مقدس پطرس کی طرح اْلجھن میں بھی خداوند سے مکالمہ جاری رکھیں۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 30اگست 2026کوکاسٹیل گاندولفو میں پاپائے اعظم لیو چہار دہم نے مومنین کو تاکید کی کہ ہمیں بھی مقدس پطرس کی طرح ”عاجزی سے یسوع کو وہ سب کچھ بتانا چاہیے جو ہم حقیقت میں محسوس کرتے ہیں، یہاں تک کہ جب ہمارے دل اْلجھن کا شکار ہوں۔“اپنی ایمانی زندگی اور دْعا میں ہمیں مقدس پطرس جیسی سچائی اور خلوص اختیار کرنا چاہیے۔پوپ لیو نے تسلیم کیا کہ خداوند کی یہ بات اُس تصور سے بالکل مختلف تھی جو شاگردوں کے ذہن میں ایک فاتح اور طاقتور مسیحا کے بارے میں تھا، جس کی مدد سے وہ اپنے دشمنوں کو شکست دینے کی توقع رکھتے تھے۔مقدس پطرس نے بھی اس بات پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ وہ حیران اور مایوس ہوئے اور یسوع کو سمجھاتے ہوئے کہا:”خدا نہ کرے، خداوند! یہ آپ کے ساتھ ہرگز نہ ہو۔“
پوپ لیو نے کہا کہ یہ واقعہ ہمیں انسانی فطرت کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے بھی یہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا کہ ہم خدا کی راہوں کو سمجھ سکیں اور انہیں قبول کریں، خاص طور پر اُس وقت جب وہ ہماری اپنی راہوں اور توقعات سے بہت مختلف ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں ایمانی منطق کے برخلاف یہ آزمائش پیدا ہوتی ہے کہ ہم یہ سوچنے لگتے ہیں کہ غلطی خداوند کی ہے یا اس سے بھی بدتر یہ کہ وہ ہماری نہیں سن رہا یا اسے ہماری کوئی فکر نہیں۔اس غیر یقینی صورتِ حال کے بارے میں پوپ لیو نے کہا کہ مقدس پطرس، اپنی عجلت پسندی کے باوجود، ہمیں دو اہم باتیں سکھاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پہلی بات یہ ہے کہ ایسے لمحات میں بھی خداوند کے ساتھ اپنا مکالمہ کبھی ختم نہ کریں۔اس کے بجائے، انہوں نے کہاکہ ہمیں پورے اعتماد کے ساتھ اپنی مشکل خداوند کے سامنے بیان کرنی چاہیے اور اسے بتانا چاہیے کہ جو کچھ وہ ہم سے مانگ رہا ہے، اسے سمجھنا ہمارے لیے کیوں مشکل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ خدا کے کاموں پر کبھی فیصلہ صادر نہ کریں، بلکہ عاجزی اور دْعا کے ساتھ سنیں کہ وہ اپنے اعمال کے ذریعے ہم پر کیا ظاہر کر رہا ہے، یہاں تک کہ جب وہ ہماری توقعات کے مطابق نہ ہوں۔
پوپ لیو نے کہا کہ رسولوں میں پہلے رسول مقدس پطرس کی عظمت بھی اسی حقیقت سے ظاہر ہوتی ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ یسوع نے پطرس سے کہا اے شیطان، میرے سے پیچھے ہٹ!اور پھر انہیں اور دوسرے شاگردوں کو سمجھایا کہ اگر وہ یسوع کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے آپ سے انکار کرنا، اپنی صلیب اْٹھانا اور اُس کی پیروی کرنا ہوگی۔
پوپ لیو نے مومنین کو دعوت دی کہ وہ خداوند سے دْعا کریں تاکہ ہم بھی اپنی ایمانی اور ر دْعائیہ زندگی میں پطرس جیسی سچائی اور خلوص اختیار کریں نیز ہم میں پطرس جیسی فرمانبرداری اور آمادگی بھی پیدا کر تاکہ ہم اُن باتوں کو قبول کر سکیں جو یسوع ہماری توقعات سے بڑھ کر ہم سے چاہتے ہیں۔
پوپ لیو نے اپنی گفتگو کا اختتام اس دْعا کے ساتھ کیا کہ مبارک کنواری مقدس مریم، جو اپنے بیٹے یسوع کی صلیب کے دامن تک خدا کے منصوبوں کی فرمانبردار رہیں، اپنی سفارشات کے ذریعے ہماری مدد کریں۔
