ایف اے بی سی جنرل اسمبلی سے قبل سری لنکا میں ”پْل تعمیر کرنے“ کے کلیسیائی مشن پر غور
جوں جوں ایشیا کی کیتھولک کلیسیا 20 تا 26 جولائی 2026 کو انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں منعقد ہونے والی فیڈریشن آف ایشین بشپ کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی کی تیاری کر رہی ہے، سری لنکا کی کلیسیا اس اسمبلی کے مرکزی موضوع”سنڈی تبدیلی کی دعوت اور ایشیا میں پْل اور پْل تعمیر کرنے والے بننے کا مشن“ پر ایک منفرد اور عملی نقطہ نظر پیش کر رہی ہے۔سری لنکا، جہاں بدھ مت کے ماننے والے اکثریت میں ہیں جبکہ ہندو، مسلمان اور مسیحی برادریاں بھی آباد ہیں، وہاں ”پل تعمیر کرنا“ صرف مختلف مذاہب کے درمیان تعلقات استوار کرنے کا نام نہیں بلکہ کلیسیا کے اندر اتحاد و یگانگت کو مضبوط بنانے کا عمل بھی ہے۔ کلیسیا ایک طرف اپنے ماننے والوں میں اشتراک کو فروغ دینے کی کوشش کرتی ہے اور دوسری جانب دیگر مسیحی کلیسیاؤں اور مختلف مذہبی روایات کے ساتھ مکالمہ اور تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
سری لنکا میں بین المذاہب اور بین الکلیسیائی مکالمے کی ایک طویل روایت موجود ہے۔ 1980 اور 1990کی دہائی میں مرحوم جیزوٹ ماہرِ الٰہیات فادر الویشیئس پیریس، ایس جے کی کاوشوں سے اس تحریک کو نئی قوت ملی۔ آج کاریتاس سری لنکا (SEDEC)، سینٹر فار سوسائٹی اینڈ ریلیجن (CSR)، مارادانا، اور بشپ جوڈ نیشانتھا سلواکی سربراہی میں ایپسکوپل کمیشن برائے بین الکلیسیائی و بین المذاہب مکالمہ اس مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔تاہم، ایسے ملک میں جہاں مذہب اور قومی شناخت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، پْل تعمیر کرنا ہمیشہ آسان نہیں رہا۔ بعض قوم پرست حلقے مسیحی برادری کو مغربی اثر و رسوخ کی نمائندہ قرار دیتے رہے ہیں، جس کے باعث بین المذاہب روابط ایک حساس معاملہ بن جاتے ہیں۔
اس کے باوجود کئی کیتھولک شخصیات مکالمہ اور ہم آہنگی کی روشن مثال بن چکی ہیں۔ اوبلیٹ مشنری فادر مائیکل روڈریگو نے بٹالا کے بدھ مت اکثریتی علاقوں میں خدمت انجام دی اور 1987 میں یوخرستی عبادت کے دوران قتل کر دیے گئے۔ اسی طرح اوبلیٹ راہب فادر مارسلین جیاکوڈی نے سری لنکن ثقافت اور بدھ مسیحی ہم آہنگی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا، جس کے اعتراف میں انہیں ”رامون میگسیسے“ ایوارڈ سے نوازا گیا۔کیتھولک تعلیمی اداروں نے بھی سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان اداروں میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ ایک ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں، جس سے ایسی قیادت پروان چڑھی جو باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کی حامی ہے۔
21 اپریل 2019 کو ایسٹر سنڈے کے دہشت گرد حملوں کے بعد، جب انتقامی کارروائیوں کا خدشہ بڑھ گیا تھا، کولمبو کے آرچ بشپ کارڈینل میلکم رنجیت نے دیگر کاہنوں اور عام مومنین کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر عوام سے صبر، تحمل اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ ان کی بروقت قیادت نے بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے اور مسلم برادری کے ساتھ تعلقات کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مقامی سطح پر بدولا، گالے، انورادھاپورا اور کینڈی جیسے ڈایوسیز میں، جہاں کیتھولک اقلیت میں ہیں، بشپ اور کاہن بدھ، ہندو اور مسلم مذہبی رہنماؤں کے ساتھ خوشگوار تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم کلیسیائی رہنما تسلیم کرتے ہیں کہ ان تعلقات کو عوامی سطح پر موثر تعاون میں تبدیل کرنا اب بھی ایک چیلنج ہے۔ ان کے مطابق حقیقی پْل سازی سیاسی مفادات یا علامتی اقدامات کے بجائے مشترکہ روحانی اقدار پر مبنی ہونی چاہیے۔اْمید کی جا رہی ہے کہ ایف اے بی سی کی آئندہ جنرل اسمبلی مقامی کلیسیاؤں کو معاشرے کے ساتھ مکالمے کے ساتھ ساتھ سنڈی طرزِ زندگی کو مزید مضبوط بنانے کی ترغیب دے گی۔
اسی موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر سسٹر رسیکا پیریس نے کہا کہ ایک سنڈی لیسیا ایسی کلیسیا ہے جو سب کو ساتھ لے کر چلتی ہے اور جس میں ہر بپتسمہ یافتہ شخص کلیسیا کے مشن میں برابر کی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مکالمہ، ایک دوسرے کو سننا اور پْل تعمیر کرنا خاص طور پر خواتین کی موثر شمولیت کے لیے ناگزیر ہیں۔
دوسری جانب،یونیورسٹی آف کیلانیاکے عام مومن ماہرِ الٰہیات پروفیسر شرلی لال وجے سنگھے کا کہنا ہے کہ سنڈی کلیسیا کے قیام کے لیے عملی اصلاحات ضروری ہیں۔ انہوں نے فعال پیرش،تربیت یافتہ عام مومنین کی زیادہ شمولیت، جدید کیٹی کیٹیکل پروگرام، فیصلہ سازی میں عوامی شرکت، مالی شفافیت اور عمارتوں کی بجائے انسانوں پر سرمایہ کاری کو ترجیح دینے پر زور دیا۔
جب ایشیا بھر کے بشپ جکارتہ میں منعقد ہونے والی ایف اے بی سی کی 12ویں جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے جمع ہونے کی تیاری کر رہے ہیں، سری لنکا کا تجربہ اس حقیقت کو اْجاگر کرتا ہے کہ پْل تعمیر کرنے والی کلیسیا بننے کے سفر میں بے شمار مواقع بھی موجود ہیں اور چیلنجز بھی۔ یہ مشن نہ صرف کلیسیا کے اندر اتحاد کو مضبوط کرتا ہے بلکہ ایشیا کے متنوع مذہبی اور ثقافتی معاشروں میں امن، مکالمہ اور باہمی اعتماد کو بھی فروغ دیتا ہے۔