیغام اور ایک رہنما کتابچہ شامل ہے، جس کا مقصد ڈایوسیس کو زیادہ سنڈی، مشنری اور رحم دل کلیسیا بننے میں مدد دینا ہے۔
اس عمل کا آغاز انجیل کے عمواس کے واقعہ سے متاثر ایک روحانی تجربہ سے کیا گیا۔ ڈاکٹر کرسٹینا کینگ نے شرکاء کو پہلے خاموشی میں ذاتی غور و فکر کی دعوت دی، جس کے بعد شرکاء نے اپنی اہم بصیرتیں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیں اور میز پر ہونے والی گفتگو میں حصہ لیا۔اس بار گفتگو کا مرکز مختلف مقامی کلیسیاؤں کے تجربات بیان کرنے کی بجائے پورے ایشیا کی کلیسیا کے لیے ایک مشترکہ پاسبانی رہنما تیار کرنا تھا۔ہر گروپ سے یہ سوال سامنے رکھا گیا کہ ایسے کون سے اہم موضوعات، ترجیحات اور عملی رہنمائی اس رہنما کتابچہ میں شامل ہونی چاہیے جو ہر مقامی کلیسیا کو گہری تبدیلی کی جانب بڑھنے اور ایک مشنری سنڈی کلیسیا کے طور پر عظیم تر حقیقتوں کو دیکھنے میں مدد دے۔
شرکاء کو دعوت دی گئی کہ وہ ایشیا بھر کے بشپ صاحبان کے لیے ایک رہنما کتابچہ تیار کرنے کا تصور کریں۔ اس کا مقصد تمام کلیسیاؤں کے لیے ایک ہی حل پیش کرنا نہیں بلکہ ایسی عملی رہنمائی فراہم کرنا ہے جس کے ذریعہ ہر ڈایوسیس اپنے مخصوص پاسبانی حالات کے مطابق سنڈ کی حتمی دستاویز پر عمل درآمد کر سکے۔منتظمین کے مطابق یہ رہنما کتابچہ محض ایک نظریاتی دستاویز نہیں ہوگا بلکہ مقامی کلیسیاؤں میں سنڈیلٹی کو عملی زندگی کا حصہ بنانے کے لیے ایک مؤثر پاسبانی وسیلہ ہوگا۔شرکاء نے اپنی تجاویز تحریری طور پر پیش کیں، جنہیں رہنما کتابچہ کے ابتدائی مسودے کی بنیاد بنایا جائے گا۔ توقع ہے کہ یہ دستاویز ایشیا کی ڈایوسیس کے لیے ایک پاسبانی معاون کے طور پر کام کرے گی جب وہ سنڈ برائے سنڈیلٹی پر عمل درآمد کا سفر جاری رکھیں گی۔
اجلاس کے ایجنڈے میں ایف اے بی سی کے دستور میں ترامیم، بشپ صاحبان کے درمیان علاقائی مشاورت اور ایشیا کے خدا کے لوگوں کے لیے اجلاس کے حتمی پیغام کی تیاری بھی شامل رہی۔سنڈیلٹی کے اس عملی رہنما کی تیاری کا آغاز دعا، خاموشی، ذاتی غور و فکر اور اجتماعی روحانی امتیاز سے کرتے ہوئے ایف اے بی سی کے اجلاس نے ایک بنیادی حقیقت کو اجاگر کیا کہ سنڈیلٹی صرف دستاویزات تیار کرنے کا نام نہیں بلکہ مل کر روح القدس کی آواز سننے اور ایشیا کی کلیسیا کی روزمرہ زندگی اور مشن میں عملی شکل دینے کا نام ہے۔