آن لائن مصروف رہیں ورنہ غیر اہم ہو جائیں گے۔نیکولس لِم ڈائریکٹر آف سوشل کمیونیکیشنز
مورخہ 28نومبر2025 کو نیکولس لِم سنگاپور کے معروف کمیونیکیشن ایکسپرٹ اور آرچ ڈایوسیز آف سنگاپور کے ڈائریکٹر آف سوشل کمیونیکیشنز، نے خبردار کرتے ہوئے ایشیا کی کلیسیا کو دعوت دی کہ وہ وزارت میں ڈیجیٹل کمیونیکیشن ٹولز کا مؤثر استعمال کرے۔لِم نے ”ایشیا میں انجیل کی تبلیغ میں ڈیجیٹل میڈیا اور اے آئی کی اہمیت“کے عنوان سے ایک امپیکٹ سیشن کی قیادت کی۔ اس نشست میں ایشیا بھر سے تعلق رکھنے والے 200 سے زائد شرکاء بشمول بشپس،کاہن، راہبات، مذہبی رہنما، عام لیڈر اور کمیونیکیشن ورکرز نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔
لِم کے سیشن میں ایشیا میں اْبھرتے ہوئے ڈیجیٹل رجحانات، کلیسیا کی ضروری پاسٹرل تبدیلی میں اے آئی کا کرداراور اْس حقیقت کا جائزہ لیا گیا کیونکہ ایشیا دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل آبادی ہے۔ انہوں نے کلیسیا کو دعوت دی کہ وہ محض ”انٹرنیٹ استعمال کرنے“کے بجائے ڈیجیٹل دنیا میں سکونت اختیار کرے اور اسے پاسٹرل میدان اور ایمان کی زندگی کی توسیع کے طور پر دیکھے۔
نکولس لِم نے بتایا کہ ایشیا موبائل فرسٹ سپر پاورہے۔جہاں 97 فیصد انٹرنیٹ صارفین بنیادی طور پر اسمارٹ فون کے ذریعے مواد تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور 2.5 ارب سے زائد افراد آج آن لائن ہیں۔ جو دس سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔
انہوں نے نشان دہی کی کہ اب سوال یہ نہیں کہ کلیسیا کو آن لائن ہونا چاہیے یا نہیں، بلکہ کیسے ہونا چاہیے؟
انہوں نے ڈایوسیز کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے ڈیجیٹل حالات کا ایماندارانہ جائزہ لیں:
کون سے پلیٹ فارم لوگ واقعی استعمال کرتے ہیں؟
ہم کس تک پہنچ رہے ہیں اور کس تک نہیں؟
کیا پاسٹرل کمیونیکیشن مربوط ہے یا منتشر؟
اے آئی۔۔۔خادم، مالک نہیں
لِم نے زور دیا کہ اے آئی کو انسان کی رہنمائی میں کام کرنا چاہیے، نہ کہ انسانی روحانی دیکھ بھال کی جگہ لے لینی چاہیے۔ انہوں نے اخلاقی خطرات کی نشاندہی کی:
ہمدردی اور روحانی گہرائی کی کمی
غلط اور گمراہ کن مواد کی تیاری کا امکان
سیکولر تعصبات جو مذہبی مواد پر اثر انداز ہو سکتے ہیں
انہوں نے تجویز دی کہ کلیسیا مستند کیتھولک آن لائن نالج بیس تیار کرے تاکہ اے آئی سسٹمز درست مراجع سے رہنمائی لیں۔ انہوں نے Magisterium AI جیسے ٹولز کی مثال دی جو کلیسیائی دستاویزات پر مبنی ہیں اور ذمہ دارانہ استعمال کے ساتھ تحقیق کا وقت بچا سکتے ہیں۔
سنگاپور بطور ماڈل
سیشن کا سب سے متاثر کن حصہ سنگاپور کے آرچ ڈایوسیز کے ڈیجیٹل ایکوسسٹم کا کیس اسٹڈی تھا۔ صرف 3,95,000 کیتھولک آبادی کے باوجود، ان کی ڈیجیٹل رسائی حیران کن ہے۔
لِم نے بتایا کہ 2014 میں CatholicSG نے صرف چند ہزار فالوورز کے ساتھ دوبارہ آغاز کیا۔آج 27 ڈیجیٹل چینلز،570 سبسکرپشن اسٹریمز،ویب سائٹس، سوشل میڈیا، میسیجنگ ایپس، ویڈیو پلیٹ فارمز، پوڈکاسٹ اور موبائل ایپ پر فعال موجودگی۔صرف 2024 میں 8,000 سے زائد ڈیجیٹل مواد تیار کیے گئے، جنہوں نے 36.7 ملین ویوز حاصل کیے جو سنگاپور کی کیتھولک آبادی سے تقریباً 100 گنا زیادہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کس طرح آرچ بشپ کے ایک واحد پروگرام کو لمبی ویڈیوز،ٹک ٹاک کلپس، مضامین،پوڈکاسٹ،پیرش کے مباحثاتی موادمیں تبدیل کرکے اس کی رسائی کئی گنا بڑھادی جاتی ہے۔
سنگاپور کی کامیابی کی بنیاد
• مسلسل اسٹریٹجک پلاننگ
• پیشہ ور افراد اور تربیت یافتہ رضاکار
• پیرش اور وزارتوں کا تعاون
• آرچ بشپ کے پاسٹرل وژن سے ہم آہنگی
• سالانہ جائزہ اور ضروری تبدیلیاں
لِم نے دیگر ڈایوسیز کو تنبیہ کی کہ بے ربط یا وقتی کوششوں پر نہ چلیں بلکہ مربوط ڈیجیٹل حکمتِ عملی بنائیں۔
کلیسیا کی ڈیجیٹل ذمہ داری۔۔۔ وہاں موجود رہیں جہاں لوگ ہیں۔
لِم نے آخر میں تاکید کی کہ ڈیجیٹل دنیا آج انسانی شناخت خصوصاً نوجوانوں کے لیے بنیادی حصہ ہے۔ کلیسیا کو اس دنیا میں محض مہمان نہیں بلکہ مسلسل رہائشی بننا ہوگا۔کمیونیکیشن پر سرمایہ کاری اور مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم کوئی عیاشی نہیں بلکہ ضرورت ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ٹیکنالوجی اصل مقصد نہیں بلکہ اصل مقصد لوگوں کو ڈیجیٹل ملاقاتوں سے لے کر کلیسیا کی ساکرامنٹل زندگی میں شامل کرنا ہے۔
سیشن کا اختتام اس دْعا پر ہوا کہ ایشیا کے کیتھولک تخلیقی، باہمت، سمجھ بوجھ رکھنے والے، باہمی تعاون پر مبنی، مسیح میں جڑے ہوئے اور ڈیجیٹل دنیا میں روشن موجودگی بن سکیں۔